Skip to main content

کرونا واٸرس سے بڑھتے ہوۓ تعلیمی مساٸل




کرونا وائرس (Covid-19) 
نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے ترقی پذیر ممالک کے نظام کو تہہ و بالا کر کے رکھ دیا ہے دنیا بھر کے اکثر ممالک کی معیشت تباہ ہو چکی ہے بڑے بڑے سرمایہ دار وں کا دیوالیہ نکل چکا ہے بے روزگاری کی شرح بام عروج کو چھو رہی ہے قرضوں کا حجم پھن پھیلائے کھڑا ہے اسی اثنامیں دنیا کی بڑی بڑی نامور شخصیات دارفانی سے کوچ کر چکی ہیں بلخصوص پاکستان میں مذہبی طبقہ کو غیر معمولی نقصان پہنچا ہے جس کا ازالہ شاید صدیوں بعد بھی پورا نہ کیا جاسکے ان تمام تر ہولناکیوں میں جہاں شعبہ زندگی کا ہر طبقہ متاثر ہوا ہے وہاں طالب علموں کا مستقبل بھی خطرے میں پڑھ گیا ہے ایک طرف قدرتی آفات کا سامناتو دوسری طرف اہل اقتدار کے خود ساختہ مسائل کا لا متناہی سلسلہ۔

پاکستان شاید دنیا کا واحد ملک ہے جہاں کرونا آیا ہم نے باہمی تعاون سے عروج پر پہنچایا جو اب اپنے آخری مراحل میں ہے مگر ہم اس سارے عرصے کے دوران کوئی واضح پالیسی نہ بنا سکے اس سارے عرصے میں حکومت اضطراب کا شکار نظر آئی جس بنا پر مزدور طبقہ اور طالب علموں کو نا قابل تلافی نقصان پہنچا وزارت تعلیم کی جانب سے نہم،دہم اور گیارہویں، بارہویں کو سابقہ امتحانات کی بدولت پرموٹ کرنے کا اعلان کیا گیا تو چند دن بعد جب بچوں نے اگلی کلاس کی کمر کس لی بورڈ ز نے امتحانات لینے کا اعلان کردیا اور وجہ پیش کی کہ قانون بغیر امتحان کے پرموشن کی اجازت نہیں دیتا اس ساری کشمکش میں طالب علم نہ پچھلی کلاس کی تیاری کرسکتے تھے اور نہ پرموٹ شدہ کلاس کی جبکہ پرائیوٹ سکولز اپنی فیسوں کی وصولی کے لیے نت نئے قانون متعارف کرواتے رہے اگر یونیورسٹیوں کے طریقہ کارکودیکھا جائے تو مسائل کا ایک الگ پہاڑ نظر آتا ہے حکومت نے طالب علموں کی رائے لی اور نہ ہی کسی تعلیمی ادارے سے مشورہ لیا اور بغیر کسی سروے کے Onlineکلاسز کا آغاز کردیا اس بات کا جائزہ لیا ہی نہیں کہ پاکستان کے کتنے فیصدعلاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہے اور جہاں انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہے کیا وہ اس کوالٹی کا ہے کہ اس علاقے میں موجود صارفین کا بیک وقت بوجھ اٹھا سکے؟اور کتنے ایسے طالب علم ہیں جو Onlineکلاسز کے لیے اچھا موبائل یا کمپیوٹر رکھتے ہیں ان سب چیزوں کی معلومات حاصل کرنے کے لیے کوئی بڑے اخراجات کی ضرورت نہ تھی صرف مردم شماری کے ڈیٹا سے طالب علموں کی تعداد اور ان کی ماہانہ آمدن کا اندازہ لگایا جا سکتا تھا جس کو مدنظر رکھتے ہوئے تعلیمی پالیسی بنائی جا سکتی تھی مگر ہمارے پالیسی ساز اداروں میں بیٹھے لوگ اپنی شاہانہ شان و شوکت والے گھریلو حالات دیکھ کر ملکی پالیسیاں بناتے ہیں جو عوام کو سہولیات پہنچانے کی بجھائے الٹا وبال جان بن جاتی ہیں۔جہاں تک سرکاری یونیورسٹیوں کا تعلق ہے انھوں نے تقریبا ہر ممکن حد تک سٹوڈنٹ دوست رویہ اپنایا اور فیسوں میں کمی کے ساتھ ساتھ مقر ر تاریخ تک فیس ادا نہ کرنے والوں کو بغیر کسی پریشانی کے امتحانات میں بیٹھنے کی اجازت دے رکھی ہے ایسے مشکل حالات میں پنجاب یونیورسٹی نے فیسوں میں کمی کرتے ہوئے لائبریری فیس، مسجد فنڈ، بس فنڈاور الیکٹریسٹی چارجز معاف کرنے کا اعلان کیا ہے جو کہ دوسری تمام یونیورسٹیوں کے لیے مشعل راہ ہے۔جبکہ پرائیوٹ یونیورسٹیاں مسلسل فیسوں کا مطالبہ کر رہی ہیں سہولیات کی عدم دستیابی کی بدولت Online کلاسز نہ لینے والوں کے داخلے روکے جارہے ہیں اور حکومت ان کے خلاف کسی قسم کا ایکشن لینے سے قاصر ہے۔ ہمارے معاشرے میں بڑی تعداد ایسے طالب علموں کی بھی پائی جاتی ہے جو اپنا تعلیمی خرچ خود اٹھائے ہوئے ہیں جس کے لیے ان کو کہیں جاب کرنی پڑتی ہے زیادہ تر پرائیوٹ سکولز و ٹیوشن سنٹر یا ہوم ٹیوشن پڑھا کر اپنے اخراجات پورے کرتے تھے کرونا وائرس کے سبب ان سب ذرائع آمدن کی بندش کے باعث ان کو شدید مشکلات سامنا ہے۔اور ایسی صورت حال میں تعلیمی اداروں کی طرف سے فیسوں کا مطالبہ غیر اخلاقی و غیر آئینی ہے۔

