Skip to main content

Posts

Showing posts from January, 2021

جامعہ پنجاب والو اب ذرا سنبھل کے

جامعہ پنجاب والو اب ذرا سنبھل کے #جامعہ #پنجاب والو اب ذرا سنبھل کے وہ شِیر لاہور اب نہیں رہا جن کا نام سن کر ہی تمہارے ناقدین منہ موڑ جاتے تھے میں جانتا ہوں میرا قاٸد بستر پر بیمار پڑا تھا چلنے پھرنے سے قاصر تھا مگر تم پھر بھی ان کی آمد کا بتا کر کٹھن حالات میں بھی پروگرام کر لیا کرتے تھے دیار غیر سے آٸی بہنوں اب تم بھی ذرا سنبھل کے وہ اب یہاں نہیں رہا جس کی لاہور موجودگی کی بنا پر تمہارے ماں باپ نے تمہیں بلا خوف خطر جامعہ پنجاب پڑھنے بھج دیا تھا مجھے اس بزرگ کے کہے ہوٸے الفاظ یاد ہیں "اگر پنجاب یونيورسٹی کا #ناظم حافظ سلمان بٹ ؒ ہے تو میری بیٹی کی طرف کوٸی میلی آنکھ سے بھی نہیں دیکھ سکتا"  #جمیعت والوں اب ذرا سنبھل کے وہ اب نہیں رہا جو ظالم و غاصب ڈکٹیٹروں کو بیچ چوراہے للکارا کرتا تھا لاہور والوں اب ذرا سنبھل کے وہ اب نہیں رہا جس کی آمد کا سن کر قبضہ مافیہ دم دبا کر بھاگ جایاکرتے تھے۔ اب ذرا سنبھل کے۔ Islami Jamiat -e- Talaba Pakistan  Islami Jamiat-e-Talaba Lahore  جامعہ پنجاب نیو کیمپس لاھور پاکستان  University of the Punjab

نہتی لڑکی بمقابل سپر پاور

 🌺 نہتی لڑکی بمقابل سپر پاور 🌹 وہ خوبصورت تو تھی ہی مگر خوب سیرت بھی تھی، بچپن سے ہی ذہین اور اسلامی رجحان کی طرف مائل تھی  ابتدائی تعلیم زیمبیا سے حاصل کی اور پھر کراچی یونیورسٹی میں داخلہ لے لیاوہاں سے ماسڑ کرنے کے بعد اپنے بھائی کے پیچھے امریکہ چلی گئی وہاں Massachusetts Institute of Technology سے BS ٹیکنالوجی اورBrandeis Universityسے Neuroscience میں Ph.D کی ڈگری حاصل کی۔ امریکہ میں زیر تعلیم کے دوران ہی اپنی ریسرچ کی بدولت 50 ہزار ڈالر کا انعام بھی حاصل کیا اور ساتھ ساتھ دین اسلام کی تبلیغ کا فریضہ بھی سرانجام دیتی رہیں امریکی ان کے اس رویے سے شدید نالاں تھے کہ پڑھائی اور ریسرچ میں بھی اچھی کارکردگی ہے مگر کردار کی بھی پکی ہے، اعلٰی تعلیم حاصل کیے آنکھوں میں حسین خواب سجائے وطن واپس لوٹ آئیں اور پاکستان میں Institute of Islamic Research Center and Technologyکی ممبر بن گئی اور اسلامی ریسرچ کے حوالے سے خوب محنت کی جس کی بدولت مذہبی حلقوں میں اچھی پذیرائی ملی مگر اسی دوران ہی امریکی پریس پر اسی پاکستانی خاتون کے خلاف نفرت انگیز مواد کی تشہیر کر کے دہشت گرد قراد دے دیا گیا۔...

