Skip to main content

Posts

Showing posts from May, 2021

جنرل رانی

 اقلیم اختر رانی المعروف ''جنرل رانی'' ، ملکہ ترنم میڈم نور جہاں اور مشہور اداکارہ ''ترانہ'' ایک ہی کہانی کے تین کردار- اور اس کہانی کا مرکزی ہیرو جنرل یحییٰ خان - راقم ترانہ پر پہلے ایک تحریر قلم کرچکا ہے اگلی پوسٹ میں قارئین کی یاددہانی کے لیے پھر سے دہرایا جائے گا لیکن آج کی یہ تحریر جنرل رانی کے نام جس کا ذکر حامد میر نے بھی ملک کے مقتدر حلقوں کو مخاطب کرکے اپنے حالیہ بیان میں کیا ہے - کہتے ہیں کہ بحرِ اوقیانوس پر ایک تتلی کے پروں کی پھڑپھڑاہٹ سے ہوا میں معمولی انتشار پیدا ہوتا ہے، جو مختلف موسمی اور ماحولیاتی مرحلے طے کرتے کرتے بالآخر جا کر امریکہ میں شدید بحری طوفان کا باعث بن جاتا ہے 60 کی دہائی کے اوائل کا ذکر ہے کہ اقلیم اختر اپنے خاوند کے ساتھ مری کی مشہور مال روڈ پر چہل قدمی کر رہے تھیں۔ خاتون نے اس وقت کے عام دستور کے مطابق برقع اوڑھ رکھا تھا۔ اس دوران اچانک ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا آیا مری کے مال روڈ پر چلنے والے اس جھونکے نے وہ الاؤ بھڑکایا جس نے آنے والے برسوں میں بہت سوں کے کردار اور کیریئر کو جلا کر راکھ کر دیا۔ اقلیم اختر نے 2002 میں نیو...

LAW-GAT/LAT

اگر کسی ملک کی ترقی کو پرکھنا ہو تو تعلیمی پالیسیوں کو  پرکھ لینا چاہئے کہ تعلیم کا معیار کیا ہے ادارے کس طرح کے سٹوڈنٹس پروان چڑھا رہے ہیں۔۔  مانا کہ وکیل بننا ہمارا Constitutional right نہیں ہے تو کیا ڈاکٹرز یا نرسز کا یہی Constitutional right ہے؟ معیاری تعلیم کی فراہمی Responsibility of State ہے جو کہ State دسویں جماعت تک ہی سٹوڈنٹس کو فراہم کرتی ہے پھر انٹرمیڈیٹ لیول پر بچے اپنی فیلڈ کا تعین کر لیتے ہیں تو جناب ایک بچہ جو اپنے خرچے پہ قانون کی تعلیم حاصل کر رہا ہے تو کیا یہ اسکا حق نہیں ہے کہ اسے بھی باقی پروفیشنز کی طرح وکالت کا لائسنس جاری کیا جائے، قانون کا طالبعلم نہ تو سرکار پر بوجھ بن کر کوئی Stipend during studies لیتا رہا نہ آگے State پر بوجھ بننے جا رہا ہے ۔۔۔ 1973 کے بار کونسلز اس ملک میں بنے ہیں اور تب سے ہی لائسنسز بار کونسلز جاری کر رہے ہیں بغیر اس بات کو پرکھے کہ آیا کس کو قانون کا کتنا علم ہے یا کتنا وہ قانون کو جانتا ہے ۔۔۔ چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب کے تو کیا ہی کہنے وہ تو اس ملک میں ہر چیز ٹھیک کرگئے ڈیمز لگوا گئے، تمام پینڈنگ کیسز نمٹا گئے سپریم کورٹ تک نیچ...

ہم محسنوں کو یاد نہیں کرتے

  وہ ہالینڈ کی یونیورسٹی آف ڈیلفٹ میں زیر تعلیم تھا غیر معمولی صلاحیتوں کا حامل نوجوان جذبہ حب الوطنی سے سرشار سات سمندر پار بھی اپنے ملک کے لمحہ بہ لمحہ بدلتے حالات سے باخبر اور خوفزدہ تھا۔ آخر کار اس نوجوان کو تاریخ کا وہ بد ترین دن بھی دیکھنا ہی پڑا جب اس کے ملک کی فوج نے دشمن فوج کے آگے ہتھیار ڈال دیے جو تا ریخ کی بد ترین شکست ثابت ہوئی اور پاکستان دولخت ہو گیا اس نوجوان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا اور پھوٹ پھوٹ کر رویا جو اس کی زندگی میں پہلی بار دل بھر کے رونا تھا مسلسل کئی دن بغیر کچھ کھائے پیئے اور غم کی حالت میں گزار دیے اور فرط جزبات میں آکر اپنا ٹی۔ وی بھی توڑ ڈالا ۔  مگر وہ ہمت نہ ہارا اس نے اپنی بے بسی کو طاقت میں بدلا اور فیصلہ کیا جو ہوگیا وہ تلخ ماضی تھا مگر اب اپنے وطن عزیز پر آنچ نہیں آنے دے گا اور پھر چشم فلک نے وہ دلفریب منظر بھی دیکھا کہ پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر بن چکا تھا پوری دنیا کے مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ دنیا کے جس خطے میں بھی پاکستانی موجود تھا وہاں مبارک بادیں دینے والوں کی لائنیں لگ گئی اور یوں پاکستان دنیا کی ساتویں اور عالم اسلام کی ...

