ہم نے سب بھلا دیا
We forgot every thing
تحریر:احسان حبیب خاں
اگرتاریخ کے اوراق کی ورق گردانی کی جائے تومعلو م ہوکہ کیسی کیسی عظیم ہستیاں ان میں ضم ہو گئیں بس فرق صرف اتنا ہے کہ کسی کو دنیاعرصہ درراز گزنے کے بعدبھی اچھے لفاظ میں یاد کرتی ہے،ان کے کارناموں کو سرا ہتی ہے،ان کے مزارات پر پھول چڑھا تی اورآخرت کے سفرمیں آسانی کے لئے دعائیں کرتی ہے۔ توکچھ ہستیاں ایسی بھی گزری ہیں جن کیلئے لوگ انسا نیت کے نام پر دھبہ جیسے الفا ظ استعمال کر تے ہیں،کام تو کیا اُن کے ساتھ اُن کے نام بھی صفاہستی سے مٹ جاتے ہیں۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم کس طرح کے الفاظ میں زندہ رہنا چا ہتے ہیں۔کوئی کا رنا مہ سر انجام دے کر، کوئی تحقیق کر کے،کچھ ایجاد کر کے،کوئی اصلاح کر کے یاکوئی اور تبدیلی لا کر ہمیشہ کیلئے امر ہو جائیں یا پھر پیٹ پوجا۔۔۔تم کھاؤ میں کھاؤں تک ہی محدود رہ کرپہلے زمین پر بوجھ بنے رہیں اوربا لآخر ایک دن زمین کو بھی اس بوجھ سے آزاد کر تے ہوئے اِسی کے اندر سما جائیں۔قرآن پا ک میں بار ہاانسان کو مشاہدہ کرنے،تحقیق کر نے،غوروفکر کرنے اور اگلی قو موں سے عبرت حا صل کر نے کی تلقین کی گئی ہے۔ حالات ِ حاضرہ پر نظر کی جائے تو انسان کو دنیاوی چمک دمک،آسائشوں سے پرُ زندگی سے فرصت ملے تو ہی وہ اگلی قوموں کے عروج وزوال پر غور کرے۔ہماری نوجوان نسل کا تو تحقیق و تدبیر سے دور دور تک کا کوئی واسطہ ہی نہیں۔اگر آج کے کسی نوجوان کے سامنے درخت سے خود بخود پھل ٹو ٹ کر گر جائے تو وہ اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے ہوئے اُسے کھا ئے گا اور وہی کرے گا جو آج کے دور کا سب سے ضروری کام جووہ کبھی نہیں بھولتے یعنیc Pi لینا اور اُسےWhatsApp Status پہ ڈالنا۔وہ کوئی نیوٹن تھو ڑ ی نہ ہے جو سیب کے خودبخود درخت سے گرنے پر تحقیق کرے اور Law of Gravity، Law of Motionجیسے قوانین اخذ کر سکے۔وہ تو اکیسو یں صدی کی پکی ہوی فصل ہے جسے نہ تو اپنے بُر ے وقت کا اندازہ ہے اور نہ ہی اپنے تر ش پھل کے صیحح استعمال کا۔زمانہ ماضی پر اگر نظر کی جائے توابو ریحا ن البیرونی اور محمد ا بن عبد اللہ ابن بطو طہ جیسے مسلم سیا ح ملیں گے جنہوں نے اپنی زند گی میں دنیا کے بیشتر مما لک کی سیر کی، ان کی ثقا فت،زبا ن، علوم،رسم ورواج،اخلا ق و عا دات اور تہذیب و تمد ن کا بغور مطا لعہ کیا۔ نہ صر ف مطا لعہ ہی کیا بلکہ انہیں اپنی مشہور''کتا ب الہند'' میں آگے آنے والی نسلوں کے لئے بھی محفو ظ کیا۔اس کے علاوہ مختلف مو ضوعا ت پر قلم آزما ئی کر کے مزید سو سے زائد کتابیں لکھیں۔جو کہ ہما ر ی آج کی خوابِ غفلت کے مزے لیتی نوجوان نسل کیلئے قیمتی اثا ثہ ہیں۔جو انہوں نے دسویں صدی سے چو دہویں صدی تک کہ عرصے میں ہمارے لئے چھو ڑی۔وا سکو ڈے گاما جس نے یو ر پ سے بر صغیر تک کا را ستہ دریا فت کیا،کولمبس جس نے امر یکہ دریا فت کیا اور بعد میں امر یگو کے نام پر اس نئے دریافت شدہ جز یرے کا نام امریکہ رکھ دیا گیا۔آج بھی دنیا انہیں یاد کرتی ہے اوررہتی دنیا تک اُن کا نا م ر ہے گا۔وہ کہتے ہیں نہ کہ نا م بھی کسی کا م پر بنتا ہے مگر ہم جیسے کم علم اور تا ریخ سے ناشناسا لو گو ں میں سے شائد ہی اِکا دُکا لو گ اِن کے ناموں سے واقف ہوں،کام تو بہت دور کی با ت ہے۔