گاڑی ابھی ٹریفک سگنل پر رکی ہی تھی کہ دائیں بائیں سے ایک لشکر گاڑی کی جانب لپکا میں جسے لاک ڈاؤن کی وجہ سے پچھلے چار ماہ بعد پہلی دفعہ کسی اشارے پر رکنے کا اتفاق ہوا تھا ایک دفعہ ششدر رہ گیا کہ شاید ٹریفک انتظامیہ نے خاموشی سے ٹریفک رولز تبدیل کرکے نئے پاکستان کا سنگ بنیاد رکھ دیا ہے مگر جسے ہی لشکر جرار نے گاڑی کا گھیراو کیا اور ساتھ ہی نعرہ بازی شروع کر دی تو میری تمام غلط فہمیاں رفو چکر ہو گئیں نعرے بازی کچھ یوں تھی" اللہ دا واسطہ ای، نبی ﷺدا واسطہ، علی ؓ دا صدقہ ای " اور ساتھ ہی واویلا شروع کر دیا کوئی میرا بچہ بھوکا ہے اور کوئی میرے بچے یتیم ہو گئے ہیں میں بیوہ ہوں کی آوازیں لگا رہی تھی اتنے میں ایک درد بھری آواز سنائی دی " میری ماں بیمار ہے جو ہسپتال میں داخل ہے علاج کے لیے پیسے نہیں ہیں میری کچھ مدد کریں " سبھی کی مجبوریاں اتنی نازک کہ اگر ان میں سے کسی کی بھی مدد نہ کی گئی تو شام ڈھلنے تک شاید کئی افراد بھوک اور مناسب علاج نہ ہونے کی وجہ کے سبب دنیا سے رخصت ہوجائیں۔ ایک عام پاکستانی شہری کی جیب سے زیادہ پیسے شاید ان کے ہاتھوں میں تھے ان کی چال ڈال اور حملے کے طریقہ کار سے ضروت مند کم اور عادی بھکاری زیادہ لگتے تھے باقی واللہ علم۔
آجکل پاکستان بلخصوص وفاق و کراچی سمیت پنجاب بھر میں بھکاریوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے آپ کسی بھی اشارے پر رکتے ہیں تو ٹریفک سے زیادہ بھکاری وہاں موجود ہوتے ہیں ہسپتالوں اور مساجد کے باہر بھی گدا گروں کا جم غفیر جمع ہوتا ہے گدا گروں نے بھیک مانگنے کی آڑ میں مزید کئی دھندے شروع کر رکھے ہیں خواتین گدا گروں کی بڑی تعداد جسم فروشی جیسے مکروہ دھندے میں ملوث پائی گئیں ہیں اور مرد گدا گر بھیک مانگنے کے ساتھ ساتھ چوری و ڈاکہ زنی جیسی وارداتوں میں ملوث پائے جاتے ہیں اور ان گدا گروں نے بھیک مانگنے کے نت نئے طریقے ایجاد کر رکھے ہیں کوئی گاڑیوں کے شیشے صاف کر رہا ہوتا ہے تو کوئی خراب پنسل فروخت کررہا ہوتا ہے۔گدا گری ایک اایسی لعنت ہے جو معاشرے کی بنیادیں کھوکھلی کر دیتی ہے اور معاشرہ اپنا عزت و وقار بھی کھو دیتا ہے جوکہ عالمی سطح پر بھی جگ ہنسائی اور اللہ کے عذاب کا بھی باعث بنتی ہے۔بظاہر تو پیسہ ہی ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں جا رہا ہوتا ہے مگر اس پیسے کے ساتھ ساتھ برکت بھی اٹھ رہی ہوتی ہے خیر کے دروازے بند اور شر کے دروازے کھلتے چلے جاتے ہیں حضور اکرم ﷺ نے کئی مقامات پر گدا گری جسی لعنت سے بچنے کی تاکید فرمائی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ " وہ شخص اللہ تعالی کو اس حالت میں ملے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت کا ایک ٹکڑا بھی نہیں ہوگا"۔دوسری جگہ فرماتے ہیں کہ" حقیرسے حقیر پیشہ بھیک مانگنے سے بہتر ہے"حضوراکرم ﷺ نے بھیک مانگنے سے بچنے کی تاکید اس لیے فرمائی کہ بھیک مانگنے سے جہاں انسان عزت و وقا رسے محروم ہوتا ہے تو اسے دیگر جرائم کرنے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی اس سے معاشرہ ایک غلط سمت چل پڑتا ہے ویسے بھی پیشہ ور بھکاری مستحق لوگوں کا حق چھین رہے ہوتے ہیں جس سے معاشرہ عدم مساوات کا شکار ہو جاتاہے اور سفید پوش لوگوں کی عزت کا جنازہ بھی نکل جاتا ہے۔اتنے اہم مسلے پر آپ قوم کی بے حسی ملاحظہ فرمائیں سماجی و معاشرتی برائیوں سے بچاؤ کے لیے نہ تو سول سوسائٹی آواز اٹھا رہی ہے اور نہ ہی اسلام کی تبلیغ کرنے والے علماء اکرام اس حساس موضوع پر لب کشائی کی جسارت رکھتے ہیں اور رہی بات حکمرانوں کی وہ تو اس معاملے میں شاید مکمل طور پر بے بس نظر آتے ہیں یہ قبرستان سی خاموشی خواب غفلت کی نہیں بلکہ مجرمانہ خاموشی ہے کیونکہ بھیک مانگنے جیسے گھٹیا کام کے حمام میں سب ننگے ہیں سول سوسائٹی کو دیکھا جائے جو ہر وقت خود بیرونی امداد کے منتظر ہوتے ہیں اور علماء اکرام کے زیر سایہ منبر و مخراب جہاں سے گدا گری کے خلاف آواز بلند ہونی چاہیے تھی وہاں سے دن رات بھیک مانگنے کی آوازیں سنائیں دیتی ہیں اور اگر مدارس کے نظام پر غور کریں توآپ کو یہ جان کر حیرانگی ہو گی کہ مدارس کا پورے کا پورا نظام ہی بل واسطہ یابلا واسطہ بھیک کے گرد ہی گھومتا ہے ابتدا میں تو سبھی مدارس بھیک سے ہی چلائے جاتے ہیں جسے مہذب الفاظ میں "چندہ" لکھا اور پڑھا جاتا ہے اسی طرح حکمران بھی بھیک مانگے بغیر ملک چلانے سے قاصر نظر آتے ہیں جسے کبھی قرضہ، کبھی امداد تو کبھی پیکج جیسے دلنشین الفاظ سے پکارا جاتا ہے۔ہمیں اس گدا گری جیسی لعنت سے نجات حاصل کرنے کے لیے نوجوانوں کوہنر مند تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ روزگارکے مواقع پیدا کرنے ہونگے علاج و تعلیم جیسی بنیادی ضروریات زندگی کو مکمل فری کرنا چاہیے معذور افراد کا ماہانہ بنیادوں پر وظیفہ مقرر کرنا چاہیے اور بے گھر معذورں کے لیے شیلٹر ہوم بنانے چاہیے اور معاشرے کے عام شہری میں دوسروں کی مدد کرنے کا جذبہ پیدا چاہیے تاکہ ضرورت مند کے ہاتھ پھیلانے سے پہلے اس کی مدد کی جاسکے۔بیشک " دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے"
کالم نگار: محمد عثمان


Comments