Skip to main content

"سب یاد رکھیں گے،بھولیں گے نہ''



 گواہ رہنا ہم منتظر تھیں ہماری آنکھیں اور دل غمزدہ تھے ہم نے اپنی جنگ گلی و سڑکوں پر مردوں کے شانہ بشانہ لڑی اپنے خاوند، بھائی و لخت جگر دفنائے اور عمر بھر اس پر افسوس نہ کیا جب بھارت نے ہمارا خطہ چھین لیا توایک سال گزرنے کے بعد گانا ریلیز ہو گاسب یادرکھیں گے!بھولیں گے نہیں "۔یہ ایک کشمیری معلمہ بہن کا کیا گیا ٹویٹ ہے جس میں وہ پاکستانیوں کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کر رہی ہے یہ ٹویٹ ایک اسے وقت پر کیا گیا جب مقبوضہ جموں و کشمیر میں لاک ڈاؤن کو لگے ہوئے5اگست کو ایک سال مکمل ہو جائے گا یہ صرف ایک کشمیر کی بیٹی کا دنیا کے مہنگے ترین گانے پر ردعمل ہی نہیں بلکہ یہ پاکستان کی کشمیر پالیسی کے حوالہ سے ایک سالہ کارکردگی رپورٹ بھی ہے اور غیرت مند پاکستانیوں کے منہ پر ایک زور دار طمانچہ بھی ایک سال گزر چکا کشمیری اپنی ہی جنت نظیر زمین پر اپنے ہی گھروں میں قید ہوکر دنیا سے کٹ چکے ہیں وہ مساجد میں نماز ادا نہیں کر سکتے جمعہ و عیدین کے اجتماع پر بھی مکمل پابندی ہے تمام نظام زندگی مفلوج ہوچکا ہے کوئی بھی کسی کے دکھ درد و شادی بیاہ میں شریک نہیں ہو سکتا اگر کوئی شہید ہوجائے تو نماز جنازہ بھی ادا نہیں کی جاسکتی لوگ اپنے پیاروں کو گھروں کے صحن میں دفن کرنے پر مجبور ہیں انٹرنیٹ و پریس پر پابندی کی بدولت دنیا بھر میں روزگار اور حصول تعلیم کی غرض سے پھیلے کشمیری اپنے پیاروں کے حالات سے لا علم کرب و اضطراب کی زندگی گزارنے پر مجبور و بے بس ہیں ابھی حال ہی میں دنیا نے لاک ڈاؤن و کرفیو زدہ زندگی گزارنے کی مشق کی ہے ایک ایسا لاک ڈاؤن جس میں اپنے ہی سیکورٹی ادارے تعینات تھے کھانے پینے و علاج معالجے کی تمام تر سہولیات کی فراہمی یقینی تھی، عالمی دنیاو اپنی اپنی مملکت کی جانب سے ضرورت مندوں کے لیے مختلف امدادی پیکجز کا اعلان، اپنے پیاروں سے رابطے کے لیے فری انٹرنیٹ و کالز بنڈلز کی سہولیات،تعلیمی سرگرمیوں کو جاری رکھنے Onlineکلاسز کا انعقاد، بچوں کے تعلیمی سال کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے پرموشن سسٹم کے تحت اگلی کلاسز میں ترقی،ان تمام تر سہولیات کی فراہمی کے باوجود بھی عوام پریشان، حکومتیں ناکام اور معیشت کادیوالیہ نکل چکا ہے، بے روزگاری کی شرح تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھو رہی ہے مسائل ہیں کے رکنے کا نام نہیں لے رہے اگر تمام تر سہولیات سے لبریز لاک ڈاؤن کا موازنہ کشمیر کے کرفیو سے کیا جائے تو کشمیر جیسی جنت نظیر وادی میں جہنم جیسی زندگی گزارنے کی اذیت کا اندازہ لگاناذرا مشکل نہیں ایک ایسا لاک ڈاؤن جس میں ذرا سی حرکت پر گولی کا سامنا کرنا پڑے، بھوک سے بلکتے بچوں کے لیے دودھ کو نکلنے والے شخص کو چھ سالہ نواسے کے سامنے خون میں نہلا دیا جائے،بوڑھی ماں کے لیے دوائی لینے کے لیے نکلنے والا جوان زندگی بھر گھر واپس نہ لوٹ سکے،جوان بیٹے کے جنازہ کو کندھا دینے کے لیے بوڑھے باپ کو گھر سے نکلنے کی اجازت نہ ملے،ذریعہ معاش کا واحد سہاراباغات جلا دیے جائیں، جانور ذبح کر دیے جائیں،سر چھپانے کے لیے چھت بھی چھین لی جائے،جوان بیٹیوں کی عزت پامالی کی روز دھمکیاں دی جائیں تو ذرا اندازہ کریں کیسی خوف ناک زندگی ہے کس حال میں کشمیری عوام زندگی گزار رہے ہیں مگر ہمارے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ہم مسلسل بے حسی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور بلی کو دیکھ کر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کی ہوئی ہیں ایک طرف جب کشمیریوں پر ظلم کے نت نئے طریقے متعارف کروائے جارہے ہیں تو دوسری طرف ہم بھی کشمیر کی آزادی کے لیے نت نئے طریقے متعارف کروا رہے ہیں کبھی جمعہ جمعہ 30 منٹ تک کھڑے ہو کر احتجاج تو کبھی ایک منٹ کی خاموشی اور اب ایک نیا فلسفہ سامنے آیا ہے کہ کشمیر ہائی وے کا نام تبدیل کر کے سرینگر ہائی وے رکھا جائے گااور ہمارے دفاعی ادارے بھی ملی نغموں پر ہی گزارہ کر رہے ہیں ہر دو تین ماہ بعد ایک نیا گانا ریلیز کر دیا جاتا ہے اور ساتھ ہی رٹارٹایا پالیسی بیان بھی داغ دیاجاتا ہے جبکہ عملی طور پر کارکردگی شدید مایوس کن ہے جس کا اب کشمیری اور پاکستانی عوام کو بخوبی اندازہ ہوچکا ہے جس کی تازہ مثال حالیہ ریلیز کیے جانے والے نغمے "جا چھوڑ دے میری وادی" پر عوامی ردعمل سے واضع ہے یہ سطور لکھتے وقت تک اس نغمے کو 8 ملین لوگ سن کر اپنے ردعمل کا اظہار کر چکے ہیں جن میں سے 6 ملین لوگ طنزیہ مسکراہٹ والا سگنل دے چکے ہیں باقی 2 ملین لوگوں میں Angry اور Care والے ایموجی شامل ہیں سوشل میڈیا صارفین اپنے اکاؤنٹس سے بھی خوب تنقیدکا نشانہ بنا رہے ہیں جس سے یہ واضح ہے کہ عوام بلخصوص نوجوان حکمرانوں کی کشمیر "ماموں بناؤ"پالیسیوں سے سخت نالاں ہیں جوکہ الارمنگ صورت حال ہے 5اگست 2020ء کو کشمیریوں سے کشمیر کی خصوصی حیثیت چھینے ایک سال مکمل ہوجائے گا جبکہ ہم ابھی تک یہ ہی فیصلہ نہیں کر پارہے کہ 30منٹ کھڑے ہونا ہے یا 2منٹ خاموش کھڑے ہونا ہے آپ ذرا ہماری اجتماعی  نالائقی ملاحظہ فرمائیں جس وقت پوری قوم وزیراعظم کے ساتھ کھڑی ہو کر کشمیریوں کے اظہار یکجہتی کا "ڈرامہ '' رچا رہی ہوگی اور کشمیریوں سے خون کے آخری قطرے تک وفاداری کے جھوٹے وعدے کیے جا رہے ہوں گے عین اسی وقت پاکستان کرکٹ ٹیم انگلینڈ میں کھیل کود میں مصروف ہو گی عوام جو ایک طرف کشمیریوں کے غم میں مرے جارہے ہوں گے دوسری طرف ایک ایک گیند پر تبصرے کر رہے ہوں گے آخر کب تک یہ دو رنگی منافقت چلے گی؟کب تک ہم کشمیریوں سے تمسخرپن کا مظاہرہ کرتے رہیں گے؟

