اندھیری رات تھی گھڑی پر 3 بج رہے تھے۔پوری قوم آغوش خواب میں تھی کہ اچانک بزدل دشمن نے وطن عزیز پر حملہ کر دیا جو کہ اس کی فاش غلطی تھی دشمن کو شاید اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ سویا ہوا شیر جاگتے ہوئے شیر سے زیادہ خطر ناک ہوتا ہے پھر وہی ہوا جس کا دشمن کو ڈر تھا چشم فلک نے پھر وہ نظارے بھی دیکھے جو شاید اپنی پوری تاریخ میں کبھی نہ دیکھے تھے۔
بھارت 1962ء کی جنگ میں چین سے شکست خوردہ فوج کو اپنے سے تین گناکمزور پاکستان سے لڑا کر حوصلے بلند کرنا چاہتا تھا دنیا پر اپنی طاقت کی دھاک بٹھا نا چاہتا تھا۔بھارت نے پاکستان کو آسان خدف سمجھ رکھا تھا کیونکہ وہ تقسیم ہندوستان کے وقت پاکستان کے حصے میں آنے والے بوسیدہ جنگی سازوسامان سے بخوبی واقف تھا لیکن یہاں معاملہ الٹ تھا پاکستانی قوم کو ہتھیاروں سے زیادہ اپنے اللہ پر بھروسہ تھا۔وہ بچے جنھوں نے قیام پاکستان کے وقت اپنے پیاروں کوکٹتے دیکھا تھا بہنوں کی عزتیں لٹتی دیکھیں تھی آ ج وہ جری جوان جذبہ حب الوطنی کے تحت پاک فوج کاحصہ بن چکے تھے وہ جو کل ناتواں تھے ان18 سالوں میں طاقتور ہو چکے تھے وہ موقع کی تلاش میں تھے انتقام کا لاوا پھٹ پڑنے کو تھا کہ آبیل مجھے مار کے مصداق ابتدادشمن نے خود ہی کر دی۔ دشمن کو اپنی بے پنا ہ عسکری طاقت پر غرور تھا مگر وہ جانتا نہ تھا کہ جنگیں ہتھیاروں سے نہیں حوصلو ں سے لڑی جاتی ہیں پھر دنیا نے بدمست ہاتھی کا غرور خاک میں ملیا میٹ ہوتے اور چانکیہ کے چیلوں کی چالیں الٹ ہوتی دیکھیں
دشمن کو شاید اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ اس نے کس قوم کو للکارا ہے۔ وہ قوم جس کے جوان آگ سے کھیلنا اپنا مشغلہ سمجھتے ہوں جو دریاوں کے سینے چاک کرنے اور پہاڑوں کی چو ٹیوں کو سر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں فضاؤں میں پرواز کریں تو ہواؤں کا رخ موڑ دیں جس قوم کی بیٹیاں اپنا سہاگ وطن عزیز پر قربان کرکے بھی فخر محسوس کرتی ہوں جس قوم کی مائیں اپنے جوان بیٹے وطن پہ قربان کر کے بھی صرف اس لیے افسردہ ہوں کہ صرف چار بیٹے تھے جو قربان ہو گئے کاش اور بھی ہوتے جن کو یکے بعد دیگرے قربان کرتی چلی جاتی۔اس قوم کو کون شکست دے سکتا ہے جس کے بیٹے سپاہی مقبول حسین جیسے ہوں جس کی بھارتی قید میں پاکستان زندہ باد کے نعرے لگانے کے جرم میں زبان کاٹ دی جائے اور وہ قوم کا بہادر سپوت زبان سے بہنے والے لہو سے دیوار زنداں پر پاکستان زندہ باد کا نعرہ کندہ کر دے۔ وہ دشمن جو 6 ستمبر کی صبح کا ناشتہ جم خانہ کلب لاہور میں کرنے چلا تھا رات کا جام اسلام آباد کے کہساروں میں اچھالنے کا بچگانہ خواب آنکھوں میں سجا رکھا تھا مگر انھیں کیا معلوم تھا کہ زندگی بھر کا کھانا بھول جائیں گے۔