درخت اگائیں، زندگی بچائیں
انسانی زندگی کا دارومدار خوراک،پانی اور آکسیجن پر ہے خوراک اور پانی کے بغیر تو انسان چند دن زندہ رہ سکتا ہے مگر آکسیجن کے بغیر چند منٹ گزارنا بھی نا ممکن ہے آکسیجن کا سب سے بڑا ذریعہ درخت ہیں جن کو زمین کے پھپھڑے(Lungs)بھی کہاجاتاہے درخت آکسیجن کے ساتھ ساتھ خوراک کا بھی بڑا ذریعہ ہیں ان کی ضرورت و اہمیت کے متعلق تقریباََ دنیا کے ہر مذہب میں تلقین کی گئی ہے اسلام نے بھی درختوں کو کاٹنے کی ممانعت کی ہے محسن انسانیت حضرت محمدﷺ نے شجر کاری کو فروغ دینے کے لیے شجر کاری کو صدقہ جاریہ قرار دیا ہے ارشاد فرمایاکہ ''جو مسلمان درخت لگائے یا فصل بوئے پھر اس میں سے جو پرندہ یا انسان یا چوپایا کھائے تو پھر وہ اس کی طرف سے صدقہ شمار ہوگا''(بخاری)۔ آپ ﷺ نے شجر کاری کو اتنی اہمیت دی کہ دوران جنگ مفتوحہ علاقے میں فصلوں اور باغات کو نقصان پہنچانے سے سختی سے منع فرمایا ہے اور فرمایا کہ '' اگر قیامت کی گھڑی آجائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں پودا ہو اور وہ اس کولگا سکتا ہو تو لگائے بغیر کھڑا نہ ہو ''۔
اگر ہم انسان کے سانس لینے کے نظام پر غور کریں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ درخت اور ان سے حاصل ہونے والی آکسیجن ہمارے لیے کتنی زیادہ اہمیت کی حامل ہے ایک نارمل انسان ایک دن میں 550 لیٹر آکسیجن استعمال کرتا ہے جبکہ ایک صحت مند درخت 10صحت مند انسانوں یا35 بچوں کو آکسیجن فراہم کر سکتا ہے اس وقت 8ارب کی دنیا کے 30فیصد رقبے پر درخت موجود ہیں دنیا میں فی کس درختوں کی تعداد422ہے کینیڈا میں 10163 آسٹریلیا میں 4964 امریکہ میں 699 چین میں 130 انڈیا میں 28 جبکہ سبز ہلالی پرچم والے وطن عزیزمیں صرف 5 درخت فی کس ہیں انٹرنیشنل اداروں کے مطابق 2فیصد جبکہ پاکستانی اداروں کے مطابق 5فیصد رقبے پر جنگلات موجود ہیں اگر پاکستانی اداروں کی رپورٹ کو ہی درست مان لیں تو پھر بھی خطرناک حد تک کم ہیں اور جن کی مسلسل زوروشور سے کٹائی جاری ہے ابھی توگزشتہ سال دنیا بھر میں اپنی منفرد پہچان رکھنے والے پھلوں کے بادشاہ آم کے باغات کو کاٹ کر ملتان میں ہاوسنگ سوسائٹی کا قیام عمل میں لایا گیاہے جو کہ قابل شرم بات ہے جس کاخمیازہ ہم نے حالیہ سیلاب میں بھرپور طریقے سے ادا بھی کیا مگر پھر بھی ہوش نہیں آیا کہ ہم اب ہی کچھ درخت لگا لیں دوسری طرف گندم و سبزیوں کے بحران نے عام آدمی کا جینا محال کیا ہوا ہے جس کہ بنیادی وجہ زرعی زمینوں پر رہائشی کالونیا ں کااضافہ ہے دوسری طرف دنیا سائنس و ٹیکنالوجی کی مدد سے اپنی غیر آباد زمینوں کو زرعی زمینوں میں تبدیل کررہی ہے اس سال تاریخ میں پہلی مرتبہ دبئی حکومت نے ریت کے ٹیلوں کو سرسبزکھیتوں میں تبدیل کیا ہے اور گندم کی فصل کی کاشت کررکھی ہے جبکہ پاکستان میں بحیریہ ٹاؤن اور بسم اللہ سوسائٹی کے نئے فیز کا افتتاح بڑی دھوم دھام سے کیا گیااور لوگ زراعت پر توجہ دینے کی بجائے ہاؤسنگ سوسائیٹیز میں پیسہ لگا کر اپنے آپ کو زیادہ محفوظ سمجھتے ہیں حکومت کی بھی اس طرف توجہ نہ ہونے کے برابر ہے اگر ہم جنگلات و زراعت پر تھوڑی سی بھی توجہ مرکوز کرلیں تو ہم معاشی بحران سے بھی نکل سکتے ہیں مگر انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ شجر کاری بھی تصاویر کی حد تک ہی کرتے ہیں اگر کہیں کوئی چار درخت لگا بھی دیں تو حفاظت کوئی انتظام نہیں ہوتاہے ٹمبر مافیا مکمل آزاد ہے
