Skip to main content

LAW-GAT/LAT


اگر کسی ملک کی ترقی کو پرکھنا ہو تو تعلیمی پالیسیوں کو  پرکھ لینا چاہئے کہ تعلیم کا معیار کیا ہے ادارے کس طرح کے سٹوڈنٹس پروان چڑھا رہے ہیں۔۔ 

مانا کہ وکیل بننا ہمارا Constitutional right نہیں ہے تو کیا ڈاکٹرز یا نرسز کا یہی Constitutional right ہے؟ معیاری تعلیم کی فراہمی Responsibility of State ہے جو کہ State دسویں جماعت تک ہی سٹوڈنٹس کو فراہم کرتی ہے پھر انٹرمیڈیٹ لیول پر بچے اپنی فیلڈ کا تعین کر لیتے ہیں تو جناب ایک بچہ جو اپنے خرچے پہ قانون کی تعلیم حاصل کر رہا ہے تو کیا یہ اسکا حق نہیں ہے کہ اسے بھی باقی پروفیشنز کی طرح وکالت کا لائسنس جاری کیا جائے، قانون کا طالبعلم نہ تو سرکار پر بوجھ بن کر کوئی Stipend during studies لیتا رہا نہ آگے State پر بوجھ بننے جا رہا ہے ۔۔۔

1973 کے بار کونسلز اس ملک میں بنے ہیں اور تب سے ہی لائسنسز بار کونسلز جاری کر رہے ہیں بغیر اس بات کو پرکھے کہ آیا کس کو قانون کا کتنا علم ہے یا کتنا وہ قانون کو جانتا ہے ۔۔۔ چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب کے تو کیا ہی کہنے وہ تو اس ملک میں ہر چیز ٹھیک کرگئے ڈیمز لگوا گئے، تمام پینڈنگ کیسز نمٹا گئے سپریم کورٹ تک نیچے سے لے کر۔۔۔ ہر طرح کا سو موٹو ایکشن لیا انھوں نے لیکن وہ کام انھوں نے نہ کیا جس کے لئے انھیں چیف جسٹس آف پاکستان بنایا گیا تھا 

1973 سے 2018 تک نہ تو کوئی جعلی وکیل بنا نہ کوئی جعلی ڈگری جاری ہوئی، نہ کسی چیف جسٹس کا امتحان لیا گیا کہ وہ قانون کو کتنا جانتا ہے یا وہ چیف جسٹس بننے کے قابل بھی ہے یا نہیں! 

2018 سے چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب کی پیداوار LAW GAT کی صورت میں بچوں پر مسلط ہے یاد رہے قانون کی تعلیم حاصل کرنے سے پہلے بھی ایک ٹیسٹ لیا جاتا ہے جسے LAT کہتے ہیں جو اس چیز کو پرکھنے کے لیے لیا جاتا ہے کہ آیا ایک بچہ قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے قابل بھی ہے یا نہیں(افسوس یہ وہی ملک ہے جس نے دشمن کے بچوں کو بھی پڑھانا ہے)



اگر آپ نے LAW GAT لینا ہی ہے شوقیہ طور پر تو لیں ضرور لیں لیکن پہلےاس بات کو باور کر لیں کہ کیا ایسی تعلیم سٹوڈنٹس کو دی جارہی ہے کہ بچے قانون کو حفظ کرکے نکل رہے ہوں( سرکاری یونیورسٹیز کو نکال کے باقی پرائیویٹ لاء کالجز میں جو معیار تعلیم چل رہا ہے یا جو اساتذہ وہاں پڑھا رہے ہیں ان کی قابلیت کیا ہے یہ دیکھ لیں افسوس کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ۔۔۔ خیر سرکاری یونیورسٹیز بھی جس قدر تعلیم کی فراہمی میں کوشاں ہیں وہ الگ موضوع ہے)


آخری بات کہ LAW GAT اگر HEC کے سپرد کر ہی دیا گیا ہے جو کہ Supreme Body Of Education In our Country ہے تو کیا اس بات کا کسی کو علم ہے کہ LAW GAT کونسا چیف جسٹس بنا رہا ہے کیونکہ چیف جسٹس ہی بہتر سمجھتا ہے کہ ڈگری مکمل ہونے پر سٹوڈنٹس کو کتنی قانون میں Command حاصل ہے تو جواب ہے کہ چیف جسٹس تو دور بار کونسلز کی رائے بھی پیپر بناتے وقت شامل نہیں کی جاتی 

تو کونسی Legal reforms کی بات کی جاتی ہے HEC/PAKISTAN BAR COUNCIL کی طرف سے؟

نہ تو معیاری تعلیم سٹوڈنٹس تک پہنچی نہ ہی ٹیسٹ کسی Command at Law شخص نے بنایا تو بچے روئیں گے نہیں تو اور کیا کریں گے؟


اس بات کا واویلا مچانا کہ قانون سارا پڑھ لیا لیکن ٹیسٹ دیتے ہوئے روتے ہیں تو پہلے یہی ٹیسٹ اعلیٰ عدلیہ سے حل کروائیں ہم نہیں روئیں گے

ڈاکٹرز جو سرکاری اخراجات پر بنتے ہیں انکے لیے MBBS کے بعد کوئی ایسا ٹیسٹ نہیں ڈگری ہی سب کچھ ہےاور نرسز جو معاوضہ لے کر اپنی ڈگری مکمل کرتی ہیں انکے لیے بھی ڈگری کے بعد لائسنس لینے کے لیے کوئی ٹیسٹ نہیں تو یہ ناروا سلوک قانون کے طالبعلموں کے ساتھ ہی کیوں؟