آخر بھولتے بھی کیوں نہ کیونکہ دشمن ہماری تاریخ سے سے ناواقف تھا وہ سلطان صلاح الدین ایوبی ؒاور محمد بن قاسمؒ کے سپاہیوں محمود غزنویؒ کے متوالوں اور محمدعربی ﷺ کے غلاموں کے جذبہ ایمانی سے نا واقف تھا وہ نہیں جانتا تھا کہ اس قوم کے پاس محمد محمود عالم (ایم ایم عالم) جیسے جانباز شاہین موجود ہیں جو طیاروں کو بھی پتنگوں کی طرح اڑانے میں کمال مہارت رکھتے ہیں پھرچشم فلک نے پہلی اور شاید آخری دفعہ 50 سیکنڈ میں دشمن کے 5 طیاروں کو تباہ ہوتے دیکھا توپوری دنیا ورطہ حیرت میں گم تھی دشمن جنگ ستمبر کے ہیرو میجر عزیز بھٹی شہید کو بھی نہ جانتا تھا جس نے 6 دن بھوکے پیاسے رہ کر دشمن کی پیش قدمی کو روکے رکھا اپنے سے تین گنا طاقت ور دشمن کو چھ دنوں میں ایک انچ بھی آگے نہ بڑھنے دیا۔
فضائیہ اور بری فوج کے ساتھ ساتھ بحری فوج بھی کسی سے کم نہ تھی انھوں نے 9ستمبر کو کراچی سے 210 میل دور '' دوارکا'' کے قلعے پر سبز ہلالی پرچم لہرا دیا تھا ہر محاذ پر شکست سے دو چار دشمن یک جاں ہو کر سیالکوٹ میں چونڈہ کے محاذ پر اپنی مجموعی طاقت آزمانے آ رہا تھا جو کہ جنگ عظیم دوئم کے بعد ٹینکوں کی سب سے بڑی لڑائی تھی مگر پاکستانی نوجواں نے اپنے جسموں کے ساتھ بم باندھ کر ٹینکو ں کے نیچے لیٹ گئے اور یہاں بھی دشمن کو منہ کی کھانی پڑھی۔14ستمبر کو پاکستان نے بھارتی ریلوے اسٹیشن '' موناباؤ'' پر بھی قبضہ کر لیا۔
یوں یہ جنگ 17 روز تک جاری رہی جس میں پاکستان نے تقریباً ایک ہزار چھ سو سترہ مربع میل پر دشمن کے علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔
مگر پھر کیا تھا وہی ہوا جس کا ڈر تھا 23 ستمبر کو فتح سمیٹتے فوجی جوانوں پر جنگ بندی کی خبر بجلی بن کر گری اس وقت ہمارے جوانوں اور عوام پر جو گزری وہ ایک الگ موضوع کا متقاضی ہے ہماری ناقص خارجہ پالیسی کی بدولت ہم میدانوں کی جیتی ہوئی جنگ مذاکرات کے میز پر ہار گئے۔ ہمارے جوانوں کے دل ابل کر باہر آ رہے تھے گویا ان کے تو ہاتھ پاؤں ہی باندھ دیے گئے تھے ایک واضع فتح ان سے چھین لی گئی تھی مگر آج کے حالات 1965ء سے بھی زیادہ نازک صورت حال اختیار کیے ہوئے ہیں ایک موثر خارجہ پالیسی کی جتنی ضرورت ہمیں آ ج ہے شاید اس سے پہلے کبھی نہ تھی۔ہمیں اپنے شہیدوں اور غازیوں کی قدر کرنا ہو گی کیونکہ جو قومیں اپنے شہیدوں اور غازیوں کی قربانیوں کو فراموش کر دیتی ہیں تاریخ انھیں خرف غلط کی طرح مٹا دیا کرتی ہے۔ہمیں یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ ایک شکست خوردہ فوج ہمیشہ صلح اور امن کی طرف راغب ہوتی ہے لیکن فاتح لشکر کو ایک کامیابی دوسری کامیابی کا راستہ دیکھاتی ہے تو پھر کیوں ہم ایک جیتی ہوئی جنگ ہار گئے؟ کیوں ہم حق پر ہوتے ہوئے بھی پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوئے؟کیوں ہم نے اپنے شہیدوں کے خون کا سودا کیا؟کیوں ہم اپنا حق حاصل کر کے بھی اپنا نہ کر سکے؟
یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات شہیدوں کی روحیں آج بھی ہم سے مانگ رہی رہیں اور شاید تاقیامت ہم ان سوالات کے جوابات نہ دے سکیں گے۔
پاکستان زندہ باد
پاک فوج پائندہ باد


Comments