Skip to main content

غور طلب

جنوری کی سیاہ رات گھڑی پر 1:00 بج رہےہیں دھند کے باعث حد نگاہ صفر ہو چکی ہے اتنے میں ایمرجنسی میں موجود ڈاکٹر مریض کے مزید علاج سے جواب دے دیتا ہے اور لاہور لے جانے کا مشورہ دیتا ہے جیسے ہی ایمبولینس 1122سے رابطہ کیا جاتے ہے وہ کہتے ہیں کہ لاہور کے کسی ہسپتال میں کرونا کے مریض کو داخل نہیں کیا جا رہا کیوں کہ بیڈ خالی نہیں ہیں خوب بھاگ دوڑ اور سفارشوں کے بعد اللہ اللہ کرکے بیڈ کا انتظام ہوتا ہے اور مریض لاہور روانہ کر دیا جاتاہے۔

آپ ذرا یہاں عوام اور اہل اختیارات و اقتدارکی بے حسی ملاحظہ فرمائیں 35لاکھ آبادی والےضلع قصور میں کرونا جیسی عالمی وبا کے علاج کے لیے ایک بھی بیڈ موجود نہیں ہے جبکہ دوسری طرف آج ہی (بلکے گزشتہ کل) قصور کی صحافی برادری صرف اسی بات پر سیخ پاہ تھی کہ بھٹی ہسپتال کے سیکورٹی گارڈ نے ایک رپورٹر کے ساتھ ذرا اونچی آواز میں بات کی تھی جس کو سبق سکھانے کے لیے پلاننگ اور تدبیریں اختیار کی جارہی ہیں یہ لیول ہے یہاں کی صحافت کا کہ جس بیماری سے لوگ مر رہے ہیں اس کی طرف ذرا بھی توجہ نہیں اور تلخ لہجہ (اب بدتمیزی کس نے کی ہوگی یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے مگرعوام بھی سب جانتے ہیں) ایک اہم بلکہ جان لیوا مسلہ بنا پڑا ہے۔ایسا ہی کچھ حال وکلا برادری کا ہےجو ٹول پلازے پر 20 روپے ٹیکس مانگنے پر عدالت عالیہ تک کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں مگر لوگ جیسے مرضی مر رہے ہوں اس کی کوئی پروا نہیں رہی بات کرونا کے نام پر ملنے والی عالمی زکاۃ کی اس پر اگر بات کی یا سوال اٹھایا تو شایدغدار قرار پاوں اور شیخ رشید صاحب 72 گھنٹے میں اندر کروا دیں کیوں کہ UNOاور ورلڈبنک سے ملنے والی بھیک حقداروں تک بااحسن طریقے سے پہنچ چکی ہے۔

 غیر ضروری بلکہ فضول معملات کو بڑا چڑھا کر پیش کرنے والے صحافیو و وکیلو اور کرونا کے نام پر قوم کا پیسہ ہضم کرنے والو سوچنا کہیں روز قیامت قاتلوں کی صف میں ہی نہ کھڑا کر دیا جائے کہ تمارے پاس اختیار تھا، اقتدار تھا ،مال تھا ،بولنے کی طاقت تھی کیوں نہ انسانیت کے لیے کھڑے ہوئے ، اللہ کے بندوں کے لیے آواز کیوں نہ اٹھائی؟

Comments

Popular posts from this blog

شجر کاری خدمت بھی عبادت بھی

انسانی زندگی کا دارومدار خوراک،پانی اور آکسیجن پر ہے خوراک اور پانی کے بغیر تو انسان چند دن زندہ رہ سکتا ہے مگر آکسیجن کے بغیر چند منٹ گزارنا بھی نا ممکن ہے آکسیجن کا سب سے بڑا ذریعہ درخت ہیں جن کو زمین کے پھپھڑے(Lungs)بھی کہاجاتاہے درخت آکسیجن کے ساتھ ساتھ خوراک کا بھی بڑا ذریعہ ہیں ان کی ضرورت و اہمیت کے متعلق تقریباََ دنیا کے ہر مذہب میں تلقین کی گئی ہے اسلام نے بھی درختوں کو کاٹنے کی ممانعت کی ہے محسن انسانیت حضرت محمدﷺ نے شجر کاری کو فروغ دینے کے لیے شجر کاری کو صدقہ جاریہ قرار دیا ہے ارشاد فرمایاکہ ''جو مسلمان درخت لگائے یا فصل بوئے پھر اس میں سے جو پرندہ یا انسان یا چوپایا کھائے تو پھر وہ اس کی طرف سے صدقہ شمار ہوگا''(بخاری)۔ آپ ﷺ نے شجر کاری کو اتنی اہمیت دی کہ دوران جنگ مفتوحہ علاقے میں فصلوں اور باغات کو نقصان پہنچانے سے سختی سے منع فرمایا ہے اور فرمایا کہ '' اگر قیامت کی گھڑی آجائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں پودا ہو اور وہ اس کولگا سکتا ہو تو لگائے بغیر کھڑا نہ ہو ''۔ اگر ہم انسان کے سانس لینے کے نظام پر غور کریں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ درخت...

