کالم نگار :احسان حبیب
کیا تم نے واٹس ایپ کی پرا ئیو یسی اپ ڈیٹ کے بار ے میں سنا ہے؟ با بر نے عبد الرزاق سے پو چھا۔نہیں،کیو ں کیا ہوا؟ تم تو نہ جا نے کس دنیا میں رہتے ہو۔واٹس ایپ نے پرا ئیو یسی کے حوالے سے نئیTerms and conditionsمتعا رف کر وائی ہیں اور جو انہیں تسلیم نہیں کرے گاوہ18فروری 2021کے بعد وا ٹس ایپ استعمال نہیں کر سکے گا۔بھئی، میں تو سوچ رہا ہوں کہ واٹس ایپ کو خیر باد کہ دوں اور کسی متبادل ایپ کا رخ کروں کہ اگر ان کی شرائط مان لی تو ڈیٹا غیر محفوظ ہو جا ئے گا ۔اوہ۔۔۔تو بابر!تمہیں کیا لگتا ہے کہ صرف واٹس ایپ نہ کر نے سے تمہا راڈیٹا محفوظ رہے گاتمہیں کچھ اندازہ بھی ہے کہFacebook, Instagramجہا ں تم پل پل کی معلوما ت شیئر کر تے ہوجہا ں تم نے اپنا فون نمبر تک شیئر کیا ہوا ہے، لوکیشنز اپ ڈیٹ کر تے ہووہاں تمہا را ڈیٹا محفو ظ ہے۔ میر ے معصوم بھا ئی تم نے خو د اپنی پرا ئیو یسی کا خیا ل نہیں رکھاتو سوشل میڈ یا کا ر پو ریشنز جو کارو بار کر رہی ہیں ان سے کیا شکوہ۔ واٹس ایپ پر صرف انہی افراد کا احتجاج بجا ہے جو دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمزاستعمال نہیں کر تے۔لیکن ہما را ڈیٹا تو پہلے ہی کئی جگہو ں پر شیئر ہو چکا ہے تو ہمیں کس بات کی فکر؟
خیر بات ہو رہی تھی واٹس ایپ کی تو واضح ر ہے کہ واٹس ایپ نے اپنے صارفین کو مجبور کیا تھااگر وہ مستقبل میں اس ایپ کا استعمال جا ری رکھنا چا یتے ہیں تو انہیں نئی حفا ظتی پالیسی قبول کر نا ہو گی ورنہ ان کا اکاؤ نٹ ڈیلیٹ کر دیا جا ئے گا۔یعنی وہ اپنے صارفین کی معلو ماتFacebook, Instagram اور دیگر کمپنیز سے شیئر کر تا، اس حوالے سے پا کستا ن سمیت دنیا بھر کے صارفین کی جانب سے سخت اظہا ر بر ہمی کیا گیا،تو اس شدید ردِعمل کی وجہ سےWatsapp Privacy Policyمیں تبدیلی کا متنا زع فیصلہ مؤ خر کر نا پڑا۔کمپنی کے جا ری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہم نے صارفین کے احتجاج کے بعدایپلی کیشن سروسز کی شرائط میں تر میم ملتوی کر دی ہے اور 8فروری 2021کو کو ئی اکا ؤنٹ منسوخ نہیں کیا جا ئے گا۔ واضح رہے کہ فیس بک نے 2014میں واٹس ایپ کو19ارب ڈالر میں خرید لیا تھا،جس کے بعد ستمبر 2016سے واٹس ایپ اپنا ڈیٹافیس بک کے سا تھ شیئر کر رہا ہے۔ یعنی اگر ڈیٹا شیئرنگ ہو تی تو پہلی بار نہیں ہو ئی بس اس کا با قا عدہ اعلان پہلی مر تبہ ہو اہے۔
