جان وال پاکستان میں امریکی سفیر تھا تو صوبہ سرحد(خیبرپختونخوا) حکومت نے ورلڈ بنک سے قرضہ لیا ہوا تھا جس کی قسطیں مقرر وقت کے ساتھ جاری تھیں تو اچانک قرضے کی قسطیں روک لی گئی اور تمام منصوبوں پر کام رک گیا۔ اس وقت صوبہ سرحد (خیبر پختونخواہ)کے وزیر خزانہ سراج الحق نے امریکی سفیر سے پوچھاکہ ہمارا قرضہ کیوں روک لیا گیا ہے؟تو اس نے کہا کہ یہ جو پشاور سمیت صوبہ بھر کے شہروں میں خواتین کی تصاویر والے سائن بورڈ ہٹادیے گئے ہیں اس لیے قرضہ روک لیا گیا ہے، وزیر خزانہ نے جوابی سوال کیا کہ قرضے کا سائن بورڈ ااور صابن و شیمپو کی مشہوری والے اشتہارات سے کیا لینا دینا؟ سفیر صاحب نے پھر جو جواب دیا وہ کسی بھی باشعور عوام کو چوکنا کرنے کے لیے کافی ہے، ان کا کہنا تھا کہ اگر پیسہ ہم سے لینا ہے تو پھر ہمارا کلچربھی لینا ہے، ہماری ثقافت اور تہذیب بھی اپنانا ہوگی، اپنے معاشرے کو بھی ہمارے رنگ میں رنگنا ہوگا۔ اپنی نئی نسل کو بھی ہمارے تابع فرمانبردار کرنا ہوگا۔
HijabRow, AllahHuAkbar, Islamophobia, MuslimGirl
اس واقعہ کے بعد ویلنٹائن ڈے کی مقبولیت اور معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے راہ روی و فحاشی کے رجحان کو سمجھنا ذرا بھی مشکل نہیں رہا اور یہ کام وہ ڈھکے چھپے انداز میں نہیں بلکہ اعلی اعلان کررہے ہیں۔ صلیبی جنگوں میں عیسائی لشکر کے انٹیلی جنس کے ماہر ہرمن نے سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کو مخاطب کر کے کہا تھا کہ " ہم نے آپ کی قوم کے نوجوانوں میں فحاشی کے بیج بونا شروع کردیے ہیں وہ دن دور نہیں جب ان نوجوانوں کے دل ہماری مرضی کے مطابق دھڑکیں گے اور قبلہ اول دوبارہ ہمارے قبضے میں ہوگا"اورپھر انہوں نے یہ کر دیکھایا، آج اگر ہمارے شادی بیاہ سمیت دیگر تقریبات کا جائزہ لیں تو ہمیں بخوبی معلوم ہوگا کہ ہم مکمل طور پر مغربی کلچر کو اپنا چکے ہیں جبکہ دوسری طرف اسلام پسندمیں اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں جس کی حالیہ مثال گزشتہ روز بھارتی ریاست کرناٹک کی ایک یونیورسٹی میں حجاب اوڑھے فاطمہ شرپسند ہندووں کی فسطائیت کا مقابلہ کررہی ہے اور جے شری رام کا نعرہ لگانے والے ہجوم کے سامنے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کرتی ہے ہمارے تعلیمی اداروں کی تو بات ہی کیا کرنی ہے تعلیم کے نام پر تجارت ہے اور تجارت کو بڑھانے کے لیے ہر وہ ہتھکنڈا استعمال کیا جاتاہے جس سے نوجوان نسل بے راہ روی کا شکار اور تعلیم کی بجائے رنگا رنگ دنیا دیکھ کر متاثر ہوجس کے لیے ڈانس پارٹیاں،مخلوط محفلیں،نائٹ شواور کلچر ڈے کے نام پر بیہودگی کی تمام حدودپار کی جارہی ہیں فاتح قبل اول سلطان صلاح الدین ایوبیؒ نے بھی فرمایا تھا" جس قوم کو بغیر جنگ لڑے شکست دینا ہو تو اس قوم کے نوجوانوں میں فحاشی عام کردو" اورآج یہ عمل اپنے زوروشور سے جاری ہے۔ افسوس اس بات کا نہیں کہ معاشرے میں بے حیائی عام ہورہی ہے، ستم یہ ہے کہ ہم برائی کو برائی سمجھ ہی نہیں رہے۔
