* ہماری کہانی*
کمپیوٹر اور گیمنگ کے شوقین تو ہمارے احمد میاں پانچ سال کی عمر سے ہی تھے۔گیمز کا ایسا جنون کہ یو ٹیوب پر ویڈیوز بھی گیمز کی ہی لگاتے۔سات سال کی عمر میں ناظرہ قرآن مکمل ہوا تو پہلی فرمائش صاحبزادے نے اپنے ڈیسک ٹاپ کی ڈالی۔ہم نے بھی پوری کرنے میں عار نہیں سمجھا کہ اس طرح انکی سرگرمیاں ہماری نظر میں رہیں گی۔کچھ عرصہ تو پر سکون گزرا جب تک شوق آن لائن گیمز کی ویڈیو دیکھنے تک تھا اور سکرین ٹائمنگ بھی دو سے تین گھنٹے رہی۔رفتہ رفتہ یہ سلسلہ گیمز کھیلنے تک جا پہنچا۔کچھ عرصہ محدود انٹرنیٹ کے ساتھ اس عادت کو بھی کنٹرول رکھا۔الحمدللہ بہت بدنام زمانہ گیمز سے تو دور رکھا لیکن پھر بھی یہ جنون بڑھتا رہا۔رہی سہی کسر لاک ڈاؤن کے دنوں میں پوری ہو گئی جب اور کوئی مشغلہ ہی نہ رہا۔پہلے پہل تو یہ گیمنگ اپنے ہی جاننے والے ںچوں کے ساتھ رہی لیکن وہ عمر میں احمد سے بڑےتھے ۔بڑی عمر کے بچوں کے ساتھ کھیلنے سے انکے مزاج میں کچھ عجیب تبدیلی آنی شروع ہوئی۔چھوٹے بھائیوں پر رعب زیادہ رکھنا،دوسروں کو کم علم اور احمق سمجھنا،ماما آپکو کچھ نہیں پتہ اور ماما آپ کچھ نہ کہیں وغیرہ۔پھر اعلیٰ برانڈ کے ہیڈ فون،کی بورڈ ،گرافک کارڈ کی فرمائش اور سب سے پریشان کن تعلیم سے ںبیزاری۔۔۔۔۔دلائل کا انبار کہ فلاں مشہور آدمی بھی پڑھائ اور سکول کو ناپسند کرتا اور فلاں بھی۔آپ مجھے مجبور نہ کریں مجھے تو ویسے بھی یو ٹیوب پر گیمنگ ویڈیوز بنانی ہیں،مجھ کیا کرنا ہے پڑھ کر۔
اس دوران مسلسل کونسلنگ اور بیٹے کی تمام تر دلیلوں کا جواب نہایت تحمل سے دے کر اسکو قائل کرنے کا سلسلہ چلتا رہا۔نمازوں سے شدید بیزاری پر بھی سختی سے پڑھواتی رہی۔بچے اپنے ابا سے لگاؤ کے باوجود ڈرتے ہیں۔
لہذا پہلا قدم انکے ابا سے اٹھوایا۔😊
ایک دن صبح ہی کمپیوٹر ڈسکنکٹ کر دیا گیا جب احمد میاں نے سکول نہ جانے کا اعلان فرمایا۔ساتھ ہی میں نے ہیڈ فون بھی گم کر دیے۔پہلے تین دن تو صاحبزادے کے جس کرب میں گزرے،وہ نہایت صبر آزما تھا۔اللہ سے دعائیں اور صبر مانگتی رہی اور اسکی باتوں لڑائ غصے کا جواب تحمل سے دیتی رہی۔کھانے پینے سے زیادہ انکار پر ڈانٹا بھی۔بیٹے کے مستقل بہتے آنسو بھی نظر انداز کیے۔اور جزباتی ڈائلاگ بھی۔مثلاً۔۔۔مما آپ نے میری لائف سے خوشی ختم کر دی۔اب میں ہمیشہ sad رہوں گا۔جو آپ چاہتی ہیں کبھی نہیں کروں گا اور نمازیں بالکل نہیں پڑھوں گا وغیرہ۔انتقاماً کسی بھی متبادل کھیل کو ہاتھ نہ لگایا۔
اس سب احتجاج کے جواب میں میرا یہی بیان رہا،کہ میں اپنے بیٹے کو شیطان کے جال سے نکال رہی ہوں،آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں یہ تو اصل میں وہ آپ سے کہلوا رہا ہے،جو آپ کو مما بابا سے بدتمیزی کرائے اور نماز سے دور لے جائے،وہ کبھی آپکا دوست نہیں ہو سکتا وغیرہ۔
