Skip to main content

غیبی نصرت کی منتظر امت مسلمہ

 غیبی نصرت کی منتظر امت مسلمہ

ٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھے

پاؤں شیروں کے بھی میداں سے اکھڑ جاتے تھے

تھے تمہارے ھی وہ اجداد مگر اک تم ھو

ھاتھ پر ھاتھ دھرے منتظر فردا ھو 

(ڈاکٹر اقبال رحمتہ اللہ علیہ)

_______________________


غیبی مدد نہ تو سقوط ھسپانیہ (اسپین) کے وقت آئی نہ خلافت عثمانیہ کو بچانے کے لئے آئی نہ یہودی ریاست اسرائیل کا قیام روکنے کے لئے آئی نہ سقوط ڈھاکہ کے وقت نہ ھندؤں کے ھاتھوں اللہ کے گھر بابری مسجد کے انہدام کے وقت آئی نہ عراق کی تباہی اور شام کی بربادی کے وقت آئی نہ یمن اور لیبیا کی تباھی پر، نہ ھی میانمار(برما) کے مسلمانوں کو زندہ جلاتے وقت آئی نہ بھارتی گجرات  میں مسلمانوں اور انکی املاک کو ھندؤں کےھاتھوں جلاتے وقت آئی نہ مقبوضہ کشمیر میں مسلمان بچیوں کی آبرو ریزی اور شہریوں کے ناحق قتل عام  کے وقت آئی۔


پھر یہ گھروں اور مسجدوں میں دبک کر بیٹھے ھوئے مسلمان کہلانے والوں کی غیبی مدد کیلئےصدائیں کیسی  ؟؟؟؟


غیبی مدد جنگ بدر میں آئی جب جنگی سازو سامان اور اسلحہ سے لیس 1000 کے مقابلے میں انتہائی کم آلات حرب رکھنے والے صرف 313 اصحاب میدانِ جنگ میں اُترے پڑے

غیبی مدد جنگ خندق میں اسوقت آئی جب اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیٹ پر 2 پتھر باندھ کر صحابہ کیساتھ خود مدینہ المنورہ کے دفاع کیلئے خندق کھودی اور میدانِ جنگ میں ڈٹ گئے۔

غیبی مدد اسوقت افغانستان میں آئی جب جذبہ ایمانی سے سرشار قلیل تعداد میں مسلمان بے سرو سامانی کے عالم میں کفار کی کثیر اور جدید ترین اسلحہ اور سامان حرب کیساتھ منظم افواج کے خلاف میدانِ جنگ میں اُترے پڑے


جبکہ دوسری جانب دنیا کا قیمتی لباس پہن کر مال و زر جمع کر کے, لگژری ایئر کنڈیشنڈ گاڑیوں میں بیٹھ کر, لوگوں سے ہاتھ چوموانے کی خواہش رکھنے والے, لوگوں کی واہ واہ کی ہنکار کی خواہشات لئے مسجدوں کے ممبروں پر بیٹھ کر بددعائیں کر کے غیبی مدد کے منتظر ؟؟؟؟


طاغوت کے نظام پر راضی اور پھر غیبی مدد کے منتظر ؟؟؟؟؟


اللہ کی زمین پر اللہ اور اُس کے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نظام کے نفاذ کی جدوجہد کے بجائے صرف  نعت خوانی, محفلِ میلاد یا تسبیح کے دانوں کو دس لاکھ بیس لاکھ گھما کر غیبی مدد کے منتظر ؟؟؟؟؟


آفاقی دین کو چند جزئیاتِ عبادت میں محصور و مقید کر کے غیبی مدد کے منتظر ؟؟؟؟


مسلمانوں کو مجاہد کی بجائے مجاور بنا دینے کے بعد غیبی مدد کے منتظر ؟؟؟؟

  

جہاد فی سبیل اللہ اور جذبہ شہادت سے دُور رہ کر اور دُور رکھ کر مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و جبر اور مصائب و مشکلات دیکھ کر ٹس سے مس نہ ہوئے والوں کی پکار:


