Skip to main content

”روزی“ درندوں کے نرخے میں




روزنامہ تحریر پاکستان

*اظہار جرات*

روزی گیبریلی(Rosie Gabrielle) خوبصورت نوجوان کینیڈین لڑکی ہے موٹر سائیکل پر دنیا کی سیر کرنا اس کا پسندیدہ مشغلہ ہے اسی شوق کو پورا کرنے کی غرض سے وہ افریقہ اور عرب ریاستوں سے ہوتی ہوئی پاکستان بھی آئی اور لمبا عرصہ اکیلی ہی گھومتی پھرتی رہی اس دوران وہ پاکستان کے پررونق شہروں میں بھی گئی معروف مزاروں، مساجد کو بھی دیکھا ویران صحراوں و جنگل بیابانوں کی سیربھی کی پہاڑوں کی چوٹیوں کو بھی سر کیااور چوٹیوں سے گرتی آبشاروں سے زلفوں کو بھی سنوارا اس نے میدانی علاقوں کی بھی سیر کی جہاں رات ہوئی وہاں نزدیکی علاقے میں گزار لی اس نے بڑے شاپنگ مال سے شاپنگ بھی کی اورریڑی والے سے نان چنے بھی کھائے چھابڑی والے سے فروٹ بھی خریدا اور سڑک کنارے چائے والے کھوکھے سے چائے کی چسکاریاں بھی لی لوگ ایک مادرپدر آزادمعاشرے کی لڑکی کو جینز پہنے اور سر پر ہیلمٹ سجھائے موٹر سائیکل پر اپنے علاقے سے گزرتے دیکھتے تو مسکرا کر اس کو سلام کرتے اور اسے جذبہ مہمان نوازی کے تحت کھانے پینے کی پیشکش بھی کرتے جسے وہ اکثر ہنسی خوشی قبول کر لیتی کیونکہ وہ تو لوگوں کا رہن سہن اور ان کی روایات دیکھنے ہی تو آئی تھی جہاں سے اس کا دل چاہتا کھا پی لیتی خواتین اس کو اپنے گھر آنے کی دعوت دیتی تو ماڈرن معاشرے کی پڑھی لکھی لڑکی گارے سے بنے گھروں میں اجنبی لوگوں کی مہمان بن جاتی الوداع ہوتے وقت اسے علاقائی تحائف سے بھی نوازہ جاتا وہ موٹروئے پر بھی سفر کرتی رہی اور جی ٹی روڑ پر موٹر سائیکل خوب بھگاتی اور بلا خوف خطر کچے ویران راستوں پر میلوں سفر کرتی اور ساتھ ساتھ حیران بھی ہوتی اپنے آپ کو کوستی بھی رہتی کہ مجھے تو پاکستان آنے سے پہلے بتایا گیا تھا پاکستان ایک ایسا خطہ ہے جہاں درندوں کا راج چلتا ہے جہاں انسانوں کی بجائے انسان نما حیوان رہتے ہیں مگر مجھے تو یہاں ایک بھی شیطان صفت انسان سے سامنا نہیں ہوا ہے ہر طرف مسکراہٹیں ہیں جذبہ مہمان نوازی ہے اور خلوص سے بھر پور انسانیت ہے ہر طرف پر سکون ماحول ہے لوگ خوش و خرم زندگی بسر کر رہے ہیں پاکستانیوں کے حسن سلوک سے متاثر ہو کر روزی نے انسانوں کی غلامی سے نکل کر ایک اللہ کی بندگی اختیار کر لی اور اپنے آباواجداد کا مذہب چھوڑ کر اسلام قبول کر لیا۔مگر میرے دیس کا نام نہاد دانشور اور سامراجی غلام میڈیا جسے زمین پر پڑی گندگی تو نظر آتی ہے لیکن اُسی زمین پر کھلے ہوئے پھول نظر نہیں آتے، جسے گندے پانی کے جوہڑ تو نظر آتے ہیں لیکن پہاڑوں سے پھوٹتے چشمے اور چشموں سے بنتی شفاف جھیلیں نظر نہیں آتیں، جسے جنسی درندگی تو نظر آتی ہے لیکن انسانیت کے ساتھ صلہ رحمی نظر نہیں آتی، جسے سانحہ لاہور موٹروے پرظلم کی شکار خاتون تو نظر آتی مگر پاکستانیوں کے حسن سلوک سے متاثر " روزی (Rosie) " کا قبول اسلام نظر نہیں آتا،جو 22کروڑ عوام کے دیس میں چند ایک جنسی زیادتی کے واقعات کو بنیاد کر پوری قوم کو درندااور حیوانوں کا معاشرہ ثابت کرنے پربضد ہوجاتے ہیں۔ جن کو وطن عزیز " اسلامی جمہوریہ پاکستان" کے نام کے ساتھ لگا لفظ "اسلامی" بھی ہضم نہیں ہوتااور ان کو یہ لفظ گلے میں اٹکی ہڈی کی مانند تکلیف پہنچاتا رہتا ہے وہ لوگ بھی سانحہ لاہور موٹروے جیسے واقعات پر اسلام کو بلاواسطہ تنقید کا نشانہ بناناشروع کر دیتے ہیں اور طعنہ زنی شروع کر دیتے ہیں کہ یہ تھا وہ ملک جس کو کلمہ کے نام پر بنایا گیا تھا؟یہ ہے وہ خطہ جسے اسلام کی درس گاہ بنانا مقصود تھا؟ مگر اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ آج تک ہم نے اس ریاست میں اسلام کو موقع ہی کتنا دیا، کب عدالتی اور انتظامی نظام کو اسلامی اصولوں پر استوار کیا؟ جیسے ہی مجرموں کی سرکوبی کے لیے اسلامی سزاؤں کا مطالبہ کیا جاتا ہے یہی میڈیا اور اسی میڈیا پر بیٹھے اکثر دانشور عالمی قوانین کی آڑ میں اپنے مذہب اور دین سے بغاوت تک کر جاتے ہیں اور معاشرے کو یوہی مجرموں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں۔ سانحہ موٹروے ہو یا کراچی میں زیادتی کا شکار ہونے والی معصوم بچی یا پشاور میں قتل ہونے والا خواجہ سرا ان سب کا مجرم ہر وہ لکھاری ہے جو بھابی و دیور اور چچی وبھتیجے کے درمیان عشقیہ ڈرامے لکھتا ہے، ہر وہ تاجر مجرم ہے جو اپنی دکانداری کی خاطر پلاسٹک کی بنی برہنہ خواتین کے مجسمے اور انڈر گارمنٹس کی برسربازار نمائش کرتا ہے وہ میڈیا ہے یوم حجاب کے مقابلے میں ویلننٹائن ڈے کی تشہیر کرتا ہے ہر وہ سیاسی کارکن و لیڈراور اس کی سیاسی جماعت مجرم ہے جو زیادتی کرنے والے مجرموں کو سرعام سزائے موت دینے کی مخالفت کرتے ہیں ہر وہ شہری مجرم ہے جو شادی کو مہنگا کرنے کا سبب بنتا ہے 

