Skip to main content

Posts

Plantation

 درخت اگائیں، زندگی بچائیں  انسانی زندگی کا دارومدار خوراک،پانی اور آکسیجن پر ہے خوراک اور پانی کے بغیر تو انسان چند دن زندہ رہ سکتا ہے مگر آکسیجن کے بغیر چند منٹ گزارنا بھی نا ممکن ہے آکسیجن کا سب سے بڑا ذریعہ درخت ہیں جن کو زمین کے پھپھڑے(Lungs)بھی کہاجاتاہے درخت آکسیجن کے ساتھ ساتھ خوراک کا بھی بڑا ذریعہ ہیں ان کی ضرورت و اہمیت کے متعلق تقریباََ دنیا کے ہر مذہب میں تلقین کی گئی ہے اسلام نے بھی درختوں کو کاٹنے کی ممانعت کی ہے محسن انسانیت حضرت محمدﷺ نے شجر کاری کو فروغ دینے کے لیے شجر کاری کو صدقہ جاریہ قرار دیا ہے ارشاد فرمایاکہ ''جو مسلمان درخت لگائے یا فصل بوئے پھر اس میں سے جو پرندہ یا انسان یا چوپایا کھائے تو پھر وہ اس کی طرف سے صدقہ شمار ہوگا''(بخاری)۔ آپ ﷺ نے شجر کاری کو اتنی اہمیت دی کہ دوران جنگ مفتوحہ علاقے میں فصلوں اور باغات کو نقصان پہنچانے سے سختی سے منع فرمایا ہے اور فرمایا کہ '' اگر قیامت کی گھڑی آجائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں پودا ہو اور وہ اس کولگا سکتا ہو تو لگائے بغیر کھڑا نہ ہو ''۔ اگر ہم انسان کے سانس لینے کے نظام پر غور کریں...
Recent posts

Procedure of Senate election in Pakistan

 سینٹ الیکشن اور اس کا طریقہ کار اسلامی جمہوریہ پاکستان کی پارلیمنٹ (مجلس شوری) دستور کی شق نمبر 50 کے تحت صدر اوردو ایوانوں پر مشتمل ہے سینٹ کو ایوان بالا اور قومی اسمبلی کو ایوان زیریں کہا جاتا ہے پاکستان کا پہلا اور دوسرادستور بالترتیب1956اور1962یک ایوانی مقننہ پر ہی مشتمل تھے مگر1973 کے دستور میں پاکستان کی قانون ساز اسمبلی کو دو ایوانوں میں تقسیم کر دیا گیاتھا جو تاحال قائم ہے بظاہر ایسا اس لیے کیا گیا تھا کہ قومی اسمبلی میں نمائندگان کی تعداد آبادی کے تناسب سے تقسیم کی گئی ہے اور سینٹ میں ممبران کی تقسیم صوبوں کے لحاظ سے تقسیم کی گئی ہے تاکہ ملکی قانون سازی میں چاروں صوبوں کو برابر نمائندگی ملے کسی صوبے کی حق تلفی نہ ہو اسی لیے سینٹ میں چاروں صوبوں میں سے الگ الگ 23  ارکان کو منتحب کیا جاتا ہے جن میں 14 جنرل، 4ٹیکنوکریٹ(ماہرین و علما اکرام)،4خواتین اور ایک اقلیتی نشست شامل ہوتی ہے اسی طرح 4 نشستیں وفاقی دارالحکومت اسلام آبادکی ہیں جو2جنرل، ایک عالم دین اور ایک خاتون پر مشتمل ہیں اور آٹھ نشستیں فاٹا کی تھی یوں کل ملا کر سینٹ کی 104 نشستیں بنتی ہیں مگر اب فاٹا خیبر پختونخو...

*کالے انگریز کی توہین عدالت*

*کالے انگریز کی توہین عدالت* بعض اوقات چھوٹے چھوٹے کام بڑی بڑی تبدیلی کا باعث بنتے ہیں ایسا ہی کچھ ہوا آج  پنجاب کی سب سے بڑی عدالت کے منصف کے سامنے کہ ایک وکیل صاحب گاٶن کے بغیر جج صاحب کے  سامنے ساٸل کی فریاد لیے کھڑے ہوٸے تو صاحب بہادر نے یہ کہہ کر فریاد سننے سے منع کردیا کہ تم نے گاٶن نہیں پہنا لہذا تم اپنا مقدمہ پیش کرنے اہل نہیں ہو ایک سٸنیر وکیل جو پنجاب بھر کے وکلا کے نماٸندہ ادارے  پنجاب بارکونسل  کے ممبر ہیں وہ  یہ سارا منظر دیکھ رہے تھے وہ اپنے ہم پیشہ ساتھی کی مشکل سمجھ گٸے اور اس کو اپنا گاٶن اتار کر پہنا دیا بس یہ منظر دیکھنا تھا اورصاحب بہادر  اس طرح گرم ہوٸے جیسے کسی نے لوہے کا تپتا ہوا گاٶن صاحب بہادر کو پہنا دیا ہو بس اس حرکت پر ممبر پنجاب بار کونسل پر توہین عدالت لگادی گٸی اور اس توہین امیز عمل پر تین ماہ سزا بھی سنا دی گٸی۔ کیا یہ خود توہین عدالت ،توہین وکلا اور توہین انسانيت اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی  نہیں کہ ایک ساٸل کو صرف اس لیے نہیں سنا گیا کہ اس کے وکیل صاحب کے یونیفارم میں سے ایک غیر ضروری چیز کم تھی جس ...