کشمیری حریت رہنما سید علی گیلانی جنھوں نے اپنی پوری زندگی اسلام اور کشمیر کی آزادی کے وقف کر رکھی ہے مقبوضہ جموں و کشمیر میں اپنے آپ کو پاکستان کا سفیر سمجھتے ہیں جنھوں نے دنیا بھر میں "ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے" کا نعرہ بلند کیا اللہ اور قرآن کی نسبت سے اپنے آپ کو پاکستانی کہلواتے ہیں جو اب اپنی نخیف عمری کے باعث حریت تنظیموں کی قیادت سے مستعفی ہو چکے ہیں جن کی لازوال قربانیوں کی بدولت انھیں پاکستان کا سب سے بڑا سول ایوارڈ "نشان پاکستان" دینے کے لیے سینٹ میں قرار داد پیش کی گئی جو کثرت رائے سے منظور کر لی گئی مگر وفاقی وزرا نے اپنے سوشل میڈیا اکاونٹس سے قرارداد کی مخالفت کی جو کہ ہماری نالائقی کا منہ بولتا ثبوت ہے اور کشمیریوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے ہر موضوع پر بولنا اور اپنے رائے کا اظہار فرض تو نہیں ہے اگر ہم کسی شخص کی قربانیوں کی داد نہیں دے سکتے تو کم از کم منہ تو بند رکھ سکتے ہیں۔