*یااللہ اسلام کے دشمنوں کو غرق کر دے.* 


*یااللہ اسلام کے دشمنوں کو تباہ و برباد کر دے.* 


*یا اللہ مظلوموں کی غیب سے مدد فرما.*


*یا اللہ دشمنوں کو ہدایت عطا فرما اور اگر اُن کے نصیب میں ہدایت نہیں تو انہیں غرق کر دے.*


ان جیسی بددعاؤں پر اکتفاء کر کے سکوت اختیار کر لینے اور سکون سے نوالہ حلق سے نیچے اُتار کر پیٹ بھر بھر کر گہری نیند سونے والے غیبی مدد کے منتظر ؟؟؟؟


یعنی سب کچھ اللہ کے ذمہ  لگا کر اور خود کنارہ کشی اختیار کر کے غیبی مدد کے منتظر ؟؟؟؟


میدان جہاد میں خود اُترنے سے ڈرتے اور کتراتے ہوئے محض آسمانوں سے فرشتوں کے نازل ہو کر مسلمانوں کی غیبی مدد کروانے کے منتظر ؟؟؟؟


*کیا نعوذباللہ اللہ ربّ العزت اور اُس کے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی واضح ھدایات سے روگردانی کرتے ہو ؟؟؟؟*


سُنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو ہمیں بتاتی ہے کہ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میدانِ جنگ میں سارے وسائل اور اپنا سب کچھ جھونک دیا اور بعد میں اللہ کی غیبی نصرت کی دعا کے لئے ہاتھ بلند فرمائے جبکہ آج کا بودہ مسلمان نہ دُعا سے پہلے اور نہ دعا کے بعد کوئی عملی اقدامات وجدوجہد کرتاہے.


*ایسی صورت میں نصرت الٰہی  کیسے ملے گی البتہ بے عملی کے نتیجے میں صرف اللہ کی پکڑ اور عذاب ھی واجب لگتا  ہے نہ کہ کوئی غیبی مدد.*

ترکی کے اسلامی مفکر نجم الدین اربکان کے بقول اتنی کثرت سے پائی جانے والی امت اگر اللہ کے دشمنوں کے مقابلے میں عملی اقدام کرنے کی بجائے ابابیلوں کی مدد طلب کرتی ھے تو اس بات کا احتمال ھے کہ ابابیل بے عمل مسلمانوں پر ھی کنکر برسا دیں گے

Comments

Popular posts from this blog

شجر کاری خدمت بھی عبادت بھی

انسانی زندگی کا دارومدار خوراک،پانی اور آکسیجن پر ہے خوراک اور پانی کے بغیر تو انسان چند دن زندہ رہ سکتا ہے مگر آکسیجن کے بغیر چند منٹ گزارنا بھی نا ممکن ہے آکسیجن کا سب سے بڑا ذریعہ درخت ہیں جن کو زمین کے پھپھڑے(Lungs)بھی کہاجاتاہے درخت آکسیجن کے ساتھ ساتھ خوراک کا بھی بڑا ذریعہ ہیں ان کی ضرورت و اہمیت کے متعلق تقریباََ دنیا کے ہر مذہب میں تلقین کی گئی ہے اسلام نے بھی درختوں کو کاٹنے کی ممانعت کی ہے محسن انسانیت حضرت محمدﷺ نے شجر کاری کو فروغ دینے کے لیے شجر کاری کو صدقہ جاریہ قرار دیا ہے ارشاد فرمایاکہ ''جو مسلمان درخت لگائے یا فصل بوئے پھر اس میں سے جو پرندہ یا انسان یا چوپایا کھائے تو پھر وہ اس کی طرف سے صدقہ شمار ہوگا''(بخاری)۔ آپ ﷺ نے شجر کاری کو اتنی اہمیت دی کہ دوران جنگ مفتوحہ علاقے میں فصلوں اور باغات کو نقصان پہنچانے سے سختی سے منع فرمایا ہے اور فرمایا کہ '' اگر قیامت کی گھڑی آجائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں پودا ہو اور وہ اس کولگا سکتا ہو تو لگائے بغیر کھڑا نہ ہو ''۔ اگر ہم انسان کے سانس لینے کے نظام پر غور کریں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ درخت...

