Skip to main content

Procedure of Senate election in Pakistan

 سینٹ الیکشن اور اس کا طریقہ کار


اسلامی جمہوریہ پاکستان کی پارلیمنٹ (مجلس شوری) دستور کی شق نمبر 50 کے تحت صدر اوردو ایوانوں پر مشتمل ہے سینٹ کو ایوان بالا اور قومی اسمبلی کو ایوان زیریں کہا جاتا ہے پاکستان کا پہلا اور دوسرادستور بالترتیب1956اور1962یک ایوانی مقننہ پر ہی مشتمل تھے مگر1973 کے دستور میں پاکستان کی قانون ساز اسمبلی کو دو ایوانوں میں تقسیم کر دیا گیاتھا جو تاحال قائم ہے بظاہر ایسا اس لیے کیا گیا تھا کہ قومی اسمبلی میں نمائندگان کی تعداد آبادی کے تناسب سے تقسیم کی گئی ہے اور سینٹ میں ممبران کی تقسیم صوبوں کے لحاظ سے تقسیم کی گئی ہے تاکہ ملکی قانون سازی میں چاروں صوبوں کو برابر نمائندگی ملے کسی صوبے کی حق تلفی نہ ہو اسی لیے سینٹ میں چاروں صوبوں میں سے الگ الگ 23  ارکان کو منتحب کیا جاتا ہے جن میں 14 جنرل، 4ٹیکنوکریٹ(ماہرین و علما اکرام)،4خواتین اور ایک اقلیتی نشست شامل ہوتی ہے اسی طرح 4 نشستیں وفاقی دارالحکومت اسلام آبادکی ہیں جو2جنرل، ایک عالم دین اور ایک خاتون پر مشتمل ہیں اور آٹھ نشستیں فاٹا کی تھی یوں کل ملا کر سینٹ کی 104 نشستیں بنتی ہیں مگر اب فاٹا خیبر پختونخواہ میں ضم ہو چکا ہے اس لیے اس کی آٹھ نشستیں اب ختم ہو چکی ہیں اس کے چار ارکان 2021 میں رئٹائر ہوگئے تھے اور باقی چار ارکان اب 2024 میں رئٹائر ہوچکے ہیں جن کی جگہ پرنئے ارکان منتخب نہیں ہونگے اس لیے اب سینٹ ممبران کی تعداد 96 ہو گی سینٹ کے امیدوار کے لیے ضروری ہے کہ ووٹ ڈالنے کا اہل ہو جس صوبے سے الیکشن میں حصہ لے رہا ہو اس صوبے کی ووٹر لسٹ میں نام بھی موجود ہواورعمر 30سال سے کم نہ ہوایک سینٹر کی مدت چھ سال ہوتی ہے ہر تین سال بعد سینٹ کے آدھے ممبران ریٹائرہوجاتے ہیں ان کی جگہ نئے منتحب ہو جاتے ہیں سینٹ ایک مستقل ادارہ ہے جو دستور کے آرٹیکل59کی شق نمبر3کے تحت کبھی بھی معزول نہیں ہو سکتا۔اگر سینٹ الیکشن کے طریقہ کار پر غور کیا جائے جو کہ انتہائی پچیدہ بھی ہے اور آسان بھی ہے۔آپ حیران ہونگے کہ میں نے سینٹ الیکشن کو سادہ اور پچیدہ دونوں کیوں کہا؟ آئیے پہلے سادہ طریقہ کار پر نظر دوڑاتے ہیں ہر صوبے کی سینٹ میں چونکہ 23،23سیٹیں ہیں اور ہر تین سال بعدآدھے ممبران سینٹ سے ریٹا ئر ہوجاتے ہیں یوں ایک دفعہ دوصوبوں میں 11 اور دوسری دفعہ 12سیٹوں پرانتخاب ہوتا ہے اسی لیے سال 2024ء میں پنجاب اور سندھ سے 12,12جبکہ خیبر پختونخواہ اور بلوچستان سے 11,11 نشستوں پر انتخابات ہورہاہے جس کے لیے متعلقہ صوبے کی صوبائی اسمبلی کی کل نشستوں کی سینٹ الیکشن میں خالی ہونے والی جنرل نشستوں پر تقسیم کر دیا جاتا ہے جو جواب آئے اس صوبے سے ایک سینٹر کو منتخب ہونے کے لیے اتنے ممبران صوبائی اسمبلی کے ووٹ درکار ہوتے ہیں جسے (Golden Figure)بھی کہا جاتا ہے مثال کے طور پر پنجاب اسمبلی کی کل نشستیں 371ہیں جبکہ سینٹ میں پنجاب کی 8جنرل نشستیں خالی ہیں جن پر الیکشن ہونا ہے اسی لیے 371کو 8پر تقسیم کر دیا جائے گا اور اسی طریقہ کار کے ذریعے پنجاب میں ایک سینٹر کو منتخب ہونے کے لیے 46ووٹ درکار ہیں اور سندھ میں 21، خیبر پختونخواہ سے 17 اور بلوچستان سے 9 ووٹ درکار ہیں جبکہ اسلام آباد کی جرنل نشست کے لیے قومی اسمبلی کی سادہ اکثریت درکار ہوتی ہے 