ہر وہ شخص اس بڑھتی ہوئی بے راہ وری کا ذمہ دار ہے جو ٹک ٹاک(Tik Tok) جیسی بے بہودہ ایپ کو چلانے میں راہ ہموار کرتا ہے اگر آپ لاہور مینار پاکستان پر خاتون کے ساتھ ہونے والی بدتمیزی پر بھی غیر جانبداری سے نظر دوڑائیں تو اس کے پیچھے بھی آپ کو راتوں رات مشہور ہوکر سلیبرٹی بننے کا جنون نظر آئے گا جھوٹی شہرت کی خاطر لائکس اور کمنٹ کی حوس غالب نظر آئے گی حراسمنٹ کا شکار ہونے والی عائشہ خاتون نے بھی دوستوں کے ساتھ ہر طرح کا بہودہ ٹک ٹاک بنا کر آزمالیا تھامگر کوئی خاص پذیرائی نہیں ملی تو سوچاموقع اچھا ہے ہزاروں کی تعداد میں منچلے اکھٹے ہوئے ہوں گے میں بھی جاکر قسمت آزمائی کر لوں اور جس کے لیے باقاعدہ انسٹاگرام پر دعوت دی کہ میں 14 اگست کو مینار پاکستان آرہی ہوں منچلے بھی ہر وقت کسی ایسی حرکت کی تلاش میں ہوتے ہیں کہ ایسا مشہور ہوں کے ہیرو بھی بن جائیں اور روزی روٹی کاسبب بھی بن جائے جس کی واضح مثال چند ماہ پہلے مشہور ہونے والی لڑکی کی ہے جو کہہ رہی ہوتی ہے یہ ہم ہیں، یہ ہماری کار ہے اور یہ پاوری ہورہی ہے ان لوگوں کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ ہماری معمولی سی حرکت ملک و قوم کو دنیا میں کتنا بدنام کردے گی جب ہم ایسے لوگوں کو راتوں رات ہیرو بنا کر معاشرے میں رول ماڈل بنا دیں گے تو ایسے واقعات ہونا کوئی اچنبے کی بات نہیں پھر ہمیں سانحہ مینار پاکستان جیسے حادثات کے ہمہ وقت تیار رہنا ہوگا 

