چانکیہ کے چیلوں کی کامیاب سیاست

تقریبادو سال ہوچکے ہیں مودی حکومت نے کشمیری مسلمانوں کو اپنے ہی گھروں میں قید کر رکھا ہے جوبھی اس ظلم کے خلاف آواز بلند کرتا ہے اسے شہید کردیاجاتا ہے جس کی چاہے عزت لوٹ لی جاتی ہے۔کشمیریوں کی آمدن اور خوراک کا واحد ذریعہ باغات کاٹے جارہے ہیں سیاحت پر پابندی عائد ہے انٹرنیٹ بند کرکے عالمی دنیا سے رابطے منقطع کیے جاچکے ہیں تمام نظام زندگی مفلوج ہو چکاپورے انڈیا میں تیس کروڑ مسلمانوں کی شہریت تقریبا ختم کی جاچکی ہے ان سے بھارت کا شہری ہونے کا حق چھینا جاچکا ہے جس کی بنا پر وہ اب کسی بھی قسم کی جائیداد کے مالک نہیں بن سکتے اور نہ ہی کوئی نوکری کر سکتا ہے۔مساجداور مسلم آبادی پر حملے روز کا معمول بن چکا ہے۔ملک بھر میں ہونے والی کسی بھی خرابی کا ذمہ دار مسلمانوں کو ہی ٹھہرایا جاتا ہے۔یہاں تک کہ عالم اسلام کے عظیم رہنما و مفکر ڈاکٹر ذاکر نائیک کی شہریت ختم کر کے انھیں دہشت گرد قرار دے کر گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے جاچکے ہیں جو اب جلاوطنی کی زندگی جی رہے ہیں اور ان کا چینل بھی انڈیا میں بند ہے ان سب مظالم کے باوجود عالمی دنیا ستو پی کرسوئی رہی اب جب ظلم اس حد تک پہنچا کہ لفظ ''ظلم'' چھوٹا سمجھا جانے لگا تو امید تھی کہ شائد بھارت کو FATF کی بلیک لسٹ میں ڈال دیا جائیگا اور ان بھارتی مظالم میں کچھ حد تک نرمی متوقع تھی۔مگر چانکیہ کے چیلوں نے ایسی چال چلی کہ کل کا ظالم آج کا مظلوم بن گیا کل کا دہشت گرد آج رحم کا مستحق قرار پایا کل کا فرعون آج کا مظلوم موسیٰ ٹھہرا۔ہوا کچھ یوں کہ مودی سرکار نے کروناوائرس کے خطرات کے باوجودایسے وقت میں سیاسی و مذہبی پرہجوم سرگرمیاں جاری رکھیں جبکہ دنیا کا سب سے بڑا عالمی مذہبی اجتماع حج و عمرہ گزشتہ دو سالوں سے اپنی آب و تاب کھو چکا ہے وٹی کن سٹی کے چرچ اور سکھوں کے گردوارے ویران پڑے ہیں پوری دنیا میں سیاسی و مذہبی سرگرمیاں بری طرح مفلوج ہوئی پڑی ہیں مگر مودی سرکار نے جان بوجھ کر تمام خطرات کو بالاطاق رکھتے ہوئے بھر پور ہولی و دیوالی کے تہوار منائے کھمب میلے کے موقعہ پر گنگاہ میں اجتماعی غسل سے پاک صاف ہونے کی ناکام کوشش بھی کرتے رہے جس میں پورے بھارت سے لوگوں نے حکومتی سرپرستی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور ڈیڑھ ارب لوگوں کے سمندر کو کرونا جیسی جان لیوا مرض میں دھکیل دیا گیا جبکہ یہی مودی سرکار گزشتہ سال تبلیغی جماعت پر کرونا وائرس کے پھیلاو کا الزام لگا کر ظلم و ستم ڈھاچکی ہے بظاہر اس لاپرواہی کی بدولت آج بھارت کی یہ حالت ہوئی پڑی ہے کہ لوگ فٹ پاتھ،ریڑھیو ں اور ٹھیلوں پر سسک کر مر رہے ہیں کوئی دفنانے والا نہیں شمشان گھاٹ پر لمبی لائنیں لگی ہوئی ہیں جلانے کی جگہ اور لکڑی دونوں کم پڑ رہی ہے اور دنیا سے ہمدردیاں بھی سمیٹی جارہی ہیں مسلمانوں سے سحری و افطاری میں دعائیں کروانے کے لیے پولیس کی طرف سے اعلانات بھی کروائے جارہے ہیں

