قیام پاکستان کے ابتدائی دنوں کا واقعہ ہے کہ ایک ٹرین جو بھارت سے پاکستان کی طرف ہجرت کرنے والے لوگوں سے بھری تھی جس کی منزل محفوظ،پرامن اور اسلام کی تجربہ گاہ پاکستان تھی ٹرین میں سوار مہاجروں میں سے زیادہ ترلوگ ہندووں کی بربریت کا شکار بن گئے باقی خون سے لت پت ٹرین میں سوار لوگ جیسے ہی پاکستان کی حدود میں پہنچے تو مختلف اسٹیشنوں پر اترتے گئے ایک لڑکی جس کا پورے کا پورا خاندان ہندووں کے ہاتھوں شہید ہو چکا تھا وہ اکیلی خوف کے مارے کسی بھی اسٹیشن پر اترنے سے ڈر رہی تھی ڈبے میں صرف ایک مرد اور ناموس کی خاطر پورے خاندان کی قربانی دینے والی اکلوتی لڑکی رہ گئے تھے اتنے میں اکیلی لڑکی کو دیکھ کر مرد کی نیت خراب ہوجاتی ہے اور وہ اس کی عزت کا دشمن بن بیٹھتا ہے لڑکی اس کی لاکھ منت سماجت کرتی ہے کہ اس ناموس کی حفاظت کی خاطر میرا خاندان برباد ہوگیا ہے لہذا اب اس عزت کے سوا کچھ نہیں بچا ہے خدارا معاف کرو مگر اس عزت کے لٹیرے پر وحشت طاری ہے وہ اپنی نازیبا حرکتوں سے باز نہیں آتاآخر کار لڑکی عزت بچانے کی خاطر چلتی ٹرین سے چھلانگ لگا دیتی ہے اور اس مرد کی آنکھوں کے سامنے بجلی کے کھمبے سے ٹکراتی ہے اور اپنی جان خالق حقیقی کے سپرد کردیتی ہے اس سب منظر کو دیکھنے والا دنیا میں کوئی نہیں تھا مجرم اکیلا گواہ تھا اور جنگل بیاباں میں شاید لڑکی کو کفن بھی نصیب نہیں ہوا ہوگامرد اگلے اسٹیشن پر اترتا ہے اور اپنی روزمرہ زندگی میں مشغو ل ہوجاتاہے وہ اسلام کے نام پر بننے والے پاکستان کی خاطر خاندان کی قربانی دینے والی لڑکی کی موت کو ایک معمولی واقع سمجھ کر بھول جاتا ہے کہ اس قتل کا دنیا میں کسے پتا ہے مجھے کون سی سزا ہوجانی ہے مکمل مطمئن ہوتاہے اور ہنسی خوشی زندگی گزار رہا ہوتاہے کہ اچانک اسے ایک دن راولپنڈی عدالت سے قتل کے الزام میں گررفتاری کا وارنٹ دکھا کر اسے گرفتار کر لیا جاتا ہے اور عدالت میں پیش کردیا جاتا ہے۔
اب یہاں سے سچائی پر مبنی واقعے میں ایک نیا موڑ آتا ہے کہ اس مرد کو جس قتل کے الزام میں گررفتار کیا جاتاہے اس قتل سے اس کا کچھ بھی لینا دینا نہیں تھا آپ یوں سمجھیں کہ جیسے کراچی کی کسی گلی میں اندھا قتل ہو اور گرفتار آپ کو کرلیا (پڑھنے والے کو)
عدالت میں کیس چلا ٹرائل ہوا حتی کہ پوری کاروائی مکمل ہوئی اور اس شخص کو کسی اجنبی قتل کے کیس میں موت کی سزا سنادی گئی
اب یہاں پر اس شخص پر سچائی عیاں ہوتی ہے کہ میں نے یہ قتل تو نہیں کیا جس میں مجھے سزا ہوئی ہے مگر ایک قتل کا سبب تو بنا ہوا ہوں جس کامیرے اللہ اور میرے سوا کوئی گواہ نہ تھا مگر میرا مالک قادر مطلق ہے جو معاف کرنے پر آئے تو سو لوگوں کے قاتل کو معاف کر دے اگر سزا دینے پر آئے تو اندھے قتل کے مجرم کو بھی عبرت بنا دے۔
آج مورخہ 17-06-2021 کے پاکستان کے ٹویٹر ٹرینڈ دیکھ کروہ منظر پھر یاد آگیا کہ دنیا بلخصوص پاکستانی قوم جانتی ہے کہ تصویر میں نظر آنے والا پہلا ٹرینڈ سراسر غلط اور جھوٹ پر مبنی ہے اور دوسرے نمبر پر چلنے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے مطلق چلنے والے ٹرینڈ سے پہلے کے ملزموں کا بظاہر کوئی لینا دینا نہیں۔مگر حقیقت میں وہی ہو رہا ہے جو مندرجہ بالا واقع میں ہوا
پاکستانی قوم جانتی ہے کہ پہلا ٹرینڈ سراسر الزام ہے
مگر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکیوں کے ہاتھوں فروخت کس نے کیا؟
تیسرا ٹرینڈ وارنگ ہے سنبھل جاؤ سدھر جاؤ ورنہ اللہ کی پکڑ بڑی سخت ہے۔
#اظہار جرات

Comments