آپکی رائے درکار ہے 


عثمان منظور

Comments

Popular posts from this blog

شجر کاری خدمت بھی عبادت بھی

انسانی زندگی کا دارومدار خوراک،پانی اور آکسیجن پر ہے خوراک اور پانی کے بغیر تو انسان چند دن زندہ رہ سکتا ہے مگر آکسیجن کے بغیر چند منٹ گزارنا بھی نا ممکن ہے آکسیجن کا سب سے بڑا ذریعہ درخت ہیں جن کو زمین کے پھپھڑے(Lungs)بھی کہاجاتاہے درخت آکسیجن کے ساتھ ساتھ خوراک کا بھی بڑا ذریعہ ہیں ان کی ضرورت و اہمیت کے متعلق تقریباََ دنیا کے ہر مذہب میں تلقین کی گئی ہے اسلام نے بھی درختوں کو کاٹنے کی ممانعت کی ہے محسن انسانیت حضرت محمدﷺ نے شجر کاری کو فروغ دینے کے لیے شجر کاری کو صدقہ جاریہ قرار دیا ہے ارشاد فرمایاکہ ''جو مسلمان درخت لگائے یا فصل بوئے پھر اس میں سے جو پرندہ یا انسان یا چوپایا کھائے تو پھر وہ اس کی طرف سے صدقہ شمار ہوگا''(بخاری)۔ آپ ﷺ نے شجر کاری کو اتنی اہمیت دی کہ دوران جنگ مفتوحہ علاقے میں فصلوں اور باغات کو نقصان پہنچانے سے سختی سے منع فرمایا ہے اور فرمایا کہ '' اگر قیامت کی گھڑی آجائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں پودا ہو اور وہ اس کولگا سکتا ہو تو لگائے بغیر کھڑا نہ ہو ''۔ اگر ہم انسان کے سانس لینے کے نظام پر غور کریں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ درخت...

فوجداری قوانين میں بڑی تبدیلياں

  فوجداری قوانین، 100 ترامیم، منشیات اور ریلوے مقدمات میں سزائے موت ختم، تفتیش 45 دن میں، غیرقانونی پولیس حراست پر 7 سال قید  وفاقی حکومت نے کریمنل لاءریفارمز2021ءکے تحت ضابطہ فوجداری ‘ضابطہ تعزیرات پاکستان اور قانون شہادت کی دفعات میں100سے زائد نمایاں تبدیلیاں تجویز کردیں‘ ریلوے ایکٹ اور منشیات کے مقدمات میں سزائے موت ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے‘پولیس کے سامنے دفعہ 161 ض۔ف کا بیان آڈیو /وڈیو ذرائع سے ریکارڈ کیا جا سکے گا‘ تفتیش 45روزکے اندر مکمل کی جائے گی‘. غیر قانونی پولیس حراست پر 7 سال قید کی سزاہوگی ‘قانون شہادت میں شہادت ریکارڈ کروانے کیلئے جدید الیکٹرانک ذرائع استعمال کرنے کی تجویز ہے، عدالت میں آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ،ای میل، فیکس، ٹیکسٹ پیغام بطور ثبوت تسلیم کئے جاسکیں گے. آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ کرنے والےکو بطور گواہ عدالت میں طلبی البتہ لازم نہیں ہوگی لیکن عدالت اطمینان کیلئے اسےطلب بھی کرسکتی ہے‘ درخواست ضمانت، بریت یا اخراج کو زیر التوا نہیں رکھا جاسکے گا‘ عدالت تین دن سے زیادہ کیلئے کیس کو ملتوی نہیں کرے گی جب تک کہ کوئی غیر معمولی وجوہات نہ ہوں لیکن عدالت کو وجہ تحر...

Plantation

 درخت اگائیں، زندگی بچائیں  انسانی زندگی کا دارومدار خوراک،پانی اور آکسیجن پر ہے خوراک اور پانی کے بغیر تو انسان چند دن زندہ رہ سکتا ہے مگر آکسیجن کے بغیر چند منٹ گزارنا بھی نا ممکن ہے آکسیجن کا سب سے بڑا ذریعہ درخت ہیں جن کو زمین کے پھپھڑے(Lungs)بھی کہاجاتاہے درخت آکسیجن کے ساتھ ساتھ خوراک کا بھی بڑا ذریعہ ہیں ان کی ضرورت و اہمیت کے متعلق تقریباََ دنیا کے ہر مذہب میں تلقین کی گئی ہے اسلام نے بھی درختوں کو کاٹنے کی ممانعت کی ہے محسن انسانیت حضرت محمدﷺ نے شجر کاری کو فروغ دینے کے لیے شجر کاری کو صدقہ جاریہ قرار دیا ہے ارشاد فرمایاکہ ''جو مسلمان درخت لگائے یا فصل بوئے پھر اس میں سے جو پرندہ یا انسان یا چوپایا کھائے تو پھر وہ اس کی طرف سے صدقہ شمار ہوگا''(بخاری)۔ آپ ﷺ نے شجر کاری کو اتنی اہمیت دی کہ دوران جنگ مفتوحہ علاقے میں فصلوں اور باغات کو نقصان پہنچانے سے سختی سے منع فرمایا ہے اور فرمایا کہ '' اگر قیامت کی گھڑی آجائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں پودا ہو اور وہ اس کولگا سکتا ہو تو لگائے بغیر کھڑا نہ ہو ''۔ اگر ہم انسان کے سانس لینے کے نظام پر غور کریں...