ٹیپو سلطان شہیدؒکا مشہور زمانہ مقولہ ہے کہ '' شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے" جس کی عملی مثال کشمیری حریت رہنما سید علی گیلانی ؒتھے جنھوں نے 29ستمبر 1929ء کو کشمیرکے علاقے بانڈی پورا میں آنکھ کھولی ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد گریجوایٹ کی ڈگری اورینٹئل کالج پنجاب یونیورسٹی لاہور سے حاصل کی اور سید مودودیؒ کے قافلے میں شامل ہوکر جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم سے عملی سیاست کا آغاز کیا جو تامرگ جاری رہا آپ یکم ستمبر 2021 ء کو 92 سال کی عمر میں 12 سال مسلسل بھارتی نظر بند ی کے دوران اپنے گھر میں انتقال فرماگئے آپ کے انتقال کی خبر ملتے ہی پوری دنیا کے حریت پسندوں میں غم کی فضا چھا گئی۔
سید علی شاہ گیلانی ؒ ایک فرد اور شخص کا نام ہی نہیں تھا بلکہ آپ ایک عہد تھے جو تمام ہوا ایک تