🌺نہتی لڑکی بمقابل سپر پاور🌹
وہ خوبصورت تو تھی ہی مگر خوب سیرت بھی تھی، بچپن سے ہی ذہین اور اسلامی رجحان کی طرف مائل تھی ابتدائی تعلیم زیمبیا سے حاصل کی اور پھر کراچی یونیورسٹی میں داخلہ لے لیاوہاں سے ماسڑ کرنے کے بعد اپنے بھائی کے پیچھے امریکہ چلی گئی وہاں Massachusetts Institute of Technology سے BS ٹیکنالوجی اورBrandeis Universityسے Neuroscience میں Ph.D کی ڈگری حاصل کی۔ امریکہ میں زیر تعلیم کے دوران ہی اپنی ریسرچ کی بدولت 50 ہزار ڈالر کا انعام بھی حاصل کیا اور ساتھ ساتھ دین اسلام کی تبلیغ کا فریضہ بھی سرانجام دیتی رہیں امریکی ان کے اس رویے سے شدید نالاں تھے کہ پڑھائی اور ریسرچ میں بھی اچھی کارکردگی ہے مگر کردار کی بھی پکی ہے، اعلٰی تعلیم حاصل کیے آنکھوں میں حسین خواب سجائے وطن واپس لوٹ آئیں اور پاکستان میں Institute of Islamic Research Center and Technologyکی ممبر بن گئی اور اسلامی ریسرچ کے حوالے سے خوب محنت کی جس کی بدولت مذہبی حلقوں میں اچھی پذیرائی ملی مگر اسی دوران ہی امریکی پریس پر اسی پاکستانی خاتون کے خلاف نفرت انگیز مواد کی تشہیر کر کے دہشت گرد قراد دے دیا گیا۔ جسے آج پاکستانی قوم ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے نام سے جانتی ہے۔ 30 مارچ 2003 کو اپنے بچوں سمیت کراچی سے اسلام آباد جاتے ہوئے راستے میں اغوا ہوگئیں مگر کسی کو کچھ معلوم نہ تھا کہ ڈاکٹر عافیہ کو کس نے اغوا کیا ہے؟ یاد رہے یہ سب اس وقت ہوا جب ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف امریکی غلامی کا طوق گلے میں ڈال چکے تھے ڈاکٹر عافیہ کے اغواکے خلاف ایک شہری نے مشرف کو موردالزام ٹھہرا کر لاہور ہائیکورٹ میں مقدمہ بھی دائرکر رکھا ہے جس میں الزام لگایا گیا کہ مشرف نے چند ڈالروں کی خاطر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکیوں کے ہاتھوں بیچ دیا ہے شروع شروع میں عوام کو تو پتہ ہی نہیں چل سکا یہ سب کیا ہو رہا ہے مگر جیسے افغانستان کے دورے کے بعد کچھ صحافیوں نے امریکیوں کی حراست میں نیم مردہ حالت میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے متعلق خبر یں نشر کی تو شدید عوامی رد عمل کے بعد 6 سال بعد کراچی کے ایک تھانے میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ بھی درج کر لیا گیا۔
2010 میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکی عدالت ''انصاف'' سے 86 سال کی قید سنائی گئی جسے کسی بھی انسانی حقوق کی تنظیم نے ماننے سے انکار کردیا۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر الزام ہے کہ اس نے افغانستان میں طالبان کی مدد کی ہے اور دوران حراست امریکی فوجی سے گن چھین کر حملے کی کوشش کی تھی اور اس جرم کی سزا 86 سال ہے۔ آپ ذرا ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر لگے الزامات کا جائزہ لیں، امریکیوں کا کہنا ہے کہ ہم نے اسے طالبان کی مدد کرتے ہوئے افغانستان سے اغوا کیا ہے۔ اندازہ کریں کہ وہ طالبان جنھوں نے اسامہ بن لادن کی امریکہ حوالگی سے انکار کر دیا اور اپنے آپ کو جنگ میں جھونک دیا کیا وہ طالبان اتنے لاپرواہ کیسے ہو سکتے ہیں کہ ان کی مدد کرنے آئی خاتون کو دشمن اغوا کرکے لے جائیں۔