واٹس ایپ کے سر براہ کیتھ کارٹ نے اپنے ٹیو ٹر پیغام میں وضاحت دیتے ہو ئے کہا تھا کے ہم اپنی پالیسی شفاف بنانے اور لو گو ں کے لیےBussiness Features کی بہتر وضاحت کے لیے اسے اپ ڈیٹ کیا ہے۔ نئی پالیسی سے صارفین متا ثر ہوں گے، نہ ہی ان کا ڈیٹا کسی کو فراہم کیا جا ئے گاEnd to end encrypiod کے با عث واٹس ایپ اور فیس بک Private Calls and Messegesنہیں دیکھ سکتے۔ ہما رے لیے یہ بھی واضح طور پر سمجھنا ضروری ہے کہ اپ ڈیٹ کا روباری مواصالت کی وضا حت کر تی ہے تا کہ فیس بک سے پر سنل ڈیٹا شیئر کرے۔صارفین دوستوں اور گھر والوں سے نجی طو ر پر با ت چیت کر سکتے ہیں۔سائبر سیکورٹی سے مراد ہے کہ Digitalپلیٹ فارم پر کسی بھی سسٹم پر حملہ ہو نے سے قبل ہی اپنے نیٹ ورکس، سسٹمز وغیرہ کو محفوظ کیا جائے۔ ہم نو ے کی دہا ئی میں نہیں رہ رہے،جہاں زند گیا ں ایک ٹیلی فون، فیکس یا ای میلز تک محدود ہوں۔ دنیا گلو بل ویلج بن چکی ہے۔ گو کہ ہما را شمار تیسری دنیا کے مما لک میں ہو تا ہے لیکن پھر بھی 70فیصدسے زائدآبادی مو بائل فونز، اسمارٹ فون استعمال کر رہی ہے۔گویا انٹر نیٹ زندگی کا لازمی جز بن چکا ہے۔
دنیا کے امیر ترین شخصBill Gatesسا بق امریکی صدرBarak Obama، ایلون مسک، Appleاور Uberوغیرہ کے سوشل میڈیا اکا ؤنٹس ہیک ہو گئے تھے۔ اب ان واقعوں سے اندازہ لگا لیں کہ آج کے جدید دور میں سا ئبر سیکو رٹی کس قدر اہمیت کی حا مل ہے۔ سو شل میڈیا کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ہماری اپنی ہی غفلت کی وجہ سے سائبر کرائمز میں روز بہ روز اضا فہ ہو تا جا رہا ہے۔ اور افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ہمیں اس بات کا ادرک تک نہیں۔ جیسے جیسے نت نئی ایجادات سامنے آرہی ہیں جرائم کے طریقے کار بھی بدل رہے ہیں۔ اب وہ بھی سائیبر ہو گئے ہیں اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم بنا کچھ سوچے سمجھے اپنی نجی، گھر یلو معلوما ت سو شل میڈیا پر شیئر کرتے رہتے ہیں۔ پھر وہی تصاویر ویڈیوز ہما رے لیے وبالِ جان بن جاتی ہیں۔سائبر سیکورٹی ما ہر ین کا کہنا ہے کہ کچھ سوشل میڈیا اکاؤ نٹس بناتے وقت غیر ضروری نجی معلو مات جیسے گھر کا پتا وغیرہ دینے سے گریز کریں۔سوشل میڈیا اور سرچ انجن اکاؤنٹس کے لیے مشکل Passwardکا انتخاب کریں یہ سائبر کرائم سے بچنے کا واحد ذریعہ اور سمجھداری ہے۔اس حوالے سے سا ئبر سیکور ٹی مستحکم ومنظم کر نے کی اشد ضرورت ہے۔ بلکہ ملک گیر سطح پر آگا ہی مہم چلائی جان چا ہیے۔ سکول،کالجز میں سیمینا ر ہونے چا ہیں اور عصر حا ضرکی ضرورت کے پیش نظرسائبر سیکور ٹی کے حوالے سے نصاب میں بھی کو ئی سبق شامل ہو نا چا ہیے تا کہ نئی نسل کو اس کے بارے میں مکمل آگا ہی ہو۔اور وہ اپنا تحفظ کر سکیں۔سا ئبر کرائمز کے تدارک کی تو یہ اسی صورت ممکن ہے جب Prevention of Electronicrims Act, 2016 کو اپ ڈیٹ کیا جائے اور اس میں سزا ئیں سخت کی جا ئیں کیو ں کہ جب تک سزا کا خوف نہیں ہو گاتب تک جرائم کا خاتمہ نہیں ہو سکتا۔
کا لم نگار: احسا ن حبیب خان

Comments