بیٹے کو یہی کہا کہ کہ یہ ماما کی غلطی تھی کہ آپ کو چھوٹی عمر میں ایسی چیز allow کر دی جس نے آپکو شیطان کے قبضے میں دے دیا اور یہ موڈ swings اور غصہ وہ آپ سے کرا رہا ہے تو مجھے برداشت کرنا ہے۔
کسی وقت تو بیٹا خود تنگ آکر پوچھتا تھا مما آپکو غصہ کیوں نہیں آرہا میں آپ کو اتنا زچ کر رہا ہوں۔
پھر منت سماجت کا دور شروع ہوا کہ میں بس دو گھنٹے کے لیے کھیلوں گا۔آپ میرے دوستوں سے بات کر لیں وہ برے نہیں وغیرہ۔
اس دوران ہم نے اسکو ایک گھنٹہ روزانہ ویڈیوز دیکھنے کی آزادی دی۔ڈیسک ٹاپ تو صاحبزادے نے احجاجاً نہیں چلایا کہ گیم کی پرمیشن نہیں۔البتہ لیپ ٹاپ پر کچھ دیر بیٹھنے لگا۔
تین روز کے شدید احتجاج کے بعد گردو پیش کی چیزیں اور انسان نظر آنے لگے۔احمد میرے بڑے بیٹے ہیں اور چھوٹے بھائیوں سے عمر کا فرق زیادہ ہے،اسلیے دوستی کم رہی۔سکرین ٹائم کم ہوا تو بھائیوں،چھوٹے کزنز سے کچھ کھیل شروع ہوئے۔کتاب کہانی سے دلچسپی واجبی ہے،مگر باقی کاموں میں دلچسپی لینے لگے۔مثلاًبال سے کھیلنا،کچن کے کاموں میں مدد کرانا،گھر آنے والوں سے گپ شپ اور سب سے اہم قوت مشاہدہ جو کھو گئی تھی،اسکی واپسی۔شروع میں یہ سب اس نیت سے اچھا کرنے لگے کہ شاید مما کو رحم آجائے،لیکن رفتہ رفتہ اپنی دلچسپی بھی ان چیزوں میں آنے لگی۔اب نمازوں کے لیے اسرار نہیں کرنا پڑتا۔ہوم ورک اور پڑھائی کی از خود فکر کرنے لگے ہیں۔(الحمدللہ پہلے بھی اچھے نمبر لاتے رہے ہیں،لیکن زبردستی بٹھانا پڑتا تھا)۔
اس ساری جدو جہد میں جو بات مجھے اہم لگی آپ سب کے لیے بھی
_جس بری عادت سے چھٹکارا دلانا ہے اسکو بچے کے سامنے برا نہ کہیں۔میں ابھی بھی بیٹے کو یہی کہتی ہوں گیم کھیلنا غلط نہیں،مگر آپ نادانستگی میں گیمرز میں پائی جانے والی بری عادتوں مثلاً برے الفاظ کا استعمال ،کرنے لگے تھے۔
_انٹرنیٹ کو غلط کہنے کی بجائے اسکے مفید پہلو بچے کے ساتھ ڈسکس کریں،اپنی کوئ دلچسپ تحقیق اور کہانی اسکو سنائیں۔
_جب سخت فیصلہ لیں تو ماں اور باپ دونوں کا ایک موقف پر اور متحد رہنا ںہت اہم ہے،احمد میاں نے بھی ابا کو چپکے سے منانے کی کوشش کی تاکہ اماں کے مقابلے میں کوئ مضبوط فریق آئے۔😊۔
_اگر آپ کے ںچے میں اعتدال کی صفت نہیں تو سکرین سے مکمل دوری اس وقت تک رکھیں جب تک واقعی اس میں یہ خوبی آجائے۔
_ اپنا سکرین ٹائم بھی محود کریں۔یا کم از کم بچے کے سامنے کم رکھیں۔بچے کو مسلسل وقت دیں اپ یا والد جب تک کہ وہ خود دوسرے کاموں میں دلچسپی لینے لگے۔
*_ نماز سے جوڑنا لازم۔اور ماں کے لیے بھی صبر اور نماز ہی مددگار ہے ۔اپنے معاملے میں تقویت بھی انھی چیزوں سے حاصل ہوتی ہے
*جزاك اللهُ خیراً کثیراً*
🌹🌹
من قول

Comments