ہم نے سب بھلا دیا

 ہم نے سب بھلا دیا We forgot every thing تحریر:احسان حبیب خاں  اگرتاریخ کے اوراق کی ورق گردانی کی جائے تومعلو م ہوکہ کیسی کیسی عظیم ہستیاں ان میں ضم ہو گئیں بس فرق صرف اتنا ہے کہ کسی کو دنیاعرصہ درراز گزنے کے بعدبھی اچھے لفاظ میں یاد کرتی ہے،ان کے کارناموں کو سرا ہتی ہے،ان کے مزارات پر پھول چڑھا تی اورآخرت کے سفرمیں آسانی کے لئے دعائیں کرتی ہے۔ توکچھ ہستیاں ایسی بھی گزری ہیں جن کیلئے لوگ انسا نیت کے نام پر دھبہ جیسے الفا ظ استعمال کر تے ہیں،کام تو کیا اُن کے ساتھ اُن کے نام بھی صفاہستی سے مٹ جاتے ہیں۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم کس طرح کے الفاظ میں زندہ رہنا چا ہتے ہیں۔کوئی کا رنا مہ سر انجام دے کر، کوئی تحقیق کر کے،کچھ ایجاد کر کے،کوئی اصلاح کر کے یاکوئی اور تبدیلی لا کر ہمیشہ کیلئے امر ہو جائیں یا پھر پیٹ پوجا۔۔۔تم کھاؤ میں کھاؤں تک ہی محدود  رہ کرپہلے زمین پر بوجھ بنے رہیں اوربا لآخر ایک دن زمین کو بھی اس بوجھ سے آزاد کر تے ہوئے اِسی کے اندر سما جائیں۔قرآن پا ک میں بار ہاانسان کو مشاہدہ کرنے،تحقیق کر نے،غوروفکر کرنے اور اگلی قو موں سے عبرت حا صل کر نے کی تلقین کی گئی ہے...

کروناواٸرس بمقابلہ حکومتی پالسیاں

کرونا وائرس بمقابلہ حکومتی پالیسیاں      روزنامہ:تحریر پاکستان کالم نگار : محمد عثمان کرونا وائرس نے اپنی آمد کے ساتھ ہی سے نظام زندگی مفلوج کر رکھا ہے ایسے مشکل حالات میں جن ممالک نے بروقت درست فیصلے کیے اور ان پر عملدرآمد بھی کیا اُن ممالک میں ممکن حد تک کرونا وائرس پر قابو پا لیا گیا ہے اور جن ممالک میں امیر اور غریب کے لیے الگ پالیسی،حکومت اور عوام کے لیے الگ پالیسی،تعلیمی اداروں اور سیاسی جلسوں کے لیے الگ پالیسی ان ممالک نے اپنی ناقص پالیسوں کی بدولت ناقابل تلافی معاشی نقصان تو اٹھایا ہی ہے اور ساتھ کرونا جیسی جان لیوا عالمی وبا کا پھیلاؤ بھی کنٹرول سے باہر ہوتا جارہا ہے اگر ہم اپنے وطن عزیز پاکستان میں غور کریں تو کرونا وائرس نے جہاں تمام طبقہ ہائے زندگی کو متاثر کیا ہے وہاں طلبہ کے مستقبل کو بھی داو پر لگا دیاگیا ہے اور رہی سہی کسر ہمارے پالیسی ساز اداروں نے نکال دی ہے طالب علموں کو کرونا سے بچاتے بچاتے ڈپریشن کا شکار کر دیا ہے پچھلے ڈیڑھ سال سے امتحانات کے حوالے سے کوئی موثر حکمت عملی سامنے نہیں آ سکی اگر کسی کلاس کے چھ پیپر ہیں تو دو کرونا سے پہلے ہو چکے ہیں دو...

غور طلب

جنوری کی سیاہ رات گھڑی پر 1:00 بج رہےہیں دھند کے باعث حد نگاہ صفر ہو چکی ہے اتنے میں ایمرجنسی میں موجود ڈاکٹر مریض کے مزید علاج سے جواب دے دیتا ہے اور لاہور لے جانے کا مشورہ دیتا ہے جیسے ہی ایمبولینس 1122سے رابطہ کیا جاتے ہے وہ کہتے ہیں کہ لاہور کے کسی ہسپتال میں کرونا کے مریض کو داخل نہیں کیا جا رہا کیوں کہ بیڈ خالی نہیں ہیں خوب بھاگ دوڑ اور سفارشوں کے بعد اللہ اللہ کرکے بیڈ کا انتظام ہوتا ہے اور مریض لاہور روانہ کر دیا جاتاہے۔ آپ ذرا یہاں عوام اور اہل اختیارات و اقتدارکی بے حسی ملاحظہ فرمائیں 35لاکھ آبادی والےضلع قصور میں کرونا جیسی عالمی وبا کے علاج کے لیے ایک بھی بیڈ موجود نہیں ہے جبکہ دوسری طرف آج ہی (بلکے گزشتہ کل) قصور کی صحافی برادری صرف اسی بات پر سیخ پاہ تھی کہ بھٹی ہسپتال کے سیکورٹی گارڈ نے ایک رپورٹر کے ساتھ ذرا اونچی آواز میں بات کی تھی جس کو سبق سکھانے کے لیے پلاننگ اور تدبیریں اختیار کی جارہی ہیں یہ لیول ہے یہاں کی صحافت کا کہ جس بیماری سے لوگ مر رہے ہیں اس کی طرف ذرا بھی توجہ نہیں اور تلخ لہجہ (اب بدتمیزی کس نے کی ہوگی یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے مگرعوام بھی سب جانتے ہی...