طالبان کو اب تک کی سب سے بڑی فتح حاصل ہوگئی جس کا طالبان سمیت ان کی حامی دنیا بھر کو شدت
سے انتظار تھا۔اس وقت طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات جاری طالبان نے فوری طور پر مسلح کارووائی روک رکھی ہے مذاکرات کے حتمی فیصلہ ہونےتک مجاہدین کوانتظارکا کہہ دیا گیا ہے ۔ذرائع
طالبان نے پورے امارت اسلامیہ افغانستان کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ افغانستان کےتمام باڈرز کا کنٹرول بھی طالبان سنبھال چکے ہیں۔ صرفاس وقت کابل باقی ہے جہاں طالبان نے گھیراؤ کرلیاہے لیکن وہ یہاں جنگ نہیں چاہتے اس
لیے تمام سرکاری اہلکاروں کے لیے عام معافی کا اعلان کردیا گیا ہے اورمذاکرات کےذریعے اب کابل کا کنٹرول حاصل کیاجائے گا۔اس کے بعد طالبان افغانستان کا اقتدارسنبھال لیں گے ۔یادرہے کابل ائیرپورٹ کی سیکورٹی ابھی تک نیٹو اتحادی ترک فوج کےپاس ہےطالبانوں کی مبینہ فتوحات کی بحث الگ لیکن اسوقت پاکستان اور افغانستان کےسیکولرز کی حالت قابل ترس ہے۔ کوئی ان کا پوچھنے والا ہی نہیں، امریکہ و برطانیہ بھی نہیں ۔۔۔۔اِن بیس سالوں میں مغرب نے اپنی مرضی کے مطابق ہمیں ہیرو اور ولن دیے۔انہوں نے جس کو ہیرو کہا ہم نے ہیرو مانا، جس کو ولن کہا اس کو ولن مانا۔ جس کو امن پسند کہاوت ہمارا مسیحا ہوا جس کو بے امنی پسند کہا اسے ہمیں نے دہشت گرد کہا۔ آجانہی دہشت گردوں کے حوالے پورا ملک کر کے امریکہ و نیٹو فرار ہوئے۔ وہ آج بھی چاہیں تو”ہیروز“ کو ولن بنائیں، آپ (روشن خیال) دیکھتے ہی رہ جائیں، منہ سے دو لفظ نکالےتو تنخواہیں تک بند ہو جائیں۔

Comments