Skip to main content

Posts

Showing posts from February, 2021

اور چور پکڑا گیا

 ابھی فجر پڑھ کر گھر داخل ہی ہوا تھا تو ماں جی نے گزشتہ رات گاٶں میں پکڑے گٸے چور کی روداد سنانی شروع کردی ابھی وہ ختم نہ ہوٸی تھی اتنے میں موباٸل پر کالیں، واٹس چلایا تو پیغامات کی ایک لمبی لاٸن لگی ہوٸی تھی ہر کوٸی پہلے اطلاع دینے کچھ حد تک شریک جرم ثابت کرنے کی دوڑ میں لگا ہوا تھا اس کی بھی ایک خاص وجہ تھی ہوا کچھ یوں کہ چور بھاگنے کی ناکام کوشش کے دوران بھاگتے بھاگتے ہمارے گھر کے پچھلے حصے میں چھپ گیا تھا اور گھر کے اگلے حصے میں کرایے دار نیند کے مزے لیتا رہا ان کی شکایت کرنا بھی اب واجب ہوچکی تھی۔ویسے بھی مزدور بندہ سارا دن محنت مزدوری کرکے شام کو تھکا ہارا جب بستر پر لیٹتا تو وہ دنیا سے بے نیاز ہو کر ہی سوتا ہے کیونکہ نہ تو اس کو دولت کے لٹ جانے کا ڈر ہوتا ہے اور نہ اس کے پیٹ میں بد ہضمی ہوتی ہے کہ رات کو کروٹیں بدلتا پھرے مزدور تو اللہ کا دوست ہوتا ہے اللہ پھر اپنے دوستوں کے آرام و سکون کامکمل خیال رکھتا ہے ۔مگر اب اس کی کوئی تاویل کسی کام کی نہیں اسے اب نااہل، نکما، نکھٹو ہی کہا جائے گا قسمت کا مارا بچارا ہے جلاہا(شہروں میں جسے انصاری کہتے ہیں) اس گرفتاری کے بعد گاوں میں خو...

حیإ کے کلچر کو ہے عام کرنا

 حیاکے کلچر کوہے عام کرنا جان وال پاکستان میں امریکی سفیر تھا تو صوبہ سرحد(خیبرپختونخوا) حکومت نے ورلڈ بنک سے قرضہ لیا ہوا تھا جس کی قسطیں مقرر وقت کے ساتھ جاری تھیں تو اچانک قرضے کی قسطیں روک لی گئی اور تمام منصوبوں پر کام رک گیا۔ اس وقت کے وزیر خزانہ صوبہ سرحد(اس وقت صوبے کانام سرحد تھا)نے امریکی سفیر سے پوچھاکہ ہمارا قرضہ کیوں روک لیا گیا ہے؟تو اس نے کہا کہ یہ جو پشاور سمیت صوبہ بھر کے شہروں میں خواتین کی تصاویر والے سائن بورڈ ہٹادیے گئے ہیں اس لیے قرضہ روک لیا گیا ہے، وزیر خزانہ نے جوابی سوال کیا کہ قرضے کا سائن بورڈ ااور صابن و شیمپو کی مشہوری والے اشتہارات سے کیا لینا دینا؟ سفیر صاحب نے پھر جو جواب دیا وہ کسی بھی باشعور عوام کو چوکنا کرنے کے لیے کافی ہے، ان کا کہنا تھا کہ اگر پیسہ ہم سے لینا ہے تو پھر ہمارا کلچربھی لینا ہے، ہماری ثقافت اور تہذیب بھی اپنانا ہوگی، اپنے معاشرے کو بھی ہمارے رنگ میں رنگنا ہوگا۔ اپنی نئی نسل کو بھی ہمارے تابع کرنا ہوگا۔ اس واقعہ کے بعد ویلنٹائن ڈے کی مقبولیت اور معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے راہ روی و فحاشی کے رجحان کو سمجھنا ذرا بھی مشکل نہیں رہا اور ی...

