Skip to main content

Posts

Showing posts from December, 2021

قائد اعظمؒ کی زندگی کے چند اہم واقعات

دنيا ميں چند ہی لوگ ايسے ہيں جنہوں نے تاريخ کا رخ موڑا ہے اور صرف چند ہی لوگ ايسے ہيں جو دنيا کے نقشے ميں تبديليوں کا موجب بنے۔ اور بمشکل ہی کوئی ايسا ہے جس کو ايک قومی رياست کے قيام کا کريڈٹ ديا جاسکتا ہے۔ ليکن قائداعظم محمد علی جناحؒ ايسے شخص تھے جنہوں نے يہ تينوں کام کيے تحريک پاکستان کا بغور مطالعہ کرنے والوں کی يہ سوچی سمجھی رائے ہے کہ محمد علی جناح کے بغير پاکستان کا قيام ممکن نہيں تھا۔ ہمارا قائد وہ عظيم ليڈر کہ جسے بستر مرگ پر بھی اپنے مشن کے تکميل کی فکر ہوتی تھی۔بابائے قوم نے اپنی جان ليوا بيماری کو ہندوؤں اور انگريزوں سے چھپا کے رکھا کيونکہ انکی اس بيماری کی خبر کی ذرا بھی انہيں بھنک پڑ جاتی تو پاکستان کا قيام کھٹائی ميں پڑ جاتا۔ يہی وجہ ہے کہ قائداعظم محمد علی جناح کے اس راز کو بيسويں صدی کا بہترين سياسی راز کہا جاتا ہے ۔پاکستان کا خواب ديکھنے والے علامہ محمد اقبال سے جب يہ دريافت کيا گيا کہ وہ محمد علی جناح کی قيادت پر کيوں اصرار کرتے ہيں تو انہوں نے ايک ايسا جواب ديا جو سچائی اور حقيقت پر مبنی تھا۔ علامہ اقبال نے فرمايا کہ جناح وہ شخص ہے جسے نہ تو خريدا جا سکتا ہے اور نہ ...

‏اپنے اندر کی ہوا نکال دیں خوش رہیں گے

ایک سکول بس تفریحی دورے پر جاتے ہوئے راستے میں ایک سرنگ میں پھنس گئی سرنگ کے دہانے پر پانچ میٹر اونچائی لکھی تھی  ڈرائیور نے نہیں روکا کیونکہ بس کی اونچائی بھی پانچ میٹر تھی  بس سرنگ کی چھت سے رگڑ کر درمیان میں پھنس گئی‏جس سے بچے خوف و ہراس میں مبتلا ہوگئے  بس ڈرائیور کہنے لگا  ہر سال میں بغیر کسی پریشانی کے سرنگ عبور کرتا ہوں، مگر اب کیا ہوا؟  ایک آدمی نے بس کو کھینچنے کے لیے ایک مضبوط کرین لانے کا مشورہ دیا  کچھ نے سرنگ کی چھت کھود کر توڑنے کا مشورہ دیا  ان مختلف تجاویز کے درمیان ایک بچہ👇‏ بس سے اترا اور کہا:  میرے پاس حل ہے!  اس نے کہا: ایک ٹیچر  نےہمیں سبق دیا تھا کہ ہمیں اپنے اندر سے  غرور، تکبر، نفرت، خود غرضی اور لالچ کو نکال دینا چاہیے جن کی وجہ سے ہم لوگوں کے سامنے پھولے ہوئے ہوتے ہیں  اگر ہم ان الفاظ کو بس پر لگا دیں اور اس کے ٹائروں سے تھوڑی سی ہوا 👇‏ نکال دیں تو وہ سرنگ  کی چھت سے نیچے آجائےگی اور ہم بحفاظت گزر جائیں گے   بچے کےمشورے کے مطابق بس کے ٹائروں سے ہوا کا دباؤ کم کیا گیا  تو بس سرنگ کی چھت...