جبکہ سینٹ الیکشن کا پچیدہ طریقہ کار یہ ہے کہ اگر ایک امیدوار مطلوبہ ووٹوں کی تعداد سے زیادہ ووٹ حاصل کر لیتا ہے تو اس کے اضافی ووٹ دوسرے امیدواروں میں ترجیح بنیادوں پر تقسیم کر دیے جائیں گے مثلا بلوچستان سے ایک سینٹر کو منتخب ہونے کے لیے 9ووٹ مطلوب ہیں اگر وہ 9سے زیادہ ووٹ حاصل کر لیتا ہے تواس کے اضافی ووٹ بیلٹ پر لکھے گئے ناموں کی ترتیب سے تقسیم کر دیے جائیں گے ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ ایک بیلٹ پیپر پر 7 یا 8نام لکھنے ہوتے ہیں جس ترتیب سے نام لکھے جائیں گے اسی ترتیب سے ووٹ تقسیم کیے جائیں گے ایک امیدوار کے ووٹ زیادہ ہونے صورت میں دوسرے نمبرپر لکھے گئے نام والے امیدوار کو ووٹ دے دیا جائے اسی طرح جب دوسرے نمبر والے کی مطلوبہ تعداد پوری ہوجائے گی تو تیسرے نمبر والے امیدوار کو اضافی ووٹ دیا جائے اسی طرح بالترتیب آخری سیٹ تک ووٹ منتقل ہوتے جاتے ہیں دستور کے آرٹیکل 226 کے مطابق ووٹنگ خفیہ رائے دہی سے  ہوگی۔