واٹس ایپ اور سا ئبر سیکورٹی

کالم نگار :احسان حبیب      کیا تم نے واٹس ایپ کی پرا ئیو یسی اپ ڈیٹ کے بار ے میں سنا ہے؟                  با بر نے عبد الرزاق سے پو چھا۔نہیں،کیو ں کیا ہوا؟   تم تو نہ جا نے کس دنیا میں رہتے ہو۔واٹس ایپ نے پرا ئیو یسی کے حوالے سے نئیTerms and conditionsمتعا رف کر وائی ہیں اور جو انہیں تسلیم نہیں کرے گاوہ18فروری 2021کے بعد وا ٹس ایپ استعمال نہیں کر سکے گا۔بھئی، میں تو سوچ رہا ہوں کہ واٹس ایپ کو خیر باد کہ دوں اور کسی متبادل ایپ کا رخ کروں کہ اگر ان کی شرائط مان لی تو ڈیٹا غیر محفوظ ہو جا ئے گا   ۔اوہ۔۔۔تو بابر!تمہیں کیا لگتا ہے کہ صرف واٹس ایپ نہ کر نے سے تمہا راڈیٹا محفوظ رہے گاتمہیں کچھ اندازہ بھی ہے کہFacebook, Instagramجہا ں تم پل پل کی معلوما ت شیئر کر تے ہوجہا ں تم نے اپنا فون نمبر تک شیئر کیا ہوا ہے، لوکیشنز اپ ڈیٹ کر تے ہووہاں تمہا را ڈیٹا محفو ظ ہے۔ میر ے معصوم بھا ئی تم نے خو د اپنی پرا ئیو یسی کا خیا ل نہیں رکھاتو سوشل میڈ یا کا ر پو ریشنز جو کارو بار کر رہی ہیں ان سے کیا شکوہ۔ واٹس ایپ پر صرف انہی ...

"سب یاد رکھیں گے،بھولیں گے نہ''

‎  گواہ رہنا ہم منتظر تھیں ہماری آنکھیں اور دل غمزدہ تھے ہم نے اپنی جنگ گلی و سڑکوں پر مردوں کے شانہ بشانہ لڑی اپنے خاوند، بھائی و لخت جگر دفنائے اور عمر بھر اس پر افسوس نہ کیا جب بھارت نے ہمارا خطہ چھین لیا توایک سال گزرنے کے بعد گانا ریلیز ہو گاسب یادرکھیں گے!بھولیں گے نہیں "۔یہ ایک کشمیری معلمہ بہن کا کیا گیا ٹویٹ ہے جس میں وہ پاکستانیوں کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کر رہی ہے یہ ٹویٹ ایک اسے وقت پر کیا گیا جب مقبوضہ جموں و کشمیر میں لاک ڈاؤن کو لگے ہوئے5اگست کو ایک سال مکمل ہو جائے گا یہ صرف ایک کشمیر کی بیٹی کا دنیا کے مہنگے ترین گانے پر ردعمل ہی نہیں بلکہ یہ پاکستان کی کشمیر پالیسی کے حوالہ سے ایک سالہ کارکردگی رپورٹ بھی ہے اور غیرت مند پاکستانیوں کے منہ پر ایک زور دار طمانچہ بھی ایک سال گزر چکا کشمیری اپنی ہی جنت نظیر زمین پر اپنے ہی گھروں میں قید ہوکر دنیا سے کٹ چکے ہیں وہ مساجد میں نماز ادا نہیں کر سکتے جمعہ و عیدین کے اجتماع پر بھی مکمل پابندی ہے تمام نظام زندگی مفلوج ہوچکا ہے کوئی بھی کسی کے دکھ درد و شادی بیاہ میں شریک نہیں ہو سکتا اگر کوئی شہید ہوجائے تو نماز جنازہ...

گدا گری کا بڑھتا ہوا رحجان اور معاشرے پر اس کے اثرات

گاڑی ابھی ٹریفک سگنل پر رکی ہی تھی کہ دائیں بائیں سے ایک لشکر گاڑی کی جانب لپکا میں جسے لاک ڈاؤن کی وجہ سے پچھلے چار ماہ بعد پہلی دفعہ کسی اشارے پر رکنے کا اتفاق ہوا تھا ایک دفعہ ششدر رہ گیا کہ شاید ٹریفک انتظامیہ نے خاموشی سے ٹریفک رولز تبدیل کرکے نئے پاکستان کا سنگ بنیاد رکھ دیا ہے مگر جسے ہی لشکر جرار نے گاڑی کا گھیراو کیا اور ساتھ ہی نعرہ بازی شروع کر دی تو میری تمام غلط فہمیاں رفو چکر ہو گئیں نعرے بازی کچھ یوں تھی" اللہ دا واسطہ ای، نبی ﷺدا واسطہ، علی ؓ دا صدقہ ای " اور ساتھ ہی واویلا شروع کر دیا کوئی میرا بچہ بھوکا ہے اور کوئی میرے بچے یتیم ہو گئے ہیں میں بیوہ ہوں کی آوازیں لگا رہی تھی اتنے میں ایک درد بھری آواز سنائی دی " میری ماں بیمار ہے جو ہسپتال میں داخل ہے علاج کے لیے پیسے نہیں ہیں میری کچھ مدد کریں " سبھی کی مجبوریاں اتنی نازک کہ اگر ان میں سے کسی کی بھی مدد نہ کی گئی تو شام ڈھلنے تک شاید کئی افراد بھوک اور مناسب علاج نہ ہونے کی وجہ کے سبب دنیا سے رخصت ہوجائیں۔ ایک عام پاکستانی شہری کی جیب سے زیادہ پیسے شاید ان کے ہاتھوں میں تھے ان کی چال ڈال اور حملے ک...