دنیا جانتی ہے کہ یہ اغواکب اور کہاں سے اور کس نے اغوا کرکے امریکیوں کے حوالے کیا۔ بس 9/11کی طرح طیارے چوٹیوں کو ہٹ کر رہے تھے اور دھواں نیچے سے نکل رہا تھا مگر سچ کہنے کی ہمت نہیں کسی میں آپ یہاں پاکستانی حکمرانوں کی بے حسی ملاحظہ فرمائیں جوہر الیکشن سے پہلے ڈاکٹر عافیہ کو قوم کی بیٹی قرار دیتے ہیں اور عافیہ کی رہائی کے لیے بلندو باگ دعوے کرتے نظر آتے ہیں مگر اقتدار سنبھالتے ساتھ ہی عافیہ کو بھول جاتے ہیں۔کیا ڈاکٹر عافیہ صدیقی اتنی ہی بڑی دہشت گرد ہے امریکہ بھی حقائق بتانے سے ڈرتا ہے86سالہ سزا معمولی سے جرم کے بدلے ہے کہ اس نے دوران حراست امریکی فوجی سے بندوق چھین کر اسی پر تان لی تھی تو سوال پیدا ہوتا ہے حراست میں تھی ہی کیوں؟ اگر مقدمہ بنانا بھی تھا تو پہلے والے الزام پر بنایا جاتا نہ کہ دوران حراست کی جانے والی مزاحمت پر۔ اگر ڈاکٹر عافیہ واقعی ہی مجرم ہے تو قوم کو جرم بتایا جائے اگر مجرم نہیں ہے تو ایک مجبور اور محصور خاتون کی عصمت پر ووٹ بنک بڑھانے والوں کو کچھ شرم آنی چاہیے۔ اب تو سابق امریکی اٹارنی جنرل رمزے کلارک بھی ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کا مطالبہ کر چکے ہیں اور امریکی انتظامیہ بھی شاید چاہتی ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کو رہا کردیا جائے۔ پاکستانی اعلی احکام حیلے بہانوں سے کام لے رہے ہیں اور کیس کو اس حد تک خراب کر دیا گیا ہے کہ رہائی کے تقریباََ تمام راستے بند کر دیے گئے ہیں سوائے صدر ی طرف سے سزا معافی کے۔ ذرائع کے مطابق 2016 میں اوبامہ انتظامیہ رہائی پر متفق تھی صرف پاکستانی وزیر اعظم سے سزا معافی کی اپیل کی درخواست کی ضرورت تھی۔ مگر نواز شریف صاحب یہ قدم نہ اٹھا سکے، اب پھر ٹرمپ انتظامیہ وائٹ ہاوس چھوڑنے کو تیار ہے دوران حکومت چاہے کوئی شخص جتنا بھی سخت دل ہو مگر اقتدار کی کرسی چھوڑتے وقت دل نرم ہوہی جاتا ہے اور کوشش یہی ہوتی ہے کہ جاتے جاتے کوئی اچھا کام کیا جائے خصوصی طور پر سزائے موت کے قیدیوں کی سزا عمر قید میں تبدیل ا ور عمر قید کے قیدیوں کی رہائی کی طرف خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ اس لیے میری بلکہ پاکستانی قوم کی وزیراعظم صاحب سے درخواست ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے درخواست دی جائے شاید کہ ہماری ایک درخواست سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی ممکن ہو سکے۔یاد رہے جب قوموں کی عورتیں نیلام ہوتی ہیں تو صرف عورتیں ہی نیلام نہیں ہوتیں بلکہ عزت، غیرت، حمیت اور ایمان بھی نیلام ہوتا ہے
؎ ہم مائیں، ہم بہنیں، ہم بیٹیاں
قوموں کی عزت ہم سے ہے


Comments