وہ ہالینڈ کی یونیورسٹی آف ڈیلفٹ میں زیر تعلیم تھا غیر معمولی صلاحیتوں کا حامل نوجوان جذبہ حب الوطنی سے سرشار سات سمندر پار بھی اپنے ملک کے لمحہ بہ لمحہ بدلتے حالات سے باخبر اور خوفزدہ تھا۔ آخر کار اس نوجوان کو تاریخ کا وہ بد ترین دن بھی دیکھنا ہی پڑا جب اس کے ملک کی فوج نے دشمن فوج کے آگے ہتھیار ڈال دیے جو تا ریخ کی بد ترین شکست ثابت ہوئی اور پاکستان دولخت ہو گیا اس نوجوان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا اور پھوٹ پھوٹ کر رویا جو اس کی زندگی میں پہلی بار دل بھر کے رونا تھا مسلسل کئی دن بغیر کچھ کھائے پیئے اور غم کی حالت میں گزار دیے اور فرط جزبات میں آکر اپنا ٹی۔ وی بھی توڑ ڈالا۔
مگر وہ ہمت نہ ہارا اس نے اپنی بے بسی کو طاقت میں بدلا اور فیصلہ کیا جو ہوگیا وہ تلخ ماضی تھا مگر اب اپنے وطن عزیز پر آنچ نہیں آنے دے گا اور پھر چشم فلک نے وہ دلفریب منظر بھی دیکھا کہ پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر بن چکا تھا پوری دنیا کے مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ دنیا کے جس خطے میں بھی پاکستانی موجود تھا وہاں مبارک بادیں دینے والوں کی لائنیں لگ گئی اور یوں پاکستان دنیا کی ساتویں اور عالم اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت بن کر ابھرااور یوں وہ نوجوان قوم کا ہیرو بن گیا جسے آج تاریخ ڈاکٹر عبد القدیر خان کے نام سے جانتی ہے۔ آپ یکم اپریل 1936 ء کو بھارت کے شہر بھوپال میں پیدا ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد آپ کا خاندان ہجرت کر کے کراچی رہائش پذیر ہوا۔ آ پ نے ابتدائی تعلیم پاکستان سے حاصل کی اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے یورپ چلے گئے۔ دوران تعلیم آپ نے ہینی نامی لڑکی سے شادی کر لی جو اب ہینی خاں کہلاتی ہیں، جن سے آ پ کی دو بیٹیاں عائشہ خان اور دینا خان ہیں۔ یورپ سے آپ نے مغربی برلن کی ٹیکنیکل یونیورسٹی آف ڈیلفٹ سے ماسٹرز آف سائنسز اور بیلجیم کی یونیورسٹی آف لبوؤن سے ڈاکٹریٹ آف انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی اور اسی دوران آپ نے ہالینڈ ہی میں واقع ایک فرم کے تحت ہالینڈ کے ایک قصبہ "المیو" میں یورنیکوانرچمنٹ پلانٹ میں کام کرنا شروع کر دیا جس میں گہری دلچسپی لیتے ہوئے آپ نے یورینیم کی آفزودگی کے متعلق اہم معلومات حاصل کر لیں اسی دوران بھارت نے ایٹمی دھماکاکرکے پاکستان پر برتری جتاناشروع کردی تھی جس سے ہر پاکستانی خوفزدہ تھا مگر ڈاکٹر صاحب تقسیم پاکستان کے وقت ہی عزم کر چکے تھے لہذا اب اس عزم کے پورا ہونے کا امتحان شروع ہو چکا تھا آپ نے اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو کو خط لکھ کر اپنی ایٹمی صلاحیتیوں کے متعلق آگاہ کیا جس کے جواب میں بھٹو نے آپ کو پاکستان میں آنے کی دعوت دی جو آپ نے بخوشی قبول کر لی اور یورپ کی شاہانہ زندگی اور عالیشان تنخواہ چھوڑ کر واپس وطن آکر صرف تین ہزار روپے وظیفہ کے عوض دفاع وطن کی خاطر دن رات ایک کیئے اپنے مشن سے منسلک ہو