فوجداری قوانين میں بڑی تبدیلياں

  فوجداری قوانین، 100 ترامیم، منشیات اور ریلوے مقدمات میں سزائے موت ختم، تفتیش 45 دن میں، غیرقانونی پولیس حراست پر 7 سال قید  وفاقی حکومت نے کریمنل لاءریفارمز2021ءکے تحت ضابطہ فوجداری ‘ضابطہ تعزیرات پاکستان اور قانون شہادت کی دفعات میں100سے زائد نمایاں تبدیلیاں تجویز کردیں‘ ریلوے ایکٹ اور منشیات کے مقدمات میں سزائے موت ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے‘پولیس کے سامنے دفعہ 161 ض۔ف کا بیان آڈیو /وڈیو ذرائع سے ریکارڈ کیا جا سکے گا‘ تفتیش 45روزکے اندر مکمل کی جائے گی‘. غیر قانونی پولیس حراست پر 7 سال قید کی سزاہوگی ‘قانون شہادت میں شہادت ریکارڈ کروانے کیلئے جدید الیکٹرانک ذرائع استعمال کرنے کی تجویز ہے، عدالت میں آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ،ای میل، فیکس، ٹیکسٹ پیغام بطور ثبوت تسلیم کئے جاسکیں گے. آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ کرنے والےکو بطور گواہ عدالت میں طلبی البتہ لازم نہیں ہوگی لیکن عدالت اطمینان کیلئے اسےطلب بھی کرسکتی ہے‘ درخواست ضمانت، بریت یا اخراج کو زیر التوا نہیں رکھا جاسکے گا‘ عدالت تین دن سے زیادہ کیلئے کیس کو ملتوی نہیں کرے گی جب تک کہ کوئی غیر معمولی وجوہات نہ ہوں لیکن عدالت کو وجہ تحر...

Plantation

 درخت اگائیں، زندگی بچائیں  انسانی زندگی کا دارومدار خوراک،پانی اور آکسیجن پر ہے خوراک اور پانی کے بغیر تو انسان چند دن زندہ رہ سکتا ہے مگر آکسیجن کے بغیر چند منٹ گزارنا بھی نا ممکن ہے آکسیجن کا سب سے بڑا ذریعہ درخت ہیں جن کو زمین کے پھپھڑے(Lungs)بھی کہاجاتاہے درخت آکسیجن کے ساتھ ساتھ خوراک کا بھی بڑا ذریعہ ہیں ان کی ضرورت و اہمیت کے متعلق تقریباََ دنیا کے ہر مذہب میں تلقین کی گئی ہے اسلام نے بھی درختوں کو کاٹنے کی ممانعت کی ہے محسن انسانیت حضرت محمدﷺ نے شجر کاری کو فروغ دینے کے لیے شجر کاری کو صدقہ جاریہ قرار دیا ہے ارشاد فرمایاکہ ''جو مسلمان درخت لگائے یا فصل بوئے پھر اس میں سے جو پرندہ یا انسان یا چوپایا کھائے تو پھر وہ اس کی طرف سے صدقہ شمار ہوگا''(بخاری)۔ آپ ﷺ نے شجر کاری کو اتنی اہمیت دی کہ دوران جنگ مفتوحہ علاقے میں فصلوں اور باغات کو نقصان پہنچانے سے سختی سے منع فرمایا ہے اور فرمایا کہ '' اگر قیامت کی گھڑی آجائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں پودا ہو اور وہ اس کولگا سکتا ہو تو لگائے بغیر کھڑا نہ ہو ''۔ اگر ہم انسان کے سانس لینے کے نظام پر غور کریں...