اگر ہم دنیا کے خوب صورت خطوں کا جائزہ لیں تو گھنے جنگلات و باغات والے علاقے کو زیادہ خوب صورت مانا جاتاہے انسان فطری طور پر ماحول دوست ہے جو اپنے اردگرد صاف ستھرا ماحول پسند کرتا ہے جو کہ سبزے اور درختوں سے ہی ممکن ہے درخت ہی ہوا کو صاف کرتے ہیں خوراک اور استعمال کی لکڑی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ تیز آندھیوں،طوفانی بارشوں اور تباہ کن سیلاب، زمینی کٹاؤ اور موسم کی شدت سے بچاتے ہیں جس کا بخوبی اندازہ زمین کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور سیلابوں سے لگایا جاسکتا ہے حالیہ ہونے والی مون سون کی بارشوں نے پاکستان سمیت پور ے ایشیاء میں تباہی مچا رکھی ہے اگر ہم اپنے گریبان میں جھانکیں تو بحثیت قوم ہمیں معلوم ہوگا کہ ہم کتنی نااہل قوم ہیں کہ اسلام آباد جیسا شہر جو بنا ہی پہاڑی ڈھلوانوں پر ہے ہماری روز مرہ کی محنت سے پہاڑوں پر بھی سیلاب امڈ آیا اور ساحل سمند ر پر واقع شہر کراچی ہیٹ اسٹرک سے مرنے والوں کا مرکز بن چکا ہے جس کی ایک بڑی وجہ جنگلات کی کٹائی اور رئیل اسٹیٹ کے بزنس کا بے ہنگم پھیلاؤ ہے ریاست و قانون نام کی کہیں کوئی چیز نظر نہیں آتی جہاں جس کا دل چاہتا ہے کالونی بنا کر بیٹھ جاتا ہے اب یہاں پر ہماری نااہلی کی انتہا دیکھیں کہ مری اور ایبٹ آباد جیسے ٹھنڈے علاقے جہاں لمحوں میں موسلادھار بارش برس جاتی ہے اور کھانا پکانے کے لیے آگ جلانا ایک مشکل کام ہے وہاں جنگلات میں لگی خود ساختہ آگ بجھانا ہمارے لیے ناممکن ہوجاتا ہے ہماری بے حسی کا یہ عالم ہے کہ ہم اپنے ساتھ اور نہ ہی آنے والی نسلوں کے ساتھ مخلص ہیں
ایک دو پیڑ ہی سہی، کوئی خیابان نہ سہی
اپنی نسلوں کے لیے کچھ تو بچایاجائے
ہر شخص درخت کے نیچے بیٹھنا چاہتا ہے گاڑی درخت کے نیچے پارک کرنا چاہتا ہے اپنی تصویر کے عکس میں سرسبز میدان و باغات دیکھنا چاہتا ہے مگر درخت لگانا کوئی بھی نہیں چاہتا درختوں کی کٹائی کی روک تھام کے لیے سخت قوانین اور ان کے اطلاق کے لیے خصوصی فورس بنانی چاہیے بنجر زمینوں کو غربا میں تقسیم کردیا جائے، آئل و فیول کمپنیوں کو بنجر زمینیں الاٹ کرکے جنگلات اگانے پر قائل کیا جائے اسی طرح زمینی و فضائی ٹرانسپورٹ کمپنیوں سمیت ہر وہ کمپنی و ادارہ جو ماحول میں آلودگی کا سبب بن رہاہے ان کی رجسٹریشن او ر اجازت نامے کو جنگلات کے ساتھ منسلک کردینا چاہیے آلودگی کے حجم کے برابر درخت نہ لگانے والے ادارے کوبند کردیا جائے،شجر کاری کے سالانہ مقابلہ جات کروائے جائیں اچھی کارکردگی دیکھانے والے کو انعامات سے نوازاجائے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس بات کا خصوصی اہتمام کیا جائے کہ جہاں بھی درخت لگائے جائیں پھل دار لگائے جائیں جو آکسیجن کے ساتھ ساتھ پھل بھی دیں جس کو بیچ کر خطیر زرمبادلہ بھی کمایا جاسکتا ہے اکثر دیکھا یہی گیا ہے کہ حکومتی ادارے جہاں بھی شجر کاری کرتے ہیں ایسے درخت لگاتے ہیں جن کا سایہ ہوتا ہے نہ پھل اور نہ ہی لکڑی کسی کام کی ہوتی ہے مثلاََکونو، الٹا شوک،سفیدہ وغیرہ نہ جانے ہم اچھے کو بھی برا بنا کر کیوں کرتے ہیں؟بی آربی نہر کنارے میرے اپنے گاؤں میں محکمہ انہار اور جنگلات نے شجر کاری کی جس میں صرف سفیدے کے پودے لگائے گئے ہیں جو پانی کا بھی دشمن ہے لمبے قد کی وجہ سے فصلوں کو بھی نقصان پہنچاتا ہے اسی طرح اکثر جگہوں پر'' کونو''کے پودے لگائے جا رہا ہے جن پر پرندتک نہیں بیٹھتا اب آپ خود اندازہ کریں جس پودے پر پرندے نہیں بیٹھتے جن کا مسکن ہی درخت ہوتے ہیں وہ بھلا انسان کو کیا فائد ہ دے سکتا ہے اگر ہم نے پاکستان کو بنجر ہونے سے بچاناہے توہمیں شجر کاری کے معاملے میں ہر حال میں سنجیدہ ہونا پڑے گاورنہ ورلڈ بنک کی رپورٹ کے مطابق 2050تک پنجاب اور سندھ کے معتد د اضلاع بنجر بن جائیں گے جن میں پنجاب سے لاہور،ملتان اور فیصل آبادجبکہ سندھ سے میر پور خاص، سکھر اور حیدرآباد شامل ہیں ہمیں جنگلات کے اگاو اور زراعت کو سائنس و ٹیکنالوجی کے نت نئے طریقوں کو اپنانے کے لیے ہر حال میں سنجیدہ ہونا پڑے گا ورنہ ہماری آنے والی نسلیں قحط و بھوک سے مر جائے گی تاریخ کے اوراق اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ جو قومیں اپنے مستقبل کے ساتھ مخلص نہیں ہوا کرتیں تاریخ ان کی آنے والی نسلوں کو غلامی پر مجبور کر دیتی ہے۔


Comments