مجرم سے نفرت،جرم سے محبت کیوں؟
رات کی تاریکی میں ننھی زینب اور متعد د بچیوں کے قاتل عمران علی کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔مگر معصوم بچیوں کی روحیں آ ج بھی جوابات کی منتظرہیں کہ کیا ہماری جانوں کی قیمت صرف عمران علی کی پھانسی ہی تھی۔نہیں ہر گز نہیں معصوم پریوں کی جانوں کی قیمت تو دنیا ادا کرنے سے قاصررہی مگر فرسودا اور ظالمانہ نظام کا گلہ گھونٹ کر ازالہ کیا جا سکتا تھا ایک ایسا نظام جس میں ایک انسان سے حیوان اور حیوان سے درندہ بننے کے تمام آلات آسانی سے دستیاب ہوں ایسا نظام جو مظلوم سے زیادہ ظالم کی طر ف داری کرتاہو ایک ایسا نظام جس میں برائی کرنا آسان اور برائی سے بچنا مشکل ہو افسوس کہ ہم ایک ایسے نظام میں زندہ ہیں جس میں ایک انسان سے مجرم اور مجرم سے درندا بننے کا انتظار کیا جاتا ہے کہ کب مجرم اپنے جرم کی انتہا کو چھوئے اور ہم واویلا کریں اور انجام کو پہنچائیں جس میں ہم بعض اوقات کامیاب اور بعض اوقات نا کام بھی ہو جاتے ہیں۔
اگر ہم ننھی بچیوں کے قاتل عمران علی کی حالات زندگی پر ایک نظر دوڑائیں تو ہمیں عمران سے بڑا مجرم معاشرتی نظام نظر آئے گاآپ ذرا غور کریں کہ عمران علی ایک نعت خواں تھا علماء اکرام کی محفل اس کی بیٹھک تھی اچھائی کے کاموں میں بظاہر بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والا آخر پس پردہ کیسے اور کیوں درندگی پر اترآیا؟آپ یہاں ہماری نام نہاد روحانی محفلوں اور لمبی لمبی بے اثر تقریریں جھاڑنے والے نام نہاد علماء اکرام کی بے حسی ملاحظہ فرمائیں کہ عمران علی کو دو، تین سالوں کے عرصے میں جب وہ بچیوں سے گناؤنے کھیل کھیلتا رہا ایک بھی ایسا صاحب علم ایک بھی ایسی روحانی محفل ایک بھی محفلوں کی زینت بننے والا پیر گدی نشین متاثر نہ کر سکا جو اس کو اللہ کے عذاب سے ڈرا سکتا میں ان کو میں اس لیے کوس رہا ہوں کہ یہی اس کا حلقہ احباب تھے۔ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ آج ہماری عبادات دکھلاوئے کی اور ہماری روحانی محفلیں اور تقریریں بے اثر ہیں جو صرف نام کمانے اور پیسہ حاصل کرنے کا ایک باعزت اور معقول ذریعہ بنا ہوا ہے۔ایسی ہی بے حسی کا سانحہ حسین خانوالہ میں بھی پیش آیا کہ جن دنوں ویڈیو سکینڈل عروج پر تھا پوری دنیا کے میڈیا کی نظریں ایک چھوٹے سے گاؤں پر تھی تب وہاں پر بھی کوئی عالم دین زنا کے عنوان پر جمعہ پڑھانے اور وعظ و نصیحت کرنے کو تیار نہ تھا۔
ہی وجہ ہے کہ ہم نے زینب کو انصاف دلانے کی منافقانہ کوشش کی زینب کا انصاف صرف مجرم عمران علی کی پھانسی ہر گز نہیں تھابلکہ مجرم پیداکرنے والے ظالمانہ نظام کا جنازہ تھا جس کو ہم خود سہارادیتے ہیں ہمیں یہ ماننا پڑئے گاکہ ہم ایک مردہ ضمیر معاشرے میں زندہ لاشیں ہیں جو اپنی تباہی کا سامان خود پیدا کرتے ہیں اور پھر ا سکی پیدوار سے نفرت کرتے ہیں ہم مجرم سے نفرت اور جرم سے جنوں کی حد تک محبت کرتے ہیں کیا ہم خود بے حیائی و فحاشی کے اڈوں کو تحفظ نہیں دیتے کیا ہم خود فحاشی کی محفلوں کو رونق نہیں بخشتے؟ہماری بے حسی و منافقت کا یہ حال ہے کہ ہم میں اتنی جرات بھی نہیں کہ مجرم کو مجرم کہہ سکیں جو سامنے ہے وہ تو سبھی کو نظر آ گیا کیا ہم نے سوچنے کی کوشش کی کہ عمران علی کو اس حد تک پہنچانے والا کون ہے؟کیسے وہ ایک انسان سے درندا بن گیا؟سب جانتے ہوئے بھی مجرمانہ خاموشی کیوں ہے؟ ہم نے انٹر نیٹ پر فحش ویب سائٹس اور شہر شہر فحاشی کے اڈوں کے خلاف کوئی نوٹس کیوں نہیں لیا؟ ٹی۔وی پر مارننگ شو کے نام پر بچوں کے ڈانس مقابلہ جات کو کیوں بند نہیں کیا گیا؟ کیونکہ ہم اپنے آپ اور اپنی آنے والی نسلوں کے ساتھ مخلص نہیں۔ہماری مثال اس لکڑہارے جیسے ہے جو درخت کاٹنے کی خواہش تو رکھتا ہے مگر شروع پتوں سے کرتا اور جڑوں کو کھادیں و پانی وافر مقدار میں مہیا کرتا ہے جس سے درخت مزید شاخیں نکالتا ہے ہم بھی ویسا ہی کرتے ہیں ہم ایک انسان کو برائی کے تمام آلات مہیا کرتے ہیں اور پھر اس کے مجرم بننے کے انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں اور جب مجرم اپنی درندگی دیکھا چکا ہوتا ہے پھر ہم سر پٹپٹاتے ہیں توڑ پھوڑبھی کرتے ہیں اپنے آپ کو جلاتے بھی ہیں مجرم کے نام پر سیاست بھی کرتے ہیں مخالفین کو آڑئے ہاتھوں بھی لیتے ہیں حکومتی پالیسوں پرکھل کر تنقید بھی کرتے ہیں مجرم کا شجرہ نسب بھی قوم لوط سے جا ملاتے ہیں سر عام پھانسی کا مطالبہ بھی کرتے ہیں جس شہر سے مجرم سب کچھ سیکھ کر عبرت کا نشان بنا اس شہر میں دفن بھی نہیں ہونے دیتے اس کے خاندان کو شہر بدربھی کرتے ہیں مگر نہیں کرتے تو مجرم پیدا کرنے و الے جنسی اڈے بند نہیں کرتے کیا دنیا نہیں جانتی کہ مجرم عمران علی بھی طواف کے کوٹھے سے عادی مجرم بنا جب تک مال و زر تھا تو اس سہولت سے فائدہ اٹھاتا رہا مگر جب بات فاقوں تک آ پہنچی تو پھر بچیوں کو اغوا کے بعد زیادتی اور پھر جرم کو مٹانے کے لیے قتل کرنے شروع کر دیے اگر ہم نے اس دردناک حادثات سے سبق حاصل کیا ہوتا تو آ ج پورے ملک سے نہ سہی کم ازکم قصور شہر سے ہی فحاشی کے اڈے بند کردیتے مگر یہاں تو گنگا الٹی بہہ رہی نئے نئے سینما ہالز اور تھیٹر زکے افتتاح کیے جارہے ہیں بھکاریوں کے روپ میں جسم فروش عورتیں دفاتروں،دکانوں،پارکوں اور سکول وکالجز کے سامنے دہندہ کرتی پھرتی ہیں۔ اور بے حسی کا یہ عالم ہے کہ حکمران مجرم مجرم کھیل رہے ہیں کہ پنجاب حکومت نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اپنا مجرم آٹھ دن میں پکڑ لیا ہے اور خیبر پختونخواہ حکومت اپنا مجرم پکڑنے میں لیٹ ہو گئی ہے خدانخواستہ مجرم اگر زینب کی لاش کو کچرئے کے ڈھیر پہ پھینکنے کی بجائے ساتھ بہتے نالے میں پھینک دیتا جہاں سے صر ف چند لمحوں بعد بھی سراغ لگانا مشکل ہی کیا ناممکن ہو جاتا پھر یہ ٹیکنالوجی کیا کر لیتی۔
اگر ہم نے اپنی روش نہ بدلی حقائق کو جاننے کی کوشش نہ کی برائی کی اماج گائیں بند نہ کی بچوں کے سکول یونیفارم اور لباس پہ توجہ نہ دی تو معذرت کے ساتھ پھراور بچوں کی لاشیں اٹھانے اپنے آپ کو جلانے اور مجرم کو کیفرکردار تک پہنچانے کے لیے تیار رہنا۔
اگر ہمیں اپنے معاشرے میں جرائم کو کنٹرول کرنا ہے تو پھر مجرم کی بجائے جرم سے نفرت کرنا ہو گی مجرم پیدا کرنے والی انڈسٹری کی روک تھام کا سدباب کرنا ہو گا۔ اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ پھانسی لگا کر ہم نے مسلے کا حل نکال لیا ہے تو یہ بہت بڑی حماقت ہے اگر ایسا ممکن ہوتا تو پھر سانحہ حسین خانوالہ کے بعد قصور کا واقعہ روپیش نہیں آنا چاہیے تھا مگر یہاں تو ایک اور بچہ فائق احمد بھی کئی ماہ سے لاپتہ ہے جس کا اب ہم بڑی شدت سے انتظار کر رہے ہیں کہ کب مجرم ہمیں ملے اور ہم کیفرکردار کو پہنچائیں۔ یاد رکھنا تب تک معاشرئے میں بہتری نہیں آ سکتی جب تک ہمیں مجرم کے ساتھ ساتھ جرم سے بھی نفرت نہیں ہو جاتی۔
تحریر:محمد عثمان


Comments