گے اور تاریخ کے مختصر سے دور میں اپنے مشن کی تکمیل کی اور دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا کہ جو کام دنیا کے ترقی یافتہ ممالک برطانیہ،امریکہ،جرمنی اور فرانس کے اشتراک نے بیس سال سے زائد عرصہ میں تقریبا بیس کروڑ ڈالر کے اخراجات سے پچیس ہزار سائنسدانوں اور انجئنیر ز نے قائم کیا وہ ایک پسماندہ اور ترقی پذیر ملک کیسے کر سکتا ہے ایک ایسا ملک جو اچھی بائی سائیکل تیار نہ کرسکتا تھا جو ایک سوئی تک نہ بنا سکتا تھا اس ترقی پذیر ملک نے آٹھ سال کے مختصر عرصہ میں ایٹم بم بنالیا یہاں آپ ڈاکٹر صاحب کی غیر معمولی صلاحیتیں ملاحظہ فرمائیں کہ جو آپ کے ڈچ دوست ہالینڈ سے ایٹمی راز حاصل کیے جانے پر آپ کے مخالف تھے بعد میں چھپ چھپ کر ضروری سامان پہنچاتے رہے اور جس سامان کی ضرورت تین سال بعد ہوتی اس کا آرڈر پہلے ہی ایک کی بجائے تین چار جگہوں پر دے دیا جاتا اکثر یہی ہوتا کہ مغربی ممالک اگر کوئی چیز روک کر بے حد خوش ہوتے کہ ہم نے انھیں پکڑ لیا ہے وہی چیز اسی وقت کراچی بندر گاہ پر اتاری جارہی ہوتی تھی۔دنیا کی کڑی نگرانی کے باوجودبا لآخر 28مئی 1998 کا سورج عالم اسلام بلخصوص پاکستان کے لیے خوشی کا پیغام لے کر طلوع ہواجس دن ہم نے بھارت کے 5 ایٹمی دھماکوں کے جواب میں چاغی کے مقام پر 7ایٹمی دھماکے کر کے بھارتی برتری خاک میں ملا دی وہ دن تھا جب مسجد اقصی میں فلسطینی نوجوان بھی اسرائیلی فوجیوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں کہہ رہا تھا کہ ہم بھی ایٹمی طاقت بن گئے ہیں اب اگر مسجد اقصی اور اس کے باسیوں پر ظلم کیا تو تاریخ سے حرف غلط کی طرح مٹا دیے جاو گے مگر افسوس کے اب وہی مسجد اقصی یہودیوں کے قبضے میں ہے پانچ فرض نمازوں کے ساتھ چھٹی نماز جنازہ معمول بن چکی ہے اور دنیا کی واحد مسلم ایٹمی طاقت پاکستان عملی طور پر مدد کرنے سے قاصر ہے کہیں مغربی آقا ہی ناراض نہ ہوجائیں
اپوزیشن سارا کریڈٹ نواز شریف اور بھٹو کو دے رہی ہوگی ہر کوئی اپنے اپنے لیڈر کو ایٹم بم کا خالق ثابت کرنے میں مگن ہوگا۔بلاشبہ 28مئی کو یوم تکبیر بنانے میں اس وقت کے وزیراعظم نوازشریف اور ذولفقار علی بھٹو کا کردار نمایا ں رہاہے پوری قوم یکساں مبارک باد کی مستحق ہے مگر اس عظیم ہیرو سمیت پاکستان کی سلامتی کے لیے کوششیں و دعائیں کرنے والے کشمیریوں اور فلسطینیوں کو یادنہ کرنا ناانصافی ہوگی بلکہ اس محسن کے پیچھے ایک محسنہ کا بھی ہاتھ جس نے ہر مشکل میں ڈاکٹر خا ن کو سہارا دیا پاکستان اور ڈاکٹر کی خاطر اپنا آبائی وطن،ماں باپ اور عزیزواقارب سب کچھ چھوڑ کر دیار غیر میں عظیم مقصد کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی تاریخ اس عظیم عورت کو ہنی خان کے نام سے جانتی ہے جو محسن پاکستان کی بیوی محسنہ پاکستان ہیں پاکستانیوں یاد رکھنا جو قومیں اپنے محسنوں اور غازیوں کو بھول جایا کرتیں ہیں تاریخ میں نمایاں مقام حاصل کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔
Twitter Handel: https://twitter.com/Usmanyaseenbaga?s=03



Comments