Skip to main content

جس نےیونیورسٹی کی زندگی جی لی ہے اس نے دنیا سے اپنا حق حاصل کرلیا ہے

University Life

 یونیورسٹی لائف تک پہنچنا ہر نوجوان لڑکے لڑکی کی خواہش ہوتی ہے. یہ ایک سحر کی طرح ہوتی ہے جو ہم پر طاری ہو کر ہمیں حقیقت سے بے خبر کر دیتی ہے.

(Old Campus PU )

کلاس کوریڈورز میں فرش پر چوکڑی مار کر بے تکلفی سے بیٹھ جانا، کنٹین پر ساتھیوں کے ساتھ موسم کی ہر رت کا مزہ لینا، ٹیچر کو دلائل سے امپریس کر کے سارا دن فخر سے گھومنا اور ساتھی فی میلز کا متاثر ہونا خود کو ڈیپارٹمنٹ کے ہیرو اور ہیروئین سمجھنا، بے تکلفیاں، خوش گپیاں، شرارتیں اور یونیورسٹی کے در و دیوار میں گونجتے قہقہے، سب ایک دن خواب بن کر یادوں کے صحرا میں دفن ہو جائیں گے اور پاس آؤٹ ہونے کے بعد جب آپ آخری بار مڑ کر یونیورسٹی کے گیٹ کو کراس کر کے پیچھے مڑ کر دیکھیں گے تو اپنا آپ اور باقی دوست وہیں ہنستے مسکراتے اور گھومتے نظر آئیں گے پھر آہیں ہوں گی، سسکیاں ہوں گی اور آپ بوجھل دل سے گھر کو لوٹ آئیں گے.

(Main Library PU)

اگلا دن بہت الگ ہو گا طویل بوجھل جیسے تپتی دھوپ کا پہلا جھٹکا لگے. پھر اپنی شناخت کی جدو جہد ہو گی جاب کیریر کی تلاش، پھر آپکا چہرہ بھی بدل جائے گا جو یونیورسٹی میں تھا ویسا نہیں رہے گا.

عملی زندگی کی حقیقت، چہرے کی معصوم لالی چھین لے گی اور چہرے پر گھر بار کے تفکر ڈیرے ڈال لیں گے. جدوجہد ہو گی کوشش ہو گی.

(Punjab University Law College )PULC 

یونیورسٹی کی اٹھکیلیاں سب بھول جائیں گی چہرے پر سنجیدگی ہو گی۔ جب عرصہ بعد آپ یونیورسٹی آؤ گے تو بے چینی سے ادھر ادھر دیکھ کر دیوانہ وار اپنا آپ تلاش کرنےکی کوشش کرو گے یونیورسٹی کے حسین راستوں پر تنہا کھڑے ہو کر گم شدہ لمحوں کو بے قراری سے آوازیں دو گے لیکن وہ لوٹ کر نہیں آئیں گے پھر کینٹین کا رخ کرو گے کہ شاید وہاں کچھ مل جائے لیکن ناکام لوٹو گے وہاں تم اور تمہارے ساتھی نہیں ہوں گے لیکن وہاں بیٹھے انسانوں میں تمہیں کردار اپنے ہی نظر آئیں گے اور تم ان میں اپنا آپ محسوس کرو گے. 

 تمہارے فیورٹ پروفیسر تمہیں دیکھ کر کہیں گے کہ تم کتنے بدل چکے ہو تمہارے چہرے پر زندگی کی تلخیوں کی دھول کے نشان دیکھ کر کہیں گے یار تم میچور ہو چکے ہو.... وقت تمہاری سوچ تمہارا چہرہ تک بدل دے گا کبھی یادوں کو یاد کر کے رو دو گے تو کبھی روتے روتے ہنس پڑو گے.

(PU Old Campus)

جب سردیوں میں دھند راج کرے گی تمہیں وہ گرم شال میں لپٹی یونیورسٹی کے خوبصورت یو ٹرنز پر مسکراتی نظر آئے گی. جب کبھی عمدہ سموسے کھانے لگو گے تو ایک دم اسکی چھینا جھپٹی اور سوس کے لیے کنٹین پر ہنگامہ کرتی آواز سنائی دے گی تم کھاتے کھاتے رک جاؤ گے اور رو دو گے لیکن وقت پھر سوچ کو دھکا دے گا تم آگے بڑھ جاو گے.


(لاکالج دوستوں کے ساتھ)

سنو یہ تمہاری کہانی نہیں یونیورسٹی کے آنگن میں نہ جانے کتنی کہانیاں دفن ہیں اور سسکیاں لے رہی ہیں۔ کچھ ادھوری کچھ مکمل. پھر تم اس راستے سے کترا کر گزرو گے جو یونیورسٹی کو جاتا ہو گا تم سوچو گے بار بار یادوں کی اذیت کیوں سہنی پھر تم زمانہ کی گرد میں کھو کر کہی ان کہی ایک کہانی بن جاؤ گے😞

منقول

نوٹ :تمام تصاویر پنجاب یونيورسٹی کی ہی ہیں اگر قاٸرین میں سے کسی کے پاس اور کسی یونيورسٹی کی تصاویر ہیں برائے مہربانی کمنٹ میں بھج دیں تاکہ وہ بھی لگائی جاسکیں


