Skip to main content

Posts

Showing posts from January, 2022

فوجداری قوانين میں بڑی تبدیلياں

  فوجداری قوانین، 100 ترامیم، منشیات اور ریلوے مقدمات میں سزائے موت ختم، تفتیش 45 دن میں، غیرقانونی پولیس حراست پر 7 سال قید  وفاقی حکومت نے کریمنل لاءریفارمز2021ءکے تحت ضابطہ فوجداری ‘ضابطہ تعزیرات پاکستان اور قانون شہادت کی دفعات میں100سے زائد نمایاں تبدیلیاں تجویز کردیں‘ ریلوے ایکٹ اور منشیات کے مقدمات میں سزائے موت ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے‘پولیس کے سامنے دفعہ 161 ض۔ف کا بیان آڈیو /وڈیو ذرائع سے ریکارڈ کیا جا سکے گا‘ تفتیش 45روزکے اندر مکمل کی جائے گی‘. غیر قانونی پولیس حراست پر 7 سال قید کی سزاہوگی ‘قانون شہادت میں شہادت ریکارڈ کروانے کیلئے جدید الیکٹرانک ذرائع استعمال کرنے کی تجویز ہے، عدالت میں آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ،ای میل، فیکس، ٹیکسٹ پیغام بطور ثبوت تسلیم کئے جاسکیں گے. آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ کرنے والےکو بطور گواہ عدالت میں طلبی البتہ لازم نہیں ہوگی لیکن عدالت اطمینان کیلئے اسےطلب بھی کرسکتی ہے‘ درخواست ضمانت، بریت یا اخراج کو زیر التوا نہیں رکھا جاسکے گا‘ عدالت تین دن سے زیادہ کیلئے کیس کو ملتوی نہیں کرے گی جب تک کہ کوئی غیر معمولی وجوہات نہ ہوں لیکن عدالت کو وجہ تحر...

سلام ہو مری والو!

آج سے چند سال پہلے پنجاب سے کراچی جانے والی تیز گام ایکسپریس جولائی کے مہینے میں سندھ کے ریگستان میں خراب ہو گئی۔ ٹرین میں بچے، بوڑھے، خواتین بدترین گرمی میں محصور ہو گئے۔ وقت کے ساتھ ساتھ پانی اور دیگر اشیاء بھی ختم ہو گئی اور ٹرین گرمی کی حدت سے تپ کر بھٹی بن چکی تھی جس کی شدت سے بچے اور خواتین بلکنا شروع ہو گئے۔۔ اس سے پہلے کہ کوئی بڑا سانحہ ہوتا اور لوگ گرمی کی شدت سے ہلاک ہونا شروع ہوتے، چشم فلک نے دیکھا کہ دور سے لوگوں کا ایک ہجوم آ رہا ہے جنہوں نے ہاتھوں میں پانی کے کولر، کھانے کی دیگیں اور دیگر اشیائےخورد و نوش اٹھائی ہوئی تھیں۔ یہ قریب میں واقع گوٹھ کے رہائشی تھے جنہیں جب ٹرین کے حالات کا پتا چلا تو وہ بلکتے سسکتے مسافروں کے لئے اپنا سب کچھ اٹھا کر لے آئے اس سب کا  معاوضہ بھی لینے سے انکار کر دیا۔ اب علاقہ تبدیل کرتے ہیں، سندھ سے900 کلومیٹر دور یہ مری کا علاقہ ہے اور تاریخ ہے 7 جنوری۔ شدید برفباری میں ہزاروں سیاح پھنس چکے ہیں۔ گاڑیوں میں پٹرول ختم ہے، کھانے پینے کی اشیاء ختم ہو چکی ہیں۔لوگ شدید ٹھنڈ میں اپنی اپنی گاڑیوں میں محصور ہو چکے ہیں۔ شام ہوتے ہی سردی کی شدت مزید بڑ...