آپ پورے ملک میں ہونے والے زیادتی کیسوں کا سروے کروالیں آپ حیران ہونگے کہ زیادہ ترمجرم آپ کو 30 تا 35 سال کی عمر کے ہی ملیں گے جو زمانے کی فرسودہ رسم و رواج کی بدولت مہنگی شادی کرنے سے قاصر اور پھر وہ شیطان کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں اور معاشرے میں بدامنی کا باعث بنتے ہیں انسان سے درندہ بننے کے تمام وسائل آسانی سے مہیا کر ے کے پھر یہ توقع رکھیں کہ اب یہ معاشرہ پرامن ہو ایسا کیسے ممکن ہو سکتاہے۔



اگر ہم معاشرے کو پرامن،بچوں اور خواتین کی عزتیں محفوظ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں 20سے 25سال کی عمر تک شادی کو لازمی قرار دینا ہو گا زیادتی کے مجرموں کو عالمی پریشر کو پس پشت رکھ کر سخت سزائیں دینا ہو ں گیں میڈیا کے ذریعے"روزی" جیسے واقعات کوپرموٹ کرنا ہوگا ہمیں مغربی تہذیب کے پیچھے بھاگنے کی بجائے اسلامی روایات کو فروغ دینا ہو چاہیے

Comments

Anonymous said…
Great

Popular posts from this blog

شجر کاری خدمت بھی عبادت بھی

انسانی زندگی کا دارومدار خوراک،پانی اور آکسیجن پر ہے خوراک اور پانی کے بغیر تو انسان چند دن زندہ رہ سکتا ہے مگر آکسیجن کے بغیر چند منٹ گزارنا بھی نا ممکن ہے آکسیجن کا سب سے بڑا ذریعہ درخت ہیں جن کو زمین کے پھپھڑے(Lungs)بھی کہاجاتاہے درخت آکسیجن کے ساتھ ساتھ خوراک کا بھی بڑا ذریعہ ہیں ان کی ضرورت و اہمیت کے متعلق تقریباََ دنیا کے ہر مذہب میں تلقین کی گئی ہے اسلام نے بھی درختوں کو کاٹنے کی ممانعت کی ہے محسن انسانیت حضرت محمدﷺ نے شجر کاری کو فروغ دینے کے لیے شجر کاری کو صدقہ جاریہ قرار دیا ہے ارشاد فرمایاکہ ''جو مسلمان درخت لگائے یا فصل بوئے پھر اس میں سے جو پرندہ یا انسان یا چوپایا کھائے تو پھر وہ اس کی طرف سے صدقہ شمار ہوگا''(بخاری)۔ آپ ﷺ نے شجر کاری کو اتنی اہمیت دی کہ دوران جنگ مفتوحہ علاقے میں فصلوں اور باغات کو نقصان پہنچانے سے سختی سے منع فرمایا ہے اور فرمایا کہ '' اگر قیامت کی گھڑی آجائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں پودا ہو اور وہ اس کولگا سکتا ہو تو لگائے بغیر کھڑا نہ ہو ''۔ اگر ہم انسان کے سانس لینے کے نظام پر غور کریں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ درخت...

