Skip to main content

کروناواٸرس بمقابلہ حکومتی پالسیاں


کرونا وائرس بمقابلہ حکومتی پالیسیاں 

 
 



روزنامہ:تحریر پاکستان

کالم نگار : محمد عثمان

کرونا وائرس نے اپنی آمد کے ساتھ ہی سے نظام زندگی مفلوج کر رکھا ہے ایسے مشکل حالات میں جن ممالک نے بروقت درست فیصلے کیے اور ان پر عملدرآمد بھی کیا اُن ممالک میں ممکن حد تک کرونا وائرس پر قابو پا لیا گیا ہے اور جن ممالک میں امیر اور غریب کے لیے الگ پالیسی،حکومت اور عوام کے لیے الگ پالیسی،تعلیمی اداروں اور سیاسی جلسوں کے لیے الگ پالیسی ان ممالک نے اپنی ناقص پالیسوں کی بدولت ناقابل تلافی معاشی نقصان تو اٹھایا ہی ہے اور ساتھ کرونا جیسی جان لیوا عالمی وبا کا پھیلاؤ بھی کنٹرول سے باہر ہوتا جارہا ہے اگر ہم اپنے وطن عزیز پاکستان میں غور کریں تو کرونا وائرس نے جہاں تمام طبقہ ہائے زندگی کو متاثر کیا ہے وہاں طلبہ کے مستقبل کو بھی داو پر لگا دیاگیا ہے اور رہی سہی کسر ہمارے پالیسی ساز اداروں نے نکال دی ہے طالب علموں کو کرونا سے بچاتے بچاتے ڈپریشن کا شکار کر دیا ہے پچھلے ڈیڑھ سال سے امتحانات کے حوالے سے کوئی موثر حکمت عملی سامنے نہیں آ سکی اگر کسی کلاس کے چھ پیپر ہیں تو دو کرونا سے پہلے ہو چکے ہیں دو Online آزمائے جاچکے ہیں اور باقی دو کا کوئی پتہ ہی نہیں کہ لینے ہیں یا نہیں اگر لینے ہیں تو کب اور کیسے؟ اگر فرسٹ ائیر و سیکنڈ ائیر کلاسز کوہی دیکھا جائے تو جن طالب علموں نے اب B.Aاور  M.Aمیں ہونا تھا وہ ابھی تک اسی انتظار میں ہیں کہ فرسٹ ائیر میں یا سیکنڈ ائیر میں دوسری طرف اگر سکولز و کالج انتظامیہ فیسیں بٹورنے کے چکروں میں بچوں کو اگلی کلاسز کی تیاری کروا رہے ہیں جبکہ حکومت پچھلی کلاس کے پیپر لینے پر بضد ہے اس ساری صورت حال میں والدین فیسوں کے بوجھ تلے دبے جارہے ہیں پرائیوٹ تعلیمی ادارے اساتذہ کو بھی تنحواہیں نہیں دے رہے اداروں کے اخراجات بھی کم ہیں مگر فیسوں میں کوئی رعائیت نہیں ہے کیا کسی نے اس بارے غور کرنے کی کوشش کی کہ ایسے ہزاروں گھرانے جن کے اخراجات کا مکمل انحصارہی پرائیوٹ تعلیمی اداروں پر ہی منحصر تھا وہ اب کس حال میں جی رہے ہیں؟یوں لگتا ہے جیسے کسی ملک میں نہیں بلکہ جنگل میں رہ رہے ہیں جہاں ریاست نام کی کوئی چیز نہیں رہی جس کے پاس طاقت ہے اسی کے پاس ہی قانون ہے۔

اس ساری صورت حال میں اگر دیکھا جائے تو بااصول اور پڑھا لکھا ہے تو صرف کرونا وائرس ہی ہے جو سکولز و کالجزمیں تو حملہ آور ہوتا ہے مگر گلی محلے اور بازاروں میں کچھ نہیں کہتا، اگر بچہ تمام SOP,s پر عمل درآمد کرتے ہوئے سکول جائے تو اسے کروانا وائرس ہونے کا خدشہ ہے اگر وہی بچہ بغیر کسی SOP,s کے شادی بیاہ کے ہجوم میں چاہے ایک شہر سے دوسرے شہر بھی چلا جائے مگر کروناوائرس اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتااسی طرح اگر اساتذہ بھی اگر سکول جائیں تو کرونا اگر بازار و منڈی وغیرہ جائیں تو کرونا کیا مجال  اس کی کیا جرات کہ کسی کا کچھ بگاڑ سکے اور رہی بات وکلا الیکشن اور ملک میں جاری سیاسی جلسے جلوسوں کی تو شاید وہاں سے تو کروانا وائرس خود پناہ ڈھونڈتا پھر رہا ہے  

ٓآپ ذرا نہلے پہ دھلہ ملاحظہ فرمائیں جوشیلے نوجوانوں کی گاڑیوں کے پیچھے  " سارا ہفتہ ویلے تے اتوار دی چھٹی " پورا ہفتہ فارغ اور اتوار کی چھٹی والا فقرہ تو سنااور پڑھا ہی ہو گا ایسا ہی کچھ ہمارے حکمران کر رہے ہیں ایک تحقیق کے مطابق سال2020 میں صرف تین ماہ تعلیمی ادارے کھلے رہے ہیں شروع شروع میں تو Online کلاسز کا بھی کوئی خاص نظا م موجود نہیں تھا اللہ اللہ کر ے Online کلاسز کا انتظام چلا تھا تو گھر بسترمیں بیٹھے پڑھنے اور پڑھانے والوں کو سردیوں کی چھٹیاں کر دی گئی ہیں۔ہے نہ کمال کا فیصلہ کہ چاہے نظام دنیا الٹ پلٹ ہوجائے مگرپہلے سے طے شدہ چھٹیاں اپنی جگہ پر برقرار رہیں گی۔

 اگر ہم سنجیدگی سے غور کریں تو سوال پیدا ہوتاہے کہ ہم کس کو بیوقوف بنا رہے ہیں؟ ہم کیوں ہاتھ دو کر صرف تعلیم ہی کے پیچھے پڑھ گئے ہیں اگر پولیوکے قطرے پلانے ہوں تو پولیو ٹیموں کے ساتھ طلبہ کا وفد ہو، ڈینگی وائرس کے خلاف جنگ ہو تو فرنٹ محاذپر طلبہ و اساتذہ اب کرونا ہے تو تمام نظام زندگی تقریبا دوبارہ بحال ہوچکا ہے مگر بند ہے تو قوم کی درسگاہیں بند ہیں یاد  رہے جس قوم کی درسگاہیں حالت جنگ میں بھی کھلی رہیں اس قوم کو دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔

Comments

Popular posts from this blog

شجر کاری خدمت بھی عبادت بھی

انسانی زندگی کا دارومدار خوراک،پانی اور آکسیجن پر ہے خوراک اور پانی کے بغیر تو انسان چند دن زندہ رہ سکتا ہے مگر آکسیجن کے بغیر چند منٹ گزارنا بھی نا ممکن ہے آکسیجن کا سب سے بڑا ذریعہ درخت ہیں جن کو زمین کے پھپھڑے(Lungs)بھی کہاجاتاہے درخت آکسیجن کے ساتھ ساتھ خوراک کا بھی بڑا ذریعہ ہیں ان کی ضرورت و اہمیت کے متعلق تقریباََ دنیا کے ہر مذہب میں تلقین کی گئی ہے اسلام نے بھی درختوں کو کاٹنے کی ممانعت کی ہے محسن انسانیت حضرت محمدﷺ نے شجر کاری کو فروغ دینے کے لیے شجر کاری کو صدقہ جاریہ قرار دیا ہے ارشاد فرمایاکہ ''جو مسلمان درخت لگائے یا فصل بوئے پھر اس میں سے جو پرندہ یا انسان یا چوپایا کھائے تو پھر وہ اس کی طرف سے صدقہ شمار ہوگا''(بخاری)۔ آپ ﷺ نے شجر کاری کو اتنی اہمیت دی کہ دوران جنگ مفتوحہ علاقے میں فصلوں اور باغات کو نقصان پہنچانے سے سختی سے منع فرمایا ہے اور فرمایا کہ '' اگر قیامت کی گھڑی آجائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں پودا ہو اور وہ اس کولگا سکتا ہو تو لگائے بغیر کھڑا نہ ہو ''۔ اگر ہم انسان کے سانس لینے کے نظام پر غور کریں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ درخت...