سانحہ مری

  زیرِ نظر تصویر میں وہ محافظ ہیں جو علاقے میں کسی بھی حادثہ/سانحہ پر پہنچنے والی فرنٹ لائن ہیں بے شک یہ ایک بے سروسامان، لاوارث اور اپنے ذرائع ابلاغ نہ رکھنے والے محکمے کے ملازم ہیں ان کے پاس میلوں رقبے پر پھیلے ریسٹ ہاٶس ہیں اور نہ ہی علاج معالجے کے لیے اپنے ہسپتال۔ کھانے پینے کا کوٸی انتظام ہے نہ ہی روڈ صاف کرنے کے لیے ہیوی مشینری مگر پھر بھی اپنی جان خطرے میں ڈال کر جذبہ انسانيت کے تحت اپنے فرائض سے بڑھ کرکام کرتے ہیں جس کا الگ سے کوٸی معاوضہ بھی نہیں ملتا مگر پھر بھی ان اللہ کے شیروں کی خدمات کو کبھی بھی نہیں دکھایا جاتا اور ہمیشہ ہائی جیک کیا جاتا ہے. ملک کے سوتیلے محافظ، جن کو کوئی میڈیا چینل نہیں دکھائے گا. شاید اس لیے کہ یہ اپنے کام سے کام رکھتے ہیں میڈیا ہاٶسز کو کنٹرول کرتے ہیں نہ ہی سیاست میں دلچسپی لیتے ہیں اور نہ ہی فرائض سے زیادہ کام کرنے کی اضافی تنخواہ ملتی ہے۔ Punjab Police Pakistan #PunjabPolicePakistanOfficial #PakistanPolice #PunjabPolice

ہیلتھ کارڈ کیا ہے؟

اس کا ظاہری چہرہ یہ ہے کہ ہر گھر کے سربراہ کے پاس ساڑھے سات لاکھ کے لگ بھگ روپے ہیں جن سے وہ فیملی کا علاج کروا سکتا ہے، یہ چہرہ خوشنما ہے، متاثر کن ہے کہ اب وہ پرائیویٹ ہسپتال بھی غریب کی دسترس میں ہیں جنہیں وہ پہلے افورڈ نہیں کر سکتا تھا۔ مگر ایک لمحہ ٹھہرئیے، اس پر او پی ڈی نہیں یعنی نوے فیصد سے زائد مریض ویسے ہی آوٹ ہو گئے جو ہسپتال میں داخل نہیں ہوتے۔ وہ علاج کہاں سے اور کیسے کروائیں گے کہ جب حکومت انشورنس کمپنیوں کو 400 ارب دے دے گی تو صحت کا روایتی انفراسٹرکچر چلانے کے لئے بجٹ کہاں سے لائے گی اور اس ہیلتھ کارڈ کی وجہ سے، اوپن مارکیٹ کمپی ٹیشن اور افراط زر کی بنیاد پر، پرائیویٹ علاج مزید مہنگا ہو جائے گا۔ دوسرے، آپ کو ملنے والا سات یا دس لاکھ کسی وزیراعظم یا حکومتی پارٹی کا نہیں آپ کا پیسہ ہے۔ قومی خزانے سے پہلے اس سے سرکاری ہسپتالوں میں براہ راست اچھا یا برا علاج ملتا تھا۔ یہ کامن سینس کی بات ہے کہ اب یہ پیسہ پہلے انشورنس کمپنی کے ٹھیکیدار کے پاس جائے گا جس میں سے وہ اپنا حصہ رکھنے کے بعد ہی آپ کا علاج کروائے گا۔  ایک طرف انشورنس کمپنی اور کرپٹ ڈاکٹروں کی ملی بھگت سے جعلی بل...

جس ملک میں ایک شرابی عورت کے اشارے پر ٹرانسفر ملک میں ایک شرابی عورت کے اشارے پر پولیس ٹرانسفری ہوتی ہو اس ملک کا کیا حال ہوتاہے؟