کیا ہم بھول چکے ہیں کہ ہم تو نبی ﷺکے امتی ہیں جن کا فرمان اعلی شان کا مفہوم کہ" مسلمان جسد واحد کی طرح ہیں جس طرح جسم کے ایک حصہ پر تکلیف ہونے پر پورا جسم بے چین ہو جاتا ہے اسی طرح ایک مسلمان بھی دوسرے مسلمان بھائی کو تکلیف میں دیکھ کر کر ب میں مبتلا ہو جاتا ہے''۔کیا ہمارے ہیرو محمد بن قاسم نہیں ہیں جو ایک مظلوم بیٹی کی پکار پر حجاز مقدس سے مختصر قافلہ کے ساتھ روانہ ہوئے اور سندھ کے ظالم حکمران راجہ داہر کے ظلم کے خلاف مظلوموں کے دلوں کی آواز بن گئے اور ان کو ظلم سے نجات دلائی۔کیا ہم نے ارتغرل غازی سیریز سے سبق حاصل نہیں کیا کہ اپنا چھینا گیا حق کیسے واپس لیا جاتا ہے جس کی واضح مثال ارتغرل کے فتح کیے ہوئے علاقے سوگوت پر منگولوں کا قبضہ اور پھر ارتغرل کا اسے دوبارہ تلوار کے زور پر حاصل کرنا۔ مگر افسوس کے کشمیر میں مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا جا رہا ہے بہنوں و بیٹیوں کی عزتوں کو پامال کیا جا رہا ہے لوگوں کو ان کی جائیداد سے محروم کیا جا رہا ہے ہندووں کو زبردستی کشمیر کی شہریت دے کر کشمیر میں بسایا جا رہا ہے تاکہ کشمیر میں آبادی کے توازن کو بگاڑا جا سکے مگر افسوس صد افسوس آج کا مسلمان بلخصوص پاکستانی اتنا بے حس ہوچکا ہے انھیں نہ تو اپنی کٹتی ہوئی شہ رگ کی فکر ہے اور نہ ہی کعبہ سے زیادہ حرمت والی مسلم بیٹی کی لٹتی عزت کی پرواہ ہے وہ بہنیں جن کے ہاتھوں میں مہندی ہونی چاہیے تھی ان کے ہاتھوں میں اپنی ناموس کے دفاع کی خاطر پتھر ہیں جس ماتھے پر سونے کا ٹکاہونا چاہیے تھا اس ماتھے پر بندوق کی گولی کا نشان ہے جن آنکھوں میں مستقبل کے حسین خواب ہونے چاہیے تھے آنکھوں میں پیلٹ گن کے چھرے پیوست ہیں جس زبان پر بھائیوں کی سلامتی کے لیے دعائیں ہونی چاہیے تھی اس زبان پر شکوہ جاری ہے"سب یاد رکھیں گے،بھولیں گے نہیں "۔

