Skip to main content

Posts

Showing posts from December, 2020

ٹرمپ کا جیتنا کیوں ضروری تھا ؟

#Why was it necessary for Trump to win? ڈونلڈ ٹرمپ شاید جدید دنیا کا واحدحکمران ہے جس نے اپنی انتخابی مہم میں دنیا بلخصوص امریکی عوام سے کیے گئے وعدے چار سال کی مختصر مدت میں ممکن حد تک پورے کیے ٹرمپ نے وعدہ کیا تھا کہ میں دنیا بھر میں جاری امریکی جنگیں ختم کر دوں گا، افواج واپس بلا لوں گا۔ تو آپ نے شام، عراق اور لیبیا سے بڑے پیمانے پر افواج میں کمی اور افغانستان سے مختصر مدت میں مکمل انخلا پر پہلی بار امریکی قیادت کو سنجیدہ پایا اور مذاکرات کو پایہ تکمیل تک پہنچتے دیکھا جس کی بدولت امریکی فوج کی واپسی اور طالبان قیدیوں کی رہائی شروع ہے تاریخ گواہ ہے کہ سابقہ حکمرانوں کے دور میں جب بھی طالبان کو مذاکرات کی دعوت دی ملاقات سے واپسی پر لوکیشن ٹریس کر کے شہید کر دیا جاتاہے      آپ ٹرمپ کی سنجیدگی ملاحظہ فرمائیں اس نے یہاں تک اعلان کردیا تھا کہ میں طالبان کو مذاکرات کے لیے آنے والے تمام اخراجات ادا کرنے کو تیار ہوں مگر کانگرس آڑے آگئی۔ ٹرمپ نے الیکشن مہم میں کچھ ممالک کے شہریوں کو امریکہ داخلے پر پابندی لگانے کا اعلان کیا تھا جن میں زیادہ تر اسلامی ممالک تھے اور اس نے اقتدار س...

”روزی“ درندوں کے نرخے میں

روزنامہ تحریر پاکستان *اظہار جرات* روزی گیبریلی(Rosie Gabrielle) خوبصورت نوجوان کینیڈین لڑکی ہے موٹر سائیکل پر دنیا کی سیر کرنا اس کا پسندیدہ مشغلہ ہے اسی شوق کو پورا کرنے کی غرض سے وہ افریقہ اور عرب ریاستوں سے ہوتی ہوئی پاکستان بھی آئی اور لمبا عرصہ اکیلی ہی گھومتی پھرتی رہی اس دوران وہ پاکستان کے پررونق شہروں میں بھی گئی معروف مزاروں، مساجد کو بھی دیکھا ویران صحراوں و جنگل بیابانوں کی سیربھی کی پہاڑوں کی چوٹیوں کو بھی سر کیااور چوٹیوں سے گرتی آبشاروں سے زلفوں کو بھی سنوارا اس نے میدانی علاقوں کی بھی سیر کی جہاں رات ہوئی وہاں نزدیکی علاقے میں گزار لی اس نے بڑے شاپنگ مال سے شاپنگ بھی کی اورریڑی والے سے نان چنے بھی کھائے چھابڑی والے سے فروٹ بھی خریدا اور سڑک کنارے چائے والے کھوکھے سے چائے کی چسکاریاں بھی لی لوگ ایک مادرپدر آزادمعاشرے کی لڑکی کو جینز پہنے اور سر پر ہیلمٹ سجھائے موٹر سائیکل پر اپنے علاقے سے گزرتے دیکھتے تو مسکرا کر اس کو سلام کرتے اور اسے جذبہ مہمان نوازی کے تحت کھانے پینے کی پیشکش بھی کرتے جسے وہ اکثر ہنسی خوشی قبول کر لیتی کیونکہ وہ تو لوگوں کا رہن سہن اور ان کی روایات ...

کرونا واٸرس سے بڑھتے ہوۓ تعلیمی مساٸل

کرونا وائرس (Covid-19)  نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے ترقی پذیر ممالک کے نظام کو تہہ و بالا کر کے رکھ دیا ہے دنیا بھر کے اکثر ممالک کی معیشت تباہ ہو چکی ہے بڑے بڑے سرمایہ دار وں کا دیوالیہ نکل چکا ہے بے روزگاری کی شرح بام عروج کو چھو رہی ہے قرضوں کا حجم پھن پھیلائے کھڑا ہے اسی اثنامیں دنیا کی بڑی بڑی نامور شخصیات دارفانی سے کوچ کر چکی ہیں بلخصوص پاکستان میں مذہبی طبقہ کو غیر معمولی نقصان پہنچا ہے جس کا ازالہ شاید صدیوں بعد بھی پورا نہ کیا جاسکے ان تمام تر ہولناکیوں میں جہاں شعبہ زندگی کا ہر طبقہ متاثر ہوا ہے وہاں طالب علموں کا مستقبل بھی خطرے میں پڑھ گیا ہے ایک طرف قدرتی آفات کا سامناتو دوسری طرف اہل اقتدار کے خود ساختہ مسائل کا لا متناہی سلسلہ۔ پاکستان شاید دنیا کا واحد ملک ہے جہاں کرونا آیا ہم نے باہمی تعاون سے عروج پر پہنچایا جو اب اپنے آخری مراحل میں ہے مگر ہم اس سارے عرصے کے دوران کوئی واضح پالیسی نہ بنا سکے اس سارے عرصے میں حکومت اضطراب کا شکار نظر آئی جس بنا پر مزدور طبقہ اور طالب علموں کو نا قابل تلافی نقصان پہنچا وزارت تعلیم کی جانب سے نہم،دہم اور گیارہویں، بارہ...