حماس اور اسرائیل کے درمیان گیارہ روز جنگ کے بعد فائر بندی ہو گئی۔

  مقامی وقت کے مطابق رات دو بجے سیز فائر کا اعلان ہوتے ہی، غزہ اور مغربی کنارے میں ہزاروں فلسطینی ’اللہ اکبر‘  کے نعرے لگاتے سڑکوں پر نکل آئے اور فتح کا جشن منانا شروع کر دیا۔  خلافت عثمانیہ کے سقوط کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ فلسطینیوں نے اسرائیل سے جنگ کے بعد فتح کا جشن منایا۔ ورنہ 1948 سے لے کر 1967 تک کی تمام جنگوں میں عرب ممالک کی مشترکہ فوج نے ہمیشہ اسرائیل کے مقابلے میں ذلت آمیز شکست کا منہ ہی دیکھا تھا۔ اسرائیل کی جانب سے تین روز پہلے ہی جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کر دی گئی تھی۔ لیکن حماس کا اصرار تھا کہ اسرائیل اعلانیہ جنگ بندی کرے۔ تین روز بعد بلآخر ’اسرائیلی کابینہ نے جنگ بندی متفقہ طور پر منظور کر لیا۔‘ ’بی بی سی نے حماس کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے 'شیخ جراح اور مسجد الاقصیٰ سے متعلق شرائط مان لینے کے بعد ہی سیز فائر کو تسلیم کیا گیا ہے۔          10 مئی کو شروع ہونے والی جنگ کے دوران غزہ پر اسرائیلی بمباری میں 60 بچوں اور خواتین سمیت 227 فلسطینی شہید اور 1800سے زخمی ہوئے۔ اس دوران حماس نے 4 ہزار سے زیادہ راکٹ اسرائیل پر ف...

میدانوں کی جیتی ہوئی جنگ جب ہم مذاکرات کی میز پر ہار گئے

  اندھیری رات تھی گھڑی پر 3 بج رہے تھے۔پوری قوم آغوش خواب میں تھی کہ اچانک بزدل دشمن نے وطن عزیز پر حملہ کر دیا جو کہ اس کی فاش غلطی تھی دشمن کو شاید اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ سویا ہوا شیر جاگتے ہوئے شیر سے زیادہ خطر ناک ہوتا ہے پھر وہی ہوا جس کا دشمن کو ڈر تھا چشم فلک نے پھر وہ نظارے بھی دیکھے جو شاید اپنی پوری تاریخ میں کبھی نہ دیکھے تھے۔ بھارت 1962ء کی جنگ میں چین سے شکست خوردہ فوج کو اپنے سے تین گناکمزور پاکستان سے لڑا کر حوصلے بلند کرنا چاہتا تھا دنیا پر اپنی طاقت کی دھاک بٹھا نا چاہتا تھا۔بھارت نے پاکستان کو آسان خدف سمجھ رکھا تھا کیونکہ وہ تقسیم ہندوستان کے وقت پاکستان کے حصے میں آنے والے بوسیدہ جنگی سازوسامان سے بخوبی واقف تھا لیکن یہاں معاملہ الٹ تھا پاکستانی قوم کو ہتھیاروں سے زیادہ اپنے اللہ پر بھروسہ تھا۔وہ بچے جنھوں نے قیام پاکستان کے وقت اپنے پیاروں کوکٹتے دیکھا تھا بہنوں کی عزتیں لٹتی دیکھیں تھی آ ج وہ جری جوان جذبہ حب الوطنی کے تحت پاک فوج کاحصہ بن چکے تھے وہ جو کل ناتواں تھے ان18 سالوں میں طاقتور ہو چکے تھے وہ موقع کی تلاش میں تھے انتقام کا لاوا پھٹ پڑنے کو ...