آپ یہاں ذرا مودی سرکار کے دوسرے چہرے کا جائزہ لیں کہ ایک طرف مسلم دشمنی میں مسلمانوں کی ملکیت کے باغات وجنگلات کاٹے جارہے ہیں جو کہ پھل اور لکڑی کے ساتھ ساتھ پورے بھارت کے تمام شہریوں کویکساں آکسیجن فراہم کرتے تھے مگر" پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے "یہاں آپ اجتماعی جہالت کا اندازہ بھی لگا سکتے ہیں کہ آکسیجن کی کمی کے باعث ہلاک ہونے والوں کو آکسیجن پیدا کرنے والے درختوں کی لکڑیوں سے جلا کر راکھ کر دیا جاتا ہے۔
اس ساری صورت حال میں آپ مسلمانوں کا بڑا پن، ظرف،انسانی ہمدردی یا بیوقوفی(کچھ بھی کہا جاسکتا ہے)ملاحظہ فرمائیں کہ بھارت کی موجودہ پوزیشن اور حکومتی پالیسیوں کا چولی دامن کا ساتھ لگتا ہے اور ہم مسلمان بلخصوص پاکستانی عوام جو چند لمحوں میں چانکیہ کی چالوں میں آگئے اور کشمیری ماوں کی اجڑی گودیں،بہنوں سے چھینے بھائی،دلہنوں کے اجڑے سہاگ بھول گئے اور بھارت دنیا کو یہ تاثر دینے میں کامیاب ٹھہرا کہ یہ جو بھارتی سرکار کی سرپرستی میں ہندووں تنظیموں (RSS,BJP)کی طرف سے مسلمانوں پر ناروا سلوک کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے سراسر جھوٹ ہے دیکھیں جی اگر ہم اتنے ہی ظالم ہوتے تو سب سے پہلے آکسیجن کے ٹینک بھجنے والا ملک عالم اسلام کا روحانی مرکز سعودی عرب نہ ہوتا اور دنیا بھر میں سب سے زیادہ بلکہ ضرورت سے بھی زیادہ ہمارے غم میں نڈھال ہونے والا ملک پاکستان اور اس کے شہری نہ ہوتے۔ایسا نہیں ہے کہ ہم نے انسانی ہمدرد ی کی بنیاد پر امداد کرکے اور اظہاریکجہتی کرکے غلط کیا ہے مگر ہمیں اس امداد اور ہمدردی کے ساتھ بھارت اورعالمی دنیا سے کشمیر سے کرفیو اٹھانے کا مطالبہ بھی کرنا چاہیے تھادہلی اور بمبئی میں آکسیجن و ایمبولینس پہنچاتے وقت سرینگر ہسپتال میں سسکتے مرتے کشمیریوں کا خیال بھی رکھنا چاہیے تھا بھارت کی آشیر آبادسے برما کے مظلوم مسلمانوں پر گزری قیامت صغراٰ اور اب میانمار سے جلاوطنی کے بعد بنگلہ دیش کے کمیپوں میں موت کے منتظر انسانوں کا خیال بھی رکھنا چاہیے تھا سعودی عرب کو اپنی ناک کے نیچے سجدہ عشق کو ترستی مسجد اقصیٰ کا خیال بھی رکھنا چاہیے تھا غزہ جسے دنیا کی سب سے بڑی جیل بھی کہا جاتاہے وہاں کیمپوں میں پانی کو ترستے بچوں کا احساس بھی ہونا چاہیے تھا مگر افسوس کہ ہم کب چانکیہ کے چیلوں کی چالاکیاں سمجھ پائیں گے کہ جنھوں نے مسلمانوں پر ظلم ستم بھی کرلیے اور مسلمانوں سے امداد و ہمدردیاں بھی حاصل کر لی اب دنیا کو یہ بتاتے پھریں گے کہ امت مسلمہ تو ہمارے ساتھ ہے ہم سے خوش ہے بس یہ چند سر پھرے ہیں جو ہم پر مسلم نسل کشی کا الزام لگاتے ہیں ہمیں انسانیت کے نام پر اظہار ہمدردی کی آواز ضرور بلند کرنی چاہیے تھی مگر انڈیا کی خارجہ پالیس کا شکار نہیں بننا چاہیے تھا۔
کالم نگار: محمد عثمان
روزنامہ:تحریر پاکستان
01-05-2021
Comments