حیاکے کلچر کوہے عام کرنا

جان وال پاکستان میں امریکی سفیر تھا تو صوبہ سرحد(خیبرپختونخوا) حکومت نے ورلڈ بنک سے قرضہ لیا ہوا تھا جس کی قسطیں مقرر وقت کے ساتھ جاری تھیں تو اچانک قرضے کی قسطیں روک لی گئی اور تمام منصوبوں پر کام رک گیا۔ اس وقت صوبہ سرحد (خیبر پختونخواہ)کے وزیر خزانہ سراج الحق نے امریکی سفیر سے پوچھاکہ ہمارا قرضہ کیوں روک لیا گیا ہے؟تو اس نے کہا کہ یہ جو پشاور سمیت صوبہ بھر کے شہروں میں خواتین کی تصاویر والے سائن بورڈ ہٹادیے گئے ہیں اس لیے قرضہ روک لیا گیا ہے، وزیر خزانہ نے جوابی سوال کیا کہ قرضے کا سائن بورڈ ااور صابن و شیمپو کی مشہوری والے اشتہارات سے کیا لینا دینا؟ سفیر صاحب نے پھر جو جواب دیا وہ کسی بھی باشعور عوام کو چوکنا کرنے کے لیے کافی ہے، ان کا کہنا تھا کہ اگر پیسہ ہم سے لینا ہے تو پھر ہمارا کلچربھی لینا ہے، ہماری ثقافت اور تہذیب بھی اپنانا ہوگی، اپنے معاشرے کو بھی ہمارے رنگ میں رنگنا ہوگا۔ اپنی نئی نسل کو بھی ہمارے تابع فرمانبردار کرنا ہوگا۔ HijabRow , AllahHuAkbar , Islamophobia , MuslimGirl اس واقعہ کے بعد ویلنٹائن ڈے کی مقبولیت اور معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے راہ روی و فحاشی کے رجحان کو سم...

یوم یکجہتی کشمیر کی کہانی، علامہ اقبال سے قاضی حسین احمد تک

    پانچ فروری یوم یکجہتی کشمیر منانے کا آغاز کب اور کیوں ہوا؟ یہ قصہ کافی دلچسپ ہے۔ عمومی طور پر قومی سطح پر منائے جانے والے دنوں  کی کوئی تاریخی نسبت ہوتی ہے لیکن غالباً پانچ فروری ایک ایسا دن ہے جو قومی سطح پر منایا تو ضرور جاتا ہے لیکن اس دن کی کوئی خاص نسبت یا تاریخی حیثیت نہیں ہے ۔ فروری 1989 میں سویت یونین کی فورسز کا افغانستان سے جب انخلا کا عمل مکمل ہوا تو دنیا بھر کی آزادی کی تحریکوں میں سرگرم نوجوانوں کو ایک عجیب وغریب احساس نے جکڑ لیا۔ وہ سوچنے لگے کہ وہ بھی افغانوں کی طرح مسلح مزاحمت کے ذریعے آزادی کی تحریک چلا سکتے ہیں اور فاتح بھی کہلا سکتے ہیں۔ کشمیری نوجوانوں کا خیال تھا کہ جس طرح اہل مغرب افغانوں کی پشت پر کھڑے ہوئے اسی طرح وہ ان کی بھی حمایت میں صف آرا ہوں گے کیونکہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ایک متنازع اور حل طلب مسئلہ ہے۔ ان نوجوانوں میں سے کئی خفیہ طور پر افغانستان کے جہاد میں بھی حصہ لے چکے تھے اور افغان کمانڈروں سے ان کے رابطے استوار ہو چکے تھے۔ سیاسی تحریکوں میں بعض اوقات کوئی ایک لمحہ ایسا آتا ہے کہ وہ پوری آبادی یا رائے عامہ کو اپنا...

فوجداری قوانين میں بڑی تبدیلياں

  فوجداری قوانین، 100 ترامیم، منشیات اور ریلوے مقدمات میں سزائے موت ختم، تفتیش 45 دن میں، غیرقانونی پولیس حراست پر 7 سال قید  وفاقی حکومت نے کریمنل لاءریفارمز2021ءکے تحت ضابطہ فوجداری ‘ضابطہ تعزیرات پاکستان اور قانون شہادت کی دفعات میں100سے زائد نمایاں تبدیلیاں تجویز کردیں‘ ریلوے ایکٹ اور منشیات کے مقدمات میں سزائے موت ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے‘پولیس کے سامنے دفعہ 161 ض۔ف کا بیان آڈیو /وڈیو ذرائع سے ریکارڈ کیا جا سکے گا‘ تفتیش 45روزکے اندر مکمل کی جائے گی‘. غیر قانونی پولیس حراست پر 7 سال قید کی سزاہوگی ‘قانون شہادت میں شہادت ریکارڈ کروانے کیلئے جدید الیکٹرانک ذرائع استعمال کرنے کی تجویز ہے، عدالت میں آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ،ای میل، فیکس، ٹیکسٹ پیغام بطور ثبوت تسلیم کئے جاسکیں گے. آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ کرنے والےکو بطور گواہ عدالت میں طلبی البتہ لازم نہیں ہوگی لیکن عدالت اطمینان کیلئے اسےطلب بھی کرسکتی ہے‘ درخواست ضمانت، بریت یا اخراج کو زیر التوا نہیں رکھا جاسکے گا‘ عدالت تین دن سے زیادہ کیلئے کیس کو ملتوی نہیں کرے گی جب تک کہ کوئی غیر معمولی وجوہات نہ ہوں لیکن عدالت کو وجہ تحر...