فوجداری قوانين میں بڑی تبدیلياں

  فوجداری قوانین، 100 ترامیم، منشیات اور ریلوے مقدمات میں سزائے موت ختم، تفتیش 45 دن میں، غیرقانونی پولیس حراست پر 7 سال قید  وفاقی حکومت نے کریمنل لاءریفارمز2021ءکے تحت ضابطہ فوجداری ‘ضابطہ تعزیرات پاکستان اور قانون شہادت کی دفعات میں100سے زائد نمایاں تبدیلیاں تجویز کردیں‘ ریلوے ایکٹ اور منشیات کے مقدمات میں سزائے موت ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے‘پولیس کے سامنے دفعہ 161 ض۔ف کا بیان آڈیو /وڈیو ذرائع سے ریکارڈ کیا جا سکے گا‘ تفتیش 45روزکے اندر مکمل کی جائے گی‘. غیر قانونی پولیس حراست پر 7 سال قید کی سزاہوگی ‘قانون شہادت میں شہادت ریکارڈ کروانے کیلئے جدید الیکٹرانک ذرائع استعمال کرنے کی تجویز ہے، عدالت میں آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ،ای میل، فیکس، ٹیکسٹ پیغام بطور ثبوت تسلیم کئے جاسکیں گے. آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ کرنے والےکو بطور گواہ عدالت میں طلبی البتہ لازم نہیں ہوگی لیکن عدالت اطمینان کیلئے اسےطلب بھی کرسکتی ہے‘ درخواست ضمانت، بریت یا اخراج کو زیر التوا نہیں رکھا جاسکے گا‘ عدالت تین دن سے زیادہ کیلئے کیس کو ملتوی نہیں کرے گی جب تک کہ کوئی غیر معمولی وجوہات نہ ہوں لیکن عدالت کو وجہ تحر...

Plantation

 درخت اگائیں، زندگی بچائیں  انسانی زندگی کا دارومدار خوراک،پانی اور آکسیجن پر ہے خوراک اور پانی کے بغیر تو انسان چند دن زندہ رہ سکتا ہے مگر آکسیجن کے بغیر چند منٹ گزارنا بھی نا ممکن ہے آکسیجن کا سب سے بڑا ذریعہ درخت ہیں جن کو زمین کے پھپھڑے(Lungs)بھی کہاجاتاہے درخت آکسیجن کے ساتھ ساتھ خوراک کا بھی بڑا ذریعہ ہیں ان کی ضرورت و اہمیت کے متعلق تقریباََ دنیا کے ہر مذہب میں تلقین کی گئی ہے اسلام نے بھی درختوں کو کاٹنے کی ممانعت کی ہے محسن انسانیت حضرت محمدﷺ نے شجر کاری کو فروغ دینے کے لیے شجر کاری کو صدقہ جاریہ قرار دیا ہے ارشاد فرمایاکہ ''جو مسلمان درخت لگائے یا فصل بوئے پھر اس میں سے جو پرندہ یا انسان یا چوپایا کھائے تو پھر وہ اس کی طرف سے صدقہ شمار ہوگا''(بخاری)۔ آپ ﷺ نے شجر کاری کو اتنی اہمیت دی کہ دوران جنگ مفتوحہ علاقے میں فصلوں اور باغات کو نقصان پہنچانے سے سختی سے منع فرمایا ہے اور فرمایا کہ '' اگر قیامت کی گھڑی آجائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں پودا ہو اور وہ اس کولگا سکتا ہو تو لگائے بغیر کھڑا نہ ہو ''۔ اگر ہم انسان کے سانس لینے کے نظام پر غور کریں...