مغر بی مما لک نے مسلمان مفکر ین کی تصنیفات اوراِن کی سر زمینوں سے وسا ئل لوٹ کر استفادہ کیا،ترقی کی منازل طے کیں اور مزید تحقیقات کر تے ہو ئے پہلے خلاء پھر چا ند اورپھر مریخ کی زمیں پر بھی قدم جما لئے اور ہم بس منہ تکتے ہی رہ گئے آج جن کتب کو مغرب کی لائبریریوں میں دیکھ کر ہما را دل سیپارا ہو تا ہے اگر ہم نے بھی بر و قت اِن کتب سے استفادہ کیا ہو تا تو آج ہم بھی ترقی پذ یر ممالک کے بجا ئے ترقی یافتہ مما لک کی صف میں شما ر کیے جا تے۔آج ہم بھی کہہ سکتے کہ خلاء میں ایک سٹیلا ئیٹ پاکستان کی بھی ہے،1969میں چاند پر قدم رکھنے والے پہلے شخص Neil Armstrongسے پہلے یا بعد میں پاکستان کا بھی ایک شخص چاند کی سر زمین پر قدم رکھ چکا ہے جس نے وہاں اللہ کے ذکر کو بلند کرتے ہوئے آذان بھی دی اور واپسی پر پاکستان کا جھنڈا،قرآن پاک کا نسخہ اور لو حِ قرآنی بھی آئندہ چاند پر جا نے والو ں کے لئے بطور ثبو ت چھوڑکر آیا۔یہ بس ہما ری خام خیا لی ہے اور نہ جا نے کب تک رہنے والی ہے؟ شائد اسی وقت کے لئے ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے کہا ہے کہ
؎ تھے تو وہ آباء تمھارے ہی، مگر تم کیا ہو؟
ہاتھ پہ ہاتھ دھرے، منتظر فردا ہو
آج جو ہم Covid-19جیسی عالمی وبا سے نبردآزما ہو نے کے لئے مغرب کی طرف نظریں جمائیں بیٹھے ہیں کہ کب وہ کوروناوائرس کی Vaccineبنائیں اور کب ہم اس کے انجکشن اپنے ہاتھوں میں لگواکر دونوں ہاتھ اللہ کے حضور اُٹھا کر مغرب کی تباہی کی دعا ما نگیں۔ دیکھا جائے تو ہماری زندگیوں کا دارومدار ہی مغرب پر ہے اور پھر بھی ہم مغرب کی تبا ہی وبربادی دیکھنے کے منتظر ہیں۔ اس کا مطلب تو یہ ہی ہوا نہ کہ ہم تو اپنی ہی تباہی و بربادی کا مزا چکھنا چا ہتے ہیں کیونکہ مغرب کی زند گی ہماری زندگی اورمغرب کی موت ہماری موت ہے۔ہمارے نقصان،خسارے اور تباہی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ کوئی تحقیق نہیں کرتااور اگر کوئی بہت قابل شخص تحقیق کرنے کی کو شش بھی کرے تو اُسے وہ Basic facilities نہیں مل پاتی جو اُس کے کار نامے کو سر انجام دینے کے لئے نہایت ضروری ہیں یعنی Labortriesاور Libraries،دوسرا یہ کہ لوگ ایسے قدغن لگا تے ہیں کہ وہ شخص تو کیا اُس کی سات نسلیں بھی کو ئی تحقیق کر نے سے پہلے سو بار سوچیں گی۔ اورایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے اپنے آباواجدادکے قیمتی تجربات،تحقیقات،تصنیفات اور نصیحتوں کو پسِ پشت ڈال دیاجو کہ ہمارے لئے عظیم ورثے کے ساتھ ساتھ ایک مشعلِ راہ بھی تھیں جن کی روشنی میں ہم کوئی ایک شے تو ایجاد کر ہی سکتے تھے مگر ہم نے تو سب بھلا دیا۔جبکہ زندہ قومیں اپنے آباواجداداکے قیمتی سرمائے کو سینے سے لگا کر رکھتی ہیں،اِن سے وقتِ ضرورت استفادہ کرتی ہیں اور ساتھ ہی اِن کی حکومتیں بھی تعاون کر تے ہوئے اِن کے لئے وہ ساری سہولیات فراہم کرتی ہیں جواِن کے لئے درکار ہوتی ہیں تبھی تووہ چاند تک کی سیر کر آئیں اور ہم آج بھی اپنی اندرونی سیاست میں ہی اُلجھے ہوئے ہیں۔ ہمیں یاد ہے تو بس مغرب کی چکا چوند،نئی ٹیکنا لو جی،پرُآسائش زندگی اور نت نئی ایجادات۔اُن کی ایجادات کو خوشی سے استعمال تو کر تے ہیں مگرہم نے کبھی مغرب کی تحقیق پر بھی تحقیق کرنا گوارا نہ کیا۔بس ایک ہی پالیسی اپنا رکھی ہے کہ ''جو مل رہاہے اُسے لے لو اورجس شے کی ضرورت ہے کشکول اُٹھاؤ اور پہنچ جاؤ ''۔جب ایسی غریبوں والی حرکتیں ہوں گی تو پھرسوچ بھی غریبوں والی ہی رہے گی اورترقی بھی غریبوں والی ہی ہو گی۔بھلا ایسی چھوٹی سوچ کے ساتھ نئی نسل کیسے کوئی بڑاکارنامہ سر انجام دے سکتی ہے یہ اس لئے ایسا ہے کہ ہم نے سب بھلا دیا،سب بھلادیا۔وہ کہتے ہیں نہ کہ بات تو سچ ہے،پر بات ہے رسوائی کی۔
Comments