*پریانتھاکی لاش اوراسلام کی جلتی ہوٸی روح*

Sialkot Incident     پریانتھا کمارا سری لنکن شہری تھاجو 2010میں پاکستان آیافیصل آباد اور لاہورکی گامنٹس فیکٹریوں میں کام کرتا رہا جواب مسلسل ۹ سال سے سیالکوٹ میں راجکو فیکٹری میں General Manager(GM) کے فرائض سرانجام دے رہا تھا وہ اصولوں کا پکا اور ایماندار اور وقت کا پابندشخص تھا وہ اپنے ماتحت کام کرنے والے ملازمین کو بھی وقت کی پابندی کی تلقین کرتا رہتا تھا کام پر زیادہ دیر سے آنے کی وجہ سے وقت کے حساب سے ملازمین کی تنخواہ میں کٹوتی بھی کرتا تھا یہی چند خاص وجوہات تھیں جس بناپرمالک اسے پسند کرتے تھے اور ورکرز اسے ناپسند کرتے تھے دیر سے آناحیلے بہانوں سے وقت ضائع کرنا اور وقت سے پہلے گھر کے لیے نکلنا تو کوئی ہم پاکستانیوں سے سیکھے جس کا بہترین حل جمعہ اور نماز کے اوقات تھے پریانتھا نماز اور جمعہ کے اوقات کی مخصوص وقت کی بریک دیتا تھامگر ہمارا مسلہ نماز اور جمعہ نہیں بلکہ فرقہ تھا ہر فرد اپنے فرقے کی مسجد میں نماز اور جمعہ پڑھنا چاہتاتھا مختلف اوقات ہونے کی بنا پر زیادہ وقت استعمال ہوتا تھا جو کہ غیر مناسب بات تھی مگر پریانتھا چونکہ غیر مسلم تھا اس لیے ہمیں اپنی اجتماعی غلطی بھ...

Sir Alexander Fleming

 جب الیگزنڈر فلیمنگ نے پنسلین کی ایجاد کی تو دوا ساز کمپنیوں نے اُسے 10 فیصد رائلٹی کی پیشکش کی جو اُس نے کم سمجھ کر قبول نہ کی اُس کا خیال تھا کہ سارا کام تو اُس نے کیا جبکہ کمپنی اُسے فقط 10 فیصد پر ٹرخا نے کی کوشش کر رہی تھی تاہم جب الیگزنڈر فلیمنگ نے 10 فیصد رائلٹی کا تخمینہ لگوایا گیا تو پتہ چلا کہ وہ لاکھوں پاؤنڈ ماہانہ بنتے تھے ۔ اُس نے سوچا کہ اتنی رقم کو وہ کہاں سنبھال کر رکھے گا ۔ اس سلسہ میں اپنی نااہلی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اُس نے پنسلین کا نسخہ ایک فیصد رائلٹی کے عوض دوا ساز کمپنی کو اس شرط پر دینے کا فیصلہ کیا کہ معاہدے کی تمام شِقیں الیگزنڈر فلیمنگ کی منشا کے مطابق ہوں گی ۔کمپنی نے یہ بات مان لی تاہم جب الیگزینڈر فلیمنگ شرطیں ٹائپ کرنے کے لئے بیٹھا تو اُسے لگا کہ ایک فیصد رائلٹی بھی اتنی زیادہ بن رہی تھی کہ وہ ساری عمر ختم نہ ہوتی جبکہ اس کی خواہش سوائے سیر و سیاحت اور تحقیق کے اور کچھ نہیں تھی ۔ یہ سوچ کر الیگزنڈر فلیمنگ نے آدھی رات کے وقت ایک معاہدہ ٹائپ کیا اور لکھا ”میری یہ دریافت میری ذاتی ملکیت نہیں ۔ یہ ایک عطیہ ہے جو مجھے امانت  کے طور پر ملا ہے ۔ اس دری...

حق دو گوادر کو

بحیرہ عرب کے کنارے پاکستان کا ساحلی شہر گوادر جو موجودہ معاشی دوڑ میں عالمی دنیا بلخصوص براعظم  ایشیاء میں اپنی جغرافیائی پوزیشن کی وجہ سے خاصی اہمیت حاصل کر چکا ہے گوادر دنیا کی سب سے گہر ی بندرگاہ ہے جو کہ China Pakistan Economic Corridor(CPEC) کا مرکز بھی ہے CPEC چین کے شہرسنکیانگ سے لے کر گوادر تک 2442 کلومیٹر لمبا روڑ ہے جس کی کل لاگت 50بلین امریکی ڈالر ہے جس میں انرجی زون، سڑکوں کا ایک وسیع نیٹ ورک،تعلیمی ادارے،ہسپتال اور رہائشی کالونیوں سمیت دیگر کئی اہم پروجیکٹ شامل ہیں مگر ان تمام منصوبوں اور بجٹ کی خطیر رقم ہونے کے باوجود گوادر اور مکران ڈویژن کے مکین اپنے حقوق کے لیے لمبے عرصے سے سراپا احتجاج ہیں جس میں گزشتہ مہینے سے شدت دیکھنے میں آرہی ہے اور احتجاج بھی ایسا کہ شاید بلوچستان کی سرزمین نے حالیہ تاریخ میں اتنی بڑے پیمانے پر احتجاج و دھرنا پہلی بار دیکھا ہے مردو جوان،بچے و بوڑھے حتی کہ برقعہ پوش خواتین کی بڑی تعداد نے احتجاج ریکارڈ کروائے جو کہ اب صرف گوادر و مکران ڈویژن کا نہیں بلکہ پورے بلوچستان کا احتجاج بن چکا ہے لوگ اپنے حقوق سلب اوراشرافیہ کے ظلم و ستم کے خلاف پ...