 یہ 1998 کی بات ہے مصر میں مشہور ڈانسر فیفی عبدو کا طوطی بولتا تھا،حکومتی ایوانوں سے بزنس کلاس فیفی کے ٹھمکوں کی زد میں تھے۔ قاہرہ کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں اپنے جلوے دکھانے کے بعد فیفی نے شراب پینے کیلئے بار کا رخ کیا،شراب زیادہ پینے کی وجہ سے وہ اپنے ہوش کھو بیٹھی اور بار میں ہنگامہ کھڑا کر دیا، ہوٹل میں وی آئی پیز کی سکیورٹی پر مامور پولیس آفیسر فوری وہاں پہنچ گیا،اس نے بڑے مودبانہ انداز میں فیفی سے کہا کہ آپ ایک مشہور شخصیت ہیں اس طرح کی حرکتیں آپ کو زیب نہیں دیتی۔ یہ آفیسر خوش مزاجی اور خوش اخلاقی کیلئے مشہور تھے اس ہوٹل میں قیام کرنے والی اہم شخصیات انہیں پسند کرتی تھیں،وہ ایک فرض شناس آفیسر تھے۔ فیفی کو پولیس آفیسر کی مداخلت پسند نہ آئی اس نے نشے کی حالت میں ہی اعلی ایوانوں کا نمبر گھمایا اور پولیس آفیسر کا کہیں دور تبادلہ کروایا۔ اگلی شام جب فیفی کا نشہ اترا اس نے ہوٹل انتظامیہ سے پولیس آفیسر کے متعلق پوچھا اسے بتایا گیا کہ آپ نے اس کا تبادلہ کروایا ہے فیفی نے فون گھمایا سرکار نے پولیس آفیسر کو واپس ہوٹل رپورٹ کرنے کا حکم دیا۔ پولیس آفیسر نے پولیس سے متعلقہ وزیر کو اپنا ا...

فیلڈ مارشل برنارڈ منٹگمری

  برطانوی مسلح افواج کے سربراہ  فیلڈ مارشل برنارڈ منٹگمری نے ریٹائرمنٹ کے بعد برطانوی وزیراعظم سے ملاقات میں درخواست کی کہ  میں اب بوڑھا ہو چکا ہوں، ریٹائرمنٹ کے بعد سوائے پنشن کے کوئی ذریعہ آمدنی نہیں ہے۔ کرائے کے مکان میں رہتا ہوں، بار بار مکان کی تبدیلی میرے لئے بہت تکلیف دہ ہے۔  آپ سے گزارش ہے کہ مجھے ایک مکان اور تھوڑی سی زرعی زمین الاٹ کر دیں تاکہ میں زندگی کے باقی ایام پرسکون طریقے سے گزار سکوں۔ وزیراعظم نے تحمل سے ساری بات سنی اور پھر جواب دیا۔ مسٹر منٹگمری یقینا آپ ہمارے قومی ہیرو ہیں۔ عالمی جنگ میں آپ نے تاج برطانیہ کے لئے شاندار خدمات دی ہیں جس کی ساری قوم معترف ہے لیکن جنرل صاحب آپ کو اس قومی خدمت ہر ماہ معقول معاوضہ دیا جاتا رہا ہے۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ  حکومت نے کسی مہینے آپ کو تنخواہ  ادا نہ کی ہو یا پھر کبھی آپ کی تنخواہ لیٹ ہو گئی ہو۔ اور اب جبکہ آپ ریٹائرڈ ہو چکے ہیں، اور ریاست کے لئے کوئی خدمت سرانجام نہیں دے رہے اس کے باوجود برطانوی حکومت  اپنے عوام کے ٹیکسوں کی رقم سے آپ کو رٹائرمنٹ فنڈ کے علاؤہ ہر ماہ معقول پنشن دے رہی ہے۔ ...

Muhammad Hafeez

 حفیظ ایک لمبے عرصے کے لیئے پاکستانی ٹیم کی ضرورت رھے ، شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا ایماندار کھلاڑی تھے اور بہت محنتی بھی۔ اپنی کرکٹنگ سینس کی وجہ سے پروفیسر بھی کہلائے اور اوور آل ٹیم ممبرز میں بھی بہت عزت کمائی، پورے کیرئیر میں تنازعات سے بھی بچے رھے۔ المختصر ایک بہت اچھے کھلاڑی نے آج ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا۔ ھم حفیظ کو شاندار داد و تحسین کے ساتھ انٹرنیشنل کرکٹ سے خدا حافظ کہتے ھیں اور امید کرتے ھیں کہ وہ اپنے تجربے کو پاکستان کرکٹ کی بہتری کے لئے استعمال کریں گے۔ MuhammadHafeez   Cricket # retirement