روزنامہ تحریر پاکستان

کالم نگار: محمد عثمان

Comments

Popular posts from this blog

شجر کاری خدمت بھی عبادت بھی

انسانی زندگی کا دارومدار خوراک،پانی اور آکسیجن پر ہے خوراک اور پانی کے بغیر تو انسان چند دن زندہ رہ سکتا ہے مگر آکسیجن کے بغیر چند منٹ گزارنا بھی نا ممکن ہے آکسیجن کا سب سے بڑا ذریعہ درخت ہیں جن کو زمین کے پھپھڑے(Lungs)بھی کہاجاتاہے درخت آکسیجن کے ساتھ ساتھ خوراک کا بھی بڑا ذریعہ ہیں ان کی ضرورت و اہمیت کے متعلق تقریباََ دنیا کے ہر مذہب میں تلقین کی گئی ہے اسلام نے بھی درختوں کو کاٹنے کی ممانعت کی ہے محسن انسانیت حضرت محمدﷺ نے شجر کاری کو فروغ دینے کے لیے شجر کاری کو صدقہ جاریہ قرار دیا ہے ارشاد فرمایاکہ ''جو مسلمان درخت لگائے یا فصل بوئے پھر اس میں سے جو پرندہ یا انسان یا چوپایا کھائے تو پھر وہ اس کی طرف سے صدقہ شمار ہوگا''(بخاری)۔ آپ ﷺ نے شجر کاری کو اتنی اہمیت دی کہ دوران جنگ مفتوحہ علاقے میں فصلوں اور باغات کو نقصان پہنچانے سے سختی سے منع فرمایا ہے اور فرمایا کہ '' اگر قیامت کی گھڑی آجائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں پودا ہو اور وہ اس کولگا سکتا ہو تو لگائے بغیر کھڑا نہ ہو ''۔ اگر ہم انسان کے سانس لینے کے نظام پر غور کریں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ درخت...

فوجداری قوانين میں بڑی تبدیلياں

  فوجداری قوانین، 100 ترامیم، منشیات اور ریلوے مقدمات میں سزائے موت ختم، تفتیش 45 دن میں، غیرقانونی پولیس حراست پر 7 سال قید  وفاقی حکومت نے کریمنل لاءریفارمز2021ءکے تحت ضابطہ فوجداری ‘ضابطہ تعزیرات پاکستان اور قانون شہادت کی دفعات میں100سے زائد نمایاں تبدیلیاں تجویز کردیں‘ ریلوے ایکٹ اور منشیات کے مقدمات میں سزائے موت ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے‘پولیس کے سامنے دفعہ 161 ض۔ف کا بیان آڈیو /وڈیو ذرائع سے ریکارڈ کیا جا سکے گا‘ تفتیش 45روزکے اندر مکمل کی جائے گی‘. غیر قانونی پولیس حراست پر 7 سال قید کی سزاہوگی ‘قانون شہادت میں شہادت ریکارڈ کروانے کیلئے جدید الیکٹرانک ذرائع استعمال کرنے کی تجویز ہے، عدالت میں آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ،ای میل، فیکس، ٹیکسٹ پیغام بطور ثبوت تسلیم کئے جاسکیں گے. آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ کرنے والےکو بطور گواہ عدالت میں طلبی البتہ لازم نہیں ہوگی لیکن عدالت اطمینان کیلئے اسےطلب بھی کرسکتی ہے‘ درخواست ضمانت، بریت یا اخراج کو زیر التوا نہیں رکھا جاسکے گا‘ عدالت تین دن سے زیادہ کیلئے کیس کو ملتوی نہیں کرے گی جب تک کہ کوئی غیر معمولی وجوہات نہ ہوں لیکن عدالت کو وجہ تحر...

Plantation

 درخت اگائیں، زندگی بچائیں  انسانی زندگی کا دارومدار خوراک،پانی اور آکسیجن پر ہے خوراک اور پانی کے بغیر تو انسان چند دن زندہ رہ سکتا ہے مگر آکسیجن کے بغیر چند منٹ گزارنا بھی نا ممکن ہے آکسیجن کا سب سے بڑا ذریعہ درخت ہیں جن کو زمین کے پھپھڑے(Lungs)بھی کہاجاتاہے درخت آکسیجن کے ساتھ ساتھ خوراک کا بھی بڑا ذریعہ ہیں ان کی ضرورت و اہمیت کے متعلق تقریباََ دنیا کے ہر مذہب میں تلقین کی گئی ہے اسلام نے بھی درختوں کو کاٹنے کی ممانعت کی ہے محسن انسانیت حضرت محمدﷺ نے شجر کاری کو فروغ دینے کے لیے شجر کاری کو صدقہ جاریہ قرار دیا ہے ارشاد فرمایاکہ ''جو مسلمان درخت لگائے یا فصل بوئے پھر اس میں سے جو پرندہ یا انسان یا چوپایا کھائے تو پھر وہ اس کی طرف سے صدقہ شمار ہوگا''(بخاری)۔ آپ ﷺ نے شجر کاری کو اتنی اہمیت دی کہ دوران جنگ مفتوحہ علاقے میں فصلوں اور باغات کو نقصان پہنچانے سے سختی سے منع فرمایا ہے اور فرمایا کہ '' اگر قیامت کی گھڑی آجائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں پودا ہو اور وہ اس کولگا سکتا ہو تو لگائے بغیر کھڑا نہ ہو ''۔ اگر ہم انسان کے سانس لینے کے نظام پر غور کریں...