اگر ہم اپنے اردگرد ہی جائزہ لیں تو بے شمار ایسے کام ہورہے ہیں جو معاشرے کے لیے زہر قاتل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مگر ہم ان کو مکمل نظر انداز کیے ہوئے ہیں، آپ کسی بھی شاپنگ مال یا بازار چلے جائیں تو پلاسٹک کے مردو خواتین کے مجسمے انڈرگارمنٹس پہنے برائی کی طرف دعوت دیتے نظر آتے ہیں۔آپ کسی بھی انٹرٹینمنٹ چینل کو لگا کر دیکھ لیں وہاں پر بھی بے راہ روی کی سرعام ٹیوشن دی جارہی ہے۔ اب تو نیوز چینل کا یہ عالم ہے کہ وہاں پر بھی خبروں کے نام پر ایسے اندازمیں خبریں دی جاتی ہیں کہ دعوت کے تمام لوازمات پورے کیے ہوتے ہیں۔ جرم اور مجرم کے سراغ لگانے کے بہانے نوجوان نسل کو مکمل ٹریننگ دی جارہی ہے کہ دوستی کیسے کرنی ہے، پھر دوستی کو ناجائز تعلقات میں تبدیل کس بہانے کرنا ہے، تعلقات قائم کرنے کے بعد معاشرے اور گھر والوں سے چھپانا کیسے ہے، پکڑے جانے پر کیا کرنا ہے،اور آخر پر سبق کیا نکلا ہوتا ہے کہ یہ برا کام ہے اس سے خود بھی بچو اور دوسروں کو بھی بچاؤ۔ایسا ہی کچھ حال ہمارے خاندانی نظام کا ہوا پڑا ہے زندگی بھر پردہ کرنی والی،بغیر ضرورت کے گھر سے نہ نکلنے والی صوم صلوۃٰ کی پابند اکثر خواتین جب کسی تقریب میں شرکت کرتی ہیں تو شرم و حیاء کا جنازہ نکال دیتی ہیں سالہاسال پردہ و پرہیزگاری کا درس دینے والا مبلغ بھی شادی کی تقریب میں جینز پہنے جوان بچیوں کو صرف اس لیے نہیں روک پاتا کہ خوشی کا موقعہ ہے کونسا روز روز آنا ہے یہی تو اصل وقت ہوتا ہے پردہ و پرہیز گاری ہم معاشرے میں برائی اور دعوت گناہ کی تمام سہولیات آسانی سے مہیا کرکے ہم کیسے امید رکھ سکتے ہیں کہ بچوں سے زیادتی نہ ہو، خواتین کو حراساں نہ کیا جائے۔ ہم احمقوں کی کس جنت میں رہ رہے ہیں کہ کانٹے بو کر پھول کاشت کرنے چلے ہیں۔زہر خورانی کر کے صحت یابی کی دعا کیے جارہے ہیں۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ معاشرہ پرامن ہو، بچوں سے زیادتی کے واقعات میں کمی واقع ہو تو پھرہمیں مغربی تہذیب سے دامن بچانا ہوگا، اگر مغرب دولت اور ٹیکنالوجی کے بل بوتے پر ہمارے معاشرے کو اپنے رنگ میں رنگنا چاہتا ہے تو ہمیں مغرب کے مقابلے میں احتجاج اور زبانی جمع تفریق سے نکل کر عملی طور پر برائی کے منبوں کا راستہ روکنا چاہیے۔ جس کے لیے ہمیں Economyکے مقابلے میں Economy اور ٹیکنالوجی کے مقابلے میں ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے بڑھنا ہوگا۔ اور ہمیں اپنے معاشرے کو قرآن و حدیث کی روشنی میں حیاء کے کلچر کو پروان چڑھانا ہو گا۔حضور اکرمﷺ کا فرمان عالی شان ہے کہ: "حیاء ایمان کی شاخ ہے، حیاء خیر کو ہی لاتی ہے"
ایک اور موقع پر فرمایا:"حیاء اور ایمان ہمیشہ اکٹھے رہتے ہیں جب ان میں سے ایک اٹھا لیا جائے تو دوسرا بھی اٹھالیا جاتا ہے، اور جب تم میں حیاء باقی نہ رہے پھر تم جو چاہو کرو اور اللہ کا سب سے زیادہ حق ہے کہ اس سے حیاء کی جائے۔"
Comments