فوجداری قوانين میں بڑی تبدیلياں

  فوجداری قوانین، 100 ترامیم، منشیات اور ریلوے مقدمات میں سزائے موت ختم، تفتیش 45 دن میں، غیرقانونی پولیس حراست پر 7 سال قید  وفاقی حکومت نے کریمنل لاءریفارمز2021ءکے تحت ضابطہ فوجداری ‘ضابطہ تعزیرات پاکستان اور قانون شہادت کی دفعات میں100سے زائد نمایاں تبدیلیاں تجویز کردیں‘ ریلوے ایکٹ اور منشیات کے مقدمات میں سزائے موت ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے‘پولیس کے سامنے دفعہ 161 ض۔ف کا بیان آڈیو /وڈیو ذرائع سے ریکارڈ کیا جا سکے گا‘ تفتیش 45روزکے اندر مکمل کی جائے گی‘. غیر قانونی پولیس حراست پر 7 سال قید کی سزاہوگی ‘قانون شہادت میں شہادت ریکارڈ کروانے کیلئے جدید الیکٹرانک ذرائع استعمال کرنے کی تجویز ہے، عدالت میں آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ،ای میل، فیکس، ٹیکسٹ پیغام بطور ثبوت تسلیم کئے جاسکیں گے. آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ کرنے والےکو بطور گواہ عدالت میں طلبی البتہ لازم نہیں ہوگی لیکن عدالت اطمینان کیلئے اسےطلب بھی کرسکتی ہے‘ درخواست ضمانت، بریت یا اخراج کو زیر التوا نہیں رکھا جاسکے گا‘ عدالت تین دن سے زیادہ کیلئے کیس کو ملتوی نہیں کرے گی جب تک کہ کوئی غیر معمولی وجوہات نہ ہوں لیکن عدالت کو وجہ تحر...

Plantation

 درخت اگائیں، زندگی بچائیں  انسانی زندگی کا دارومدار خوراک،پانی اور آکسیجن پر ہے خوراک اور پانی کے بغیر تو انسان چند دن زندہ رہ سکتا ہے مگر آکسیجن کے بغیر چند منٹ گزارنا بھی نا ممکن ہے آکسیجن کا سب سے بڑا ذریعہ درخت ہیں جن کو زمین کے پھپھڑے(Lungs)بھی کہاجاتاہے درخت آکسیجن کے ساتھ ساتھ خوراک کا بھی بڑا ذریعہ ہیں ان کی ضرورت و اہمیت کے متعلق تقریباََ دنیا کے ہر مذہب میں تلقین کی گئی ہے اسلام نے بھی درختوں کو کاٹنے کی ممانعت کی ہے محسن انسانیت حضرت محمدﷺ نے شجر کاری کو فروغ دینے کے لیے شجر کاری کو صدقہ جاریہ قرار دیا ہے ارشاد فرمایاکہ ''جو مسلمان درخت لگائے یا فصل بوئے پھر اس میں سے جو پرندہ یا انسان یا چوپایا کھائے تو پھر وہ اس کی طرف سے صدقہ شمار ہوگا''(بخاری)۔ آپ ﷺ نے شجر کاری کو اتنی اہمیت دی کہ دوران جنگ مفتوحہ علاقے میں فصلوں اور باغات کو نقصان پہنچانے سے سختی سے منع فرمایا ہے اور فرمایا کہ '' اگر قیامت کی گھڑی آجائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں پودا ہو اور وہ اس کولگا سکتا ہو تو لگائے بغیر کھڑا نہ ہو ''۔ اگر ہم انسان کے سانس لینے کے نظام پر غور کریں...