سینٹ الیکشن اور اس کا طریقہ کار
روزنامہ :تحریر پاکستان
کالم نگار:محمد عثمان
اسلامی جمہوریہ پاکستان کی پارلیمنٹ (مجلس شوری) دستور کی شق نمبر 50 کے تحت صدر اوردو ایوانوں پر مشتمل ہے سینٹ کو ایوان بالا اور قومی اسمبلی کو ایوان زیریں کہا جاتا ہے پاکستان کا پہلا اور دوسرادستور بالترتیب1956اور1962 یک ایوانی مقننہ پر ہی مشتمل تھے مگر1973 کے دستور میں پاکستان کی قانون ساز اسمبلی کو دو ایوانوں میں تقسیم کر دیا گیاتھا جو تاحال قائم ہے بظاہر ایسا اس لیے کیا گیا تھا کہ قومی اسمبلی میں نمائندگان کی تعداد آبادی کے تناسب سے تقسیم کی گئی ہے اور سینٹ میں ممبران کی تقسیم صوبوں کے لحاظ سے تقسیم کی گئی ہے تاکہ ملکی قانون سازی میں چاروں صوبوں کو برابر نمائندگی ملے کسی صوبے کی حق تلفی نہ ہو اسی لیے سینٹ میں چاروں صوبوں میں سے الگ الگ 23 ارکان کو منتحب کیا جاتا ہے جن میں 14 جنرل، 4ٹیکنوکریٹ(ماہرین و علما اکرام)،4خواتین اور ایک اقلیتی نشست شامل ہے اسی طرح 4 نشستیں وفاقی دارالحکومت اسلام آبادکی ہیں جو2جنرل، ایک عالم دین اور ایک خاتون پر مشتمل ہیں اور آٹھ نشستیں فاٹا کی تھی یوں کل ملا کر سینٹ کی 104 نشستیں بنتی ہیں مگر اب فاٹا خیبر پختونخواہ میں ضم ہو چکا ہے اس لیے اس کی آٹھ نشستیں اب ختم ہو گئی ہیں اس لیے اب سینٹ ممبران کی تعداد 96 ہو گی مگر 2021-24 تک سینٹ ممبران کی تعداد 100 رہے گی کیونکہ ابھی فاٹا کے آدھے اراکین کی مدت پوری ہوئی ہے جبکہ نئے نہیں بنیں گے لہذا باقی تعداد 4 ہوگی جو کہ 2024میں ختم ہو جائے گی یوں موجودہ قانون کے مطابق2021کے الیکشن کے بعد تعداد 100ہوگی جبکہ 2024کے بعد تعداد 96ہوگی۔ سینٹ کے امیدوار کے لیے ضروری ہے کہ ووٹ ڈالنے کا اہل ہو جس صوبے سے الیکشن میں حصہ لے رہا ہو اس صوبے کی ووٹر لسٹ میں نام بھی موجود ہواورعمر 30سال سے کم نہ ہوایک سینٹر کی مدت چھ سال ہوتی ہے ہر تین سال بعد سینٹ کے آدھے ممبران ریٹائرہوجاتے ہیں ان کی جگہ نئے منتحب ہو جاتے ہیں سینٹ ایک مستقل ادارہ ہے جو دستور کے آرٹیکل59کی شق نمبر3کے تحت کبھی بھی معزول نہیں ہو سکتا۔اگر سینٹ الیکشن کے طریقہ کار پر غور کیا جائے جو کہ انتہائی پچیدہ بھی ہے اور آسان بھی ہے۔آپ حیران ہونگے کہ میں نے سینٹ الیکشن کو سادہ اور پچیدہ دونوں کیوں کہا؟ آئیے پہلے سادہ طریقہ کار پر نظر دوڑاتے ہیں ہر صوبے کی سینٹ میں چونکہ 23،23سیٹیں ہیں اور ہر تین سال بعدآدھے ممبران سینٹ سے ریٹا ئر ہوجاتے ہیں یوں ایک دفعہ دوصوبوں میں 11 اور دوسری دفعہ 12سیٹوں پرانتخاب ہوتا ہے اسی لیے سال 2021ء میں پنجاب اور سندھ سے 11,11جبکہ خیبر پختونخواہ اور بلوچستان سے 12,12 نشستوں پر انتخابات ہورہاہے جس کے لیے متعلقہ صوبے کی صوبائی اسمبلی کی کل نشستوں کی سینٹ الیکشن میں خالی ہونے والی جنرل نشستوں پر تقسیم کر دیا جاتا ہے جو جواب آئے اس صوبے سے ایک سینٹر کو منتخب ہونے کے لیے اتنے ممبران صوبائی اسمبلی کے ووٹ درکار ہوتے ہیں جسے (Golden Figure)بھی کہا جاتا ہے مثال کے طور پر پنجاب اسمبلی کی کل نشستیں 371ہین جبکہ سینٹ میں پنجاب کی 7جنرل نشستیں خالی ہیں جن پر الیکشن ہونا ہے اسی لیے 371کو 7 پر تقسیم کر دیا جائے گا اور اسی طریقہ کار کے ذریعے پنجاب میں ایک سینٹر کو منتخب ہونے کے لیے 53ووٹ درکار ہیں اور سندھ میں 22، خیبر پختونخواہ سے 21 اور بلوچستان سے 9 ووٹ درکار ہیں جبکہ اسلام آباد کی جنرل نشست کے لیے قومی اسمبلی کی سادہ اکثریت درکار ہوتی ہے
جبکہ سینٹ الیکشن کا پچیدہ طریقہ کار یہ ہے کہ اگر ایک امیدوار مطلوبہ ووٹوں کی تعداد سے زیادہ ووٹ حاصل کر لیتا ہے تو اس کے اضافی ووٹ دوسرے امیدواروں میں ترجیح بنیادوں پر تقسیم کر دیے جائیں گے مثلا بلوچستان سے ایک سینٹر کو منتخب ہونے کے لیے 9ووٹ مطلوب ہیں اگر وہ 9سے زیادہ ووٹ حاصل کر لیتا ہے تواس کے اضافی ووٹ بیلٹ پر لکھے گئے ناموں کی ترتیب سے تقسیم کر دیے جائیں گے ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ ایک بیلٹ پیپر پر 7نام لکھنے ہوتے ہیں جس ترتیب سے نام لکھے جائیں گے اسی ترتیب سے ووٹ تقسیم کیے جائیں گے ایک امیدوار کے ووٹ زیادہ ہونے صورت میں دوسرے نمبرپر لکھے گئے نام والے امیدوار کو ووٹ دے دیا جائے اسی طرح جب دوسرے نمبر والے کی مطلوبہ تعداد پوری ہوجائے گی تو تیسرے نمبر والے امیدوار کو اضافی ووٹ دیا جائے اسی طرح بالترتیب آخری سیٹ تک ووٹ منتقل ہوتے جاتے ہیں رہا مسلہ خفیہ رائے دہی یاظاہر(اوپن رائے دہی)تو جب دستور کے آرٹیکل 226 میں لکھا ہے ووٹنگ خفیہ ہی ہوگی تو پھر اوپن بیلٹ کا شور مچانا، سپریم کورٹ میں صدارتی آرڈیننس کے سہارے درخواست دائر کرنا ملک و قوم کے وقت کے ضیاع کے سوا کچھ بھی نہیں کیونکہ سپریم کورٹ بھی پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے قانون کی ہی پابند ہے اگر حکمران خفیہ رائے دہی کروانا چاہتے ہیں تو قانون میں ترمیم کرنا ہوگی۔

Comments