ٓآپ ذرا اس ساری صورت حال میں طلبہ کی بے بسی ملاحظہ کریں کہ ایک ایسا ملک جہاں رکشہ یونین،واپڈا یونین،ریلوے کے قلیوں کی یونین،ٹرانسپورٹ اتحادحتی کہ بھٹہ مزدوروں کی تنظیمیں فعال ہیں جب کہ طالب علم جو کہ ملک و قوم کا مستقبل ہوتے ہیں ان کے پاس ایسا کوئی پلیٹ فارم ہی موجود نہیں جس کے ذریعے وہ اپنے مطالبات و مسائل احکام بالا تک پہنچا سکیں اس لیے حکمران اپنی مرضی سے تعلیمی بجٹ میں کٹوتی، فیسو ں میں من مانا اضافہ، سکالرشپ کی بندش جیسے ظالمانہ فیصلہ کرتے دیر نہیں کرتے۔ایسے مشکل وقت میں طلبہ تنظیمیں ذاتی طور پر طلبہ کو متحرک کرتی ہیں جو نا کافی ہوتا لہذا حکومت کو چاہیے کہ کسی بڑے تعلیمی بحران سے بچنے کے لیے بغیر کسی تاخیر کے طلبہ یونینز کو فورا بحال کیا جائے اور تعلیمی ایمر جنسی نافذ کی جائے،نئے تعلیمی ادارے بنائے جائیں،فیسوں میں کمی،سکالرشپ کی وسیع پیمانے پر تقسیم اورٹرانسپورٹ و ہاسٹل کی سہولیات مہیا کرنی چاہیے اور تعلیمی اداروں کی خودمختاری کومزید مستحکم کیا جائے۔

روزنامہ تحریر پاکستان

کالم نگار : محمد عثمان

Comments