فوجداری قوانين میں بڑی تبدیلياں

  فوجداری قوانین، 100 ترامیم، منشیات اور ریلوے مقدمات میں سزائے موت ختم، تفتیش 45 دن میں، غیرقانونی پولیس حراست پر 7 سال قید  وفاقی حکومت نے کریمنل لاءریفارمز2021ءکے تحت ضابطہ فوجداری ‘ضابطہ تعزیرات پاکستان اور قانون شہادت کی دفعات میں100سے زائد نمایاں تبدیلیاں تجویز کردیں‘ ریلوے ایکٹ اور منشیات کے مقدمات میں سزائے موت ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے‘پولیس کے سامنے دفعہ 161 ض۔ف کا بیان آڈیو /وڈیو ذرائع سے ریکارڈ کیا جا سکے گا‘ تفتیش 45روزکے اندر مکمل کی جائے گی‘. غیر قانونی پولیس حراست پر 7 سال قید کی سزاہوگی ‘قانون شہادت میں شہادت ریکارڈ کروانے کیلئے جدید الیکٹرانک ذرائع استعمال کرنے کی تجویز ہے، عدالت میں آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ،ای میل، فیکس، ٹیکسٹ پیغام بطور ثبوت تسلیم کئے جاسکیں گے. آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ کرنے والےکو بطور گواہ عدالت میں طلبی البتہ لازم نہیں ہوگی لیکن عدالت اطمینان کیلئے اسےطلب بھی کرسکتی ہے‘ درخواست ضمانت، بریت یا اخراج کو زیر التوا نہیں رکھا جاسکے گا‘ عدالت تین دن سے زیادہ کیلئے کیس کو ملتوی نہیں کرے گی جب تک کہ کوئی غیر معمولی وجوہات نہ ہوں لیکن عدالت کو وجہ تحر...

Plantation

 درخت اگائیں، زندگی بچائیں  انسانی زندگی کا دارومدار خوراک،پانی اور آکسیجن پر ہے خوراک اور پانی کے بغیر تو انسان چند دن زندہ رہ سکتا ہے مگر آکسیجن کے بغیر چند منٹ گزارنا بھی نا ممکن ہے آکسیجن کا سب سے بڑا ذریعہ درخت ہیں جن کو زمین کے پھپھڑے(Lungs)بھی کہاجاتاہے درخت آکسیجن کے ساتھ ساتھ خوراک کا بھی بڑا ذریعہ ہیں ان کی ضرورت و اہمیت کے متعلق تقریباََ دنیا کے ہر مذہب میں تلقین کی گئی ہے اسلام نے بھی درختوں کو کاٹنے کی ممانعت کی ہے محسن انسانیت حضرت محمدﷺ نے شجر کاری کو فروغ دینے کے لیے شجر کاری کو صدقہ جاریہ قرار دیا ہے ارشاد فرمایاکہ ''جو مسلمان درخت لگائے یا فصل بوئے پھر اس میں سے جو پرندہ یا انسان یا چوپایا کھائے تو پھر وہ اس کی طرف سے صدقہ شمار ہوگا''(بخاری)۔ آپ ﷺ نے شجر کاری کو اتنی اہمیت دی کہ دوران جنگ مفتوحہ علاقے میں فصلوں اور باغات کو نقصان پہنچانے سے سختی سے منع فرمایا ہے اور فرمایا کہ '' اگر قیامت کی گھڑی آجائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں پودا ہو اور وہ اس کولگا سکتا ہو تو لگائے بغیر کھڑا نہ ہو ''۔ اگر ہم انسان کے سانس لینے کے نظام پر غور کریں...