سینٹ کو چلانے کے لیے چئیرمین اور ڈپٹی چئیرمین کا انتخاب کیا جاتا ہے ان کی مدت تین سال کے لیے ہوتی ہے صدر پاکستان کی ملک  میں عدم موجودگی یا رخصت کی صورت میں چئیرمین سینٹ بطور صدر فرائص سرانجام دیتا ہے اگر چئیرمین سینٹ بھی ملک میں نا ہو یا رخصت پر ہوتو پھر اسپیکر قومی اسمبلی بطور صدر فرائض سرانجام دیتا ہے چئیرمین و ڈپٹی چئیرمین اور اسپیکرو ڈپٹی اسپیکر کے عہدے غیر سیاسی ہوتے ہیں ان سیٹوں پر منتخب ہونے والے ممبر ان اسمبلی کو پارٹی وابستگی سے بالا ہوکر کام کرنا ہوتاہے جدید جمہوری ریاستوں امریکہ و برطانیہ وغیرہ  میں چئیرمین و سپیکر اتنے غیرجانبدار ہوتے ہیں کہ وہ اپنی پارٹی رکنیت سے ہی مستعفی ہوجاتے ہیں اورجو ایک بار منتخب ہوجائے وہ تقریباََ تاحیات یا جب تک وہ چاہیں ان عہدوں پر قائم رہتے ہیں اور ممبران پارلیمنٹ ان کو بار بار منتخب کرتے چلے جاتے ہیں خیر یہ تو بات ہورہی تھی پڑھے لکھے اور باشعور اقوام کے ممالک کی مگر ہمارے ہاں ہر کام کی طرح یہ گنگا بھی الٹی ہی بہتی ہے ابھی حال ہی میں مرکز اور پنجاب میں جو حکومتیں بنتی اور ٹوٹتی رہی ہیں اس میں سب سے اہم کردار اسپیکر کا تھا مگر وہ مکمل جانبدار تھے ملکی مفاد یا قانون کے مطابق چلنے کی بجائے پارٹی پالیسوں پر چلتے رہے اور پارلیمنٹ کے تنازعات بار بار عدالتوں میں جاتے رہے جس سے ملک میں زبردست قسم کے سیاسی و معاشی عدم استحکام نے جنم لیا اور پوری دنیا میں جھگ ہنسائی کا سبب بھی بنادراصل ہم ان اداروں کی قانونی و اخلاقی حیثیت سے ہی نابلد ہیں سینٹ کا ادارہ صوبوں میں رقبے اور آبادی کے بڑے فرق کو ختم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا تاکہ قانون سازی میں تمام صوبوں کو یکساں نمائندگی مل سکے مگر بدقسمتی سے پاکستان کے ہر ادارے کی طرح سینٹ بھی قانون سازی سے زیادہ اپنوں کو نوازنے والا ادارہ بن چکا ہے جس پر وڈیرے و جاگیرداروں کا قبضہ ہے دنیا کے سامنے خریدوفروخت کی منڈی لگتی ہے مگر کوئی پوچھنے والا نہیں بلکہ جو زیادہ ریٹ لگا کر خرید لے اسے بڑا کھلاڑی سمجھا جاتاہے جس کی بدولت عوام کا ان اداروں سے اعتماد ختم ہوچکا ہے لہذا عوام اب کسی بھی ایشو پر پارلیمنٹ کی بجائے جلسے جلوس اور احتجاجی تحریک کو اپنا نمائندہ سمجھتے ہیں جس سے ملک میں انارکی پھیلتی ہے جس ملک میں آئینی و قانونی ادارے اپنی ذمہ داری ایمانداری سے پوری نہیں کرتے وہ ممالک کبھی بھی ترقی کی دہلیز عبور نہیں کرسکتے اگر ہم چاہتے ہیں کہ عوام کا ان ادارو ں پر مکمل اعتماد بحال ہو تو ہمیں اداروں کو ایک دوسرے میں مداخلت سے مکمل پاک کرنا ہوگا ہر ادارہ و محکمہ اپنی آئینی و قانونی ذمہ داریاں پورے اور اپنی حدود میں راہ کر کام کرے تو وہ دن دور نہیں جب ملک پاکستان ترقی پذیر کی بجائے ترقی یافتہ ملک کہلائے مگر شاید ایسا اتنی آسانی سے ممکن عمل نہیں

Comments

Popular posts from this blog

شجر کاری خدمت بھی عبادت بھی

انسانی زندگی کا دارومدار خوراک،پانی اور آکسیجن پر ہے خوراک اور پانی کے بغیر تو انسان چند دن زندہ رہ سکتا ہے مگر آکسیجن کے بغیر چند منٹ گزارنا بھی نا ممکن ہے آکسیجن کا سب سے بڑا ذریعہ درخت ہیں جن کو زمین کے پھپھڑے(Lungs)بھی کہاجاتاہے درخت آکسیجن کے ساتھ ساتھ خوراک کا بھی بڑا ذریعہ ہیں ان کی ضرورت و اہمیت کے متعلق تقریباََ دنیا کے ہر مذہب میں تلقین کی گئی ہے اسلام نے بھی درختوں کو کاٹنے کی ممانعت کی ہے محسن انسانیت حضرت محمدﷺ نے شجر کاری کو فروغ دینے کے لیے شجر کاری کو صدقہ جاریہ قرار دیا ہے ارشاد فرمایاکہ ''جو مسلمان درخت لگائے یا فصل بوئے پھر اس میں سے جو پرندہ یا انسان یا چوپایا کھائے تو پھر وہ اس کی طرف سے صدقہ شمار ہوگا''(بخاری)۔ آپ ﷺ نے شجر کاری کو اتنی اہمیت دی کہ دوران جنگ مفتوحہ علاقے میں فصلوں اور باغات کو نقصان پہنچانے سے سختی سے منع فرمایا ہے اور فرمایا کہ '' اگر قیامت کی گھڑی آجائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں پودا ہو اور وہ اس کولگا سکتا ہو تو لگائے بغیر کھڑا نہ ہو ''۔ اگر ہم انسان کے سانس لینے کے نظام پر غور کریں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ درخت...

فوجداری قوانين میں بڑی تبدیلياں

  فوجداری قوانین، 100 ترامیم، منشیات اور ریلوے مقدمات میں سزائے موت ختم، تفتیش 45 دن میں، غیرقانونی پولیس حراست پر 7 سال قید  وفاقی حکومت نے کریمنل لاءریفارمز2021ءکے تحت ضابطہ فوجداری ‘ضابطہ تعزیرات پاکستان اور قانون شہادت کی دفعات میں100سے زائد نمایاں تبدیلیاں تجویز کردیں‘ ریلوے ایکٹ اور منشیات کے مقدمات میں سزائے موت ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے‘پولیس کے سامنے دفعہ 161 ض۔ف کا بیان آڈیو /وڈیو ذرائع سے ریکارڈ کیا جا سکے گا‘ تفتیش 45روزکے اندر مکمل کی جائے گی‘. غیر قانونی پولیس حراست پر 7 سال قید کی سزاہوگی ‘قانون شہادت میں شہادت ریکارڈ کروانے کیلئے جدید الیکٹرانک ذرائع استعمال کرنے کی تجویز ہے، عدالت میں آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ،ای میل، فیکس، ٹیکسٹ پیغام بطور ثبوت تسلیم کئے جاسکیں گے. آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ کرنے والےکو بطور گواہ عدالت میں طلبی البتہ لازم نہیں ہوگی لیکن عدالت اطمینان کیلئے اسےطلب بھی کرسکتی ہے‘ درخواست ضمانت، بریت یا اخراج کو زیر التوا نہیں رکھا جاسکے گا‘ عدالت تین دن سے زیادہ کیلئے کیس کو ملتوی نہیں کرے گی جب تک کہ کوئی غیر معمولی وجوہات نہ ہوں لیکن عدالت کو وجہ تحر...

Plantation

 درخت اگائیں، زندگی بچائیں  انسانی زندگی کا دارومدار خوراک،پانی اور آکسیجن پر ہے خوراک اور پانی کے بغیر تو انسان چند دن زندہ رہ سکتا ہے مگر آکسیجن کے بغیر چند منٹ گزارنا بھی نا ممکن ہے آکسیجن کا سب سے بڑا ذریعہ درخت ہیں جن کو زمین کے پھپھڑے(Lungs)بھی کہاجاتاہے درخت آکسیجن کے ساتھ ساتھ خوراک کا بھی بڑا ذریعہ ہیں ان کی ضرورت و اہمیت کے متعلق تقریباََ دنیا کے ہر مذہب میں تلقین کی گئی ہے اسلام نے بھی درختوں کو کاٹنے کی ممانعت کی ہے محسن انسانیت حضرت محمدﷺ نے شجر کاری کو فروغ دینے کے لیے شجر کاری کو صدقہ جاریہ قرار دیا ہے ارشاد فرمایاکہ ''جو مسلمان درخت لگائے یا فصل بوئے پھر اس میں سے جو پرندہ یا انسان یا چوپایا کھائے تو پھر وہ اس کی طرف سے صدقہ شمار ہوگا''(بخاری)۔ آپ ﷺ نے شجر کاری کو اتنی اہمیت دی کہ دوران جنگ مفتوحہ علاقے میں فصلوں اور باغات کو نقصان پہنچانے سے سختی سے منع فرمایا ہے اور فرمایا کہ '' اگر قیامت کی گھڑی آجائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں پودا ہو اور وہ اس کولگا سکتا ہو تو لگائے بغیر کھڑا نہ ہو ''۔ اگر ہم انسان کے سانس لینے کے نظام پر غور کریں...