اقلیم اختر رانی المعروف ''جنرل رانی'' ، ملکہ ترنم میڈم نور جہاں اور مشہور اداکارہ ''ترانہ'' ایک ہی کہانی کے تین کردار- اور اس کہانی کا مرکزی ہیرو جنرل یحییٰ خان -
راقم ترانہ پر پہلے ایک تحریر قلم کرچکا ہے اگلی پوسٹ میں قارئین کی یاددہانی کے لیے پھر سے دہرایا جائے گا لیکن آج کی یہ تحریر جنرل رانی کے نام جس کا ذکر حامد میر نے بھی ملک کے مقتدر حلقوں کو مخاطب کرکے اپنے حالیہ بیان میں کیا ہے -
کہتے ہیں کہ بحرِ اوقیانوس پر ایک تتلی کے پروں کی پھڑپھڑاہٹ سے ہوا میں معمولی انتشار پیدا ہوتا ہے، جو مختلف موسمی اور ماحولیاتی مرحلے طے کرتے کرتے بالآخر جا کر امریکہ میں شدید بحری طوفان کا باعث بن جاتا ہے
60 کی دہائی کے اوائل کا ذکر ہے کہ اقلیم اختر اپنے خاوند کے ساتھ مری کی مشہور مال روڈ پر چہل قدمی کر رہے تھیں۔ خاتون نے اس وقت کے عام دستور کے مطابق برقع اوڑھ رکھا تھا۔ اس دوران اچانک ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا آیا
مری کے مال روڈ پر چلنے والے اس جھونکے نے وہ الاؤ بھڑکایا جس نے آنے والے برسوں میں بہت سوں کے کردار اور کیریئر کو جلا کر راکھ کر دیا۔
اقلیم اختر نے 2002 میں نیوز لائن کی عائشہ ناصر کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ جھونکے کا لمس اپنے چہرے پر محسوس کرنے کے لیے انہوں نے ایک لمحے کو نقاب اٹھا دیا۔ روایتی تھانے دار خاوند کو اپنے چھ بچوں کی ماں کا چہرہ مال روڈ پر لوگوں کے درمیاں یوں عریاں ہونا پسند نہیں آیا اور انہوں نے بیوی کو ڈانٹ پلائی بلکہ اپنی پولیس کی چھڑی سے ٹہوکا بھی دے دیا۔
اقلیم اختر کہتی ہیں کہ بس یہی وہ لمحہ تھا جس نے ان کے اندر بغاوت کا شعلہ بھڑک گیا۔ خاوند کی ڈپٹ میں انہیں اتنی ذلت محسوس ہوئی کہ انہوں نے وہیں اپنا برقع نوچ کر مال روڈ پر پھینک دیا۔
اسے طاقتور مردوں کے حاکمانہ رویے سے نفرت تھی۔اور اس کے خیال میں ایسے مردوں کو اپنی بھڑاس نکالنے کےلئے بستر فراہم کرکے طاقت کی یہ بازی جیتی جاسکتی ہے۔ اس نے وہیں وہ برقع اتار پھینکا اور اپنےشوہر کو چھوڑ کر راولپنڈی آگئی۔جہاں اس نے مردوں کی خواہشات پوری کرنے کےلئے ایک ایجنسی کھول لی۔اور کئی لڑکیاں رکھ لیں۔ شہر کی بڑی بڑی اور طاقتور شخصیات کا یہاں آنا جانا شروع ہوگیا ۔جن میں جنرل یحییٰ بھی شامل تھے۔پھر تو جنرل یحییٰ بیگم اقلیم اختر کی زلفوں کے اس مہمان خانے کے ایسے رسیا بن گئے کہ اکثرو بیشتر ہی یہاں آنے جانے لگے۔
یہ تھی آغا جانی اور جنرل رانی کی ابتداء عشق کی کہانی،
جنرل یحییٰ کو جنرل رانی پیار سے آغا جانی کہہ کر پکارتی جب کہ فوجی اثرورسوخ کی وجہ سے اقلیم اختر جنرل رانی کے نام سے مشہور تھی کہتے ہیں کہ یہ نام اس کو ذوالفقار علی بھٹو نے دیا تھا -
1965میں پاکستان اور بھارت کی جنگ چھڑ گئی۔لکھنے والے لکھتے ہیں کہ یحییٰ خان اس وقت چھمب جوڑیاں سیکٹر میں انچارج تھے۔وہ جنگی محاذوں سے بھی فرصت نکال کر ہیلی کاپٹرکے ذریعے بیگم اقلیم اختر کے پاس آجاتے تھے۔
ایک دلچسپ حقیقت آپ کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ پاکستان کے دو مشہور گلوکار عدنان سمیع خان جو اب بھارت میں رہائش پذیر ہیں اور فخر عالم جنرل رانی کے نواسے ہیں -
منقول

Comments