Comments

Popular posts from this blog

شجر کاری خدمت بھی عبادت بھی

انسانی زندگی کا دارومدار خوراک،پانی اور آکسیجن پر ہے خوراک اور پانی کے بغیر تو انسان چند دن زندہ رہ سکتا ہے مگر آکسیجن کے بغیر چند منٹ گزارنا بھی نا ممکن ہے آکسیجن کا سب سے بڑا ذریعہ درخت ہیں جن کو زمین کے پھپھڑے(Lungs)بھی کہاجاتاہے درخت آکسیجن کے ساتھ ساتھ خوراک کا بھی بڑا ذریعہ ہیں ان کی ضرورت و اہمیت کے متعلق تقریباََ دنیا کے ہر مذہب میں تلقین کی گئی ہے اسلام نے بھی درختوں کو کاٹنے کی ممانعت کی ہے محسن انسانیت حضرت محمدﷺ نے شجر کاری کو فروغ دینے کے لیے شجر کاری کو صدقہ جاریہ قرار دیا ہے ارشاد فرمایاکہ ''جو مسلمان درخت لگائے یا فصل بوئے پھر اس میں سے جو پرندہ یا انسان یا چوپایا کھائے تو پھر وہ اس کی طرف سے صدقہ شمار ہوگا''(بخاری)۔ آپ ﷺ نے شجر کاری کو اتنی اہمیت دی کہ دوران جنگ مفتوحہ علاقے میں فصلوں اور باغات کو نقصان پہنچانے سے سختی سے منع فرمایا ہے اور فرمایا کہ '' اگر قیامت کی گھڑی آجائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں پودا ہو اور وہ اس کولگا سکتا ہو تو لگائے بغیر کھڑا نہ ہو ''۔ اگر ہم انسان کے سانس لینے کے نظام پر غور کریں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ درخت...

فوجداری قوانين میں بڑی تبدیلياں

  فوجداری قوانین، 100 ترامیم، منشیات اور ریلوے مقدمات میں سزائے موت ختم، تفتیش 45 دن میں، غیرقانونی پولیس حراست پر 7 سال قید  وفاقی حکومت نے کریمنل لاءریفارمز2021ءکے تحت ضابطہ فوجداری ‘ضابطہ تعزیرات پاکستان اور قانون شہادت کی دفعات میں100سے زائد نمایاں تبدیلیاں تجویز کردیں‘ ریلوے ایکٹ اور منشیات کے مقدمات میں سزائے موت ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے‘پولیس کے سامنے دفعہ 161 ض۔ف کا بیان آڈیو /وڈیو ذرائع سے ریکارڈ کیا جا سکے گا‘ تفتیش 45روزکے اندر مکمل کی جائے گی‘. غیر قانونی پولیس حراست پر 7 سال قید کی سزاہوگی ‘قانون شہادت میں شہادت ریکارڈ کروانے کیلئے جدید الیکٹرانک ذرائع استعمال کرنے کی تجویز ہے، عدالت میں آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ،ای میل، فیکس، ٹیکسٹ پیغام بطور ثبوت تسلیم کئے جاسکیں گے. آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ کرنے والےکو بطور گواہ عدالت میں طلبی البتہ لازم نہیں ہوگی لیکن عدالت اطمینان کیلئے اسےطلب بھی کرسکتی ہے‘ درخواست ضمانت، بریت یا اخراج کو زیر التوا نہیں رکھا جاسکے گا‘ عدالت تین دن سے زیادہ کیلئے کیس کو ملتوی نہیں کرے گی جب تک کہ کوئی غیر معمولی وجوہات نہ ہوں لیکن عدالت کو وجہ تحر...

Plantation

 درخت اگائیں، زندگی بچائیں  انسانی زندگی کا دارومدار خوراک،پانی اور آکسیجن پر ہے خوراک اور پانی کے بغیر تو انسان چند دن زندہ رہ سکتا ہے مگر آکسیجن کے بغیر چند منٹ گزارنا بھی نا ممکن ہے آکسیجن کا سب سے بڑا ذریعہ درخت ہیں جن کو زمین کے پھپھڑے(Lungs)بھی کہاجاتاہے درخت آکسیجن کے ساتھ ساتھ خوراک کا بھی بڑا ذریعہ ہیں ان کی ضرورت و اہمیت کے متعلق تقریباََ دنیا کے ہر مذہب میں تلقین کی گئی ہے اسلام نے بھی درختوں کو کاٹنے کی ممانعت کی ہے محسن انسانیت حضرت محمدﷺ نے شجر کاری کو فروغ دینے کے لیے شجر کاری کو صدقہ جاریہ قرار دیا ہے ارشاد فرمایاکہ ''جو مسلمان درخت لگائے یا فصل بوئے پھر اس میں سے جو پرندہ یا انسان یا چوپایا کھائے تو پھر وہ اس کی طرف سے صدقہ شمار ہوگا''(بخاری)۔ آپ ﷺ نے شجر کاری کو اتنی اہمیت دی کہ دوران جنگ مفتوحہ علاقے میں فصلوں اور باغات کو نقصان پہنچانے سے سختی سے منع فرمایا ہے اور فرمایا کہ '' اگر قیامت کی گھڑی آجائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں پودا ہو اور وہ اس کولگا سکتا ہو تو لگائے بغیر کھڑا نہ ہو ''۔ اگر ہم انسان کے سانس لینے کے نظام پر غور کریں...