مجرم سے نفرت،جرم سے محبت کیوں؟

 مجرم سے نفرت،جرم سے محبت کیوں؟   رات کی تاریکی میں ننھی زینب اور متعد د بچیوں کے قاتل عمران علی کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔مگر معصوم بچیوں کی روحیں آ ج بھی جوابات کی منتظرہیں کہ کیا ہماری جانوں کی قیمت صرف عمران علی کی پھانسی ہی تھی۔نہیں ہر گز نہیں معصوم پریوں کی جانوں کی قیمت تو دنیا ادا کرنے سے قاصررہی مگر فرسودا اور ظالمانہ نظام کا گلہ گھونٹ کر ازالہ کیا جا سکتا تھا ایک ایسا نظام جس میں ایک انسان سے حیوان اور حیوان سے درندہ بننے کے تمام آلات آسانی سے دستیاب ہوں ایسا نظام جو مظلوم سے زیادہ ظالم کی طر ف داری کرتاہو ایک ایسا نظام جس میں برائی کرنا آسان اور برائی سے بچنا مشکل ہو افسوس کہ ہم ایک ایسے نظام میں زندہ ہیں جس میں ایک انسان سے مجرم اور مجرم سے درندا بننے کا انتظار کیا جاتا ہے کہ کب مجرم اپنے جرم کی انتہا کو چھوئے اور ہم واویلا کریں اور انجام کو پہنچائیں جس میں ہم بعض اوقات کامیاب اور بعض اوقات نا کام بھی ہو جاتے ہیں۔  اگر ہم ننھی بچیوں کے قاتل عمران علی کی حالات زندگی پر ایک نظر دوڑائیں تو ہمیں عمران سے بڑا مجرم معاشرتی نظام نظر آئے گاآپ ذرا غور کریں کہ عمر...

جس نےیونیورسٹی کی زندگی جی لی ہے اس نے دنیا سے اپنا حق حاصل کرلیا ہے

University Life  یونیورسٹی لائف تک پہنچنا ہر نوجوان لڑکے لڑکی کی خواہش ہوتی ہے. یہ ایک سحر کی طرح ہوتی ہے جو ہم پر طاری ہو کر ہمیں حقیقت سے بے خبر کر دیتی ہے. (Old Campus PU ) کلاس کوریڈورز میں فرش پر چوکڑی مار کر بے تکلفی سے بیٹھ جانا، کنٹین پر ساتھیوں کے ساتھ موسم کی ہر رت کا مزہ لینا، ٹیچر کو دلائل سے امپریس کر کے سارا دن فخر سے گھومنا اور ساتھی فی میلز کا متاثر ہونا خود کو ڈیپارٹمنٹ کے ہیرو اور ہیروئین سمجھنا، بے تکلفیاں، خوش گپیاں، شرارتیں اور یونیورسٹی کے در و دیوار میں گونجتے قہقہے، سب ایک دن خواب بن کر یادوں کے صحرا میں دفن ہو جائیں گے اور پاس آؤٹ ہونے کے بعد جب آپ آخری بار مڑ کر یونیورسٹی کے گیٹ کو کراس کر کے پیچھے مڑ کر دیکھیں گے تو اپنا آپ اور باقی دوست وہیں ہنستے مسکراتے اور گھومتے نظر آئیں گے پھر آہیں ہوں گی، سسکیاں ہوں گی اور آپ بوجھل دل سے گھر کو لوٹ آئیں گے. (Main Library PU) اگلا دن بہت الگ ہو گا طویل بوجھل جیسے تپتی دھوپ کا پہلا جھٹکا لگے. پھر اپنی شناخت کی جدو جہد ہو گی جاب کیریر کی تلاش، پھر آپکا چہرہ بھی بدل جائے گا جو یونیورسٹی میں تھا ویسا نہیں رہے گا. عملی ز...

چانکیہ کے چیلوں کی کامیاب سیاست

 چانکیہ کے چیلوں کی کامیاب سیاست   تقریبادو سال ہوچکے ہیں مودی حکومت نے کشمیری مسلمانوں کو اپنے ہی گھروں میں قید کر رکھا ہے جوبھی اس ظلم کے خلاف آواز بلند کرتا ہے اسے شہید کردیاجاتا ہے جس کی چاہے عزت لوٹ لی جاتی ہے۔کشمیریوں کی آمدن اور خوراک کا واحد ذریعہ باغات کاٹے جارہے ہیں سیاحت پر پابندی عائد ہے  انٹرنیٹ بند کرکے عالمی دنیا سے رابطے منقطع کیے جاچکے ہیں تمام نظام زندگی مفلوج ہو چکاپورے انڈیا میں تیس کروڑ مسلمانوں کی شہریت تقریبا ختم کی جاچکی ہے ان سے بھارت کا شہری ہونے کا حق چھینا جاچکا ہے جس کی بنا پر وہ اب کسی بھی قسم کی جائیداد کے مالک نہیں بن سکتے اور نہ ہی کوئی نوکری کر سکتا ہے۔مساجداور مسلم آبادی پر حملے روز کا معمول بن چکا ہے۔ملک بھر میں ہونے والی کسی بھی خرابی کا ذمہ دار مسلمانوں کو ہی ٹھہرایا جاتا ہے۔یہاں تک کہ عالم اسلام کے عظیم رہنما و مفکر ڈاکٹر ذاکر نائیک کی شہریت ختم کر کے انھیں دہشت گرد قرار دے کر گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے جاچکے ہیں جو اب جلاوطنی کی زندگی جی رہے ہیں اور ان کا چینل بھی انڈیا میں بند ہے ان سب مظالم کے باوجود عالمی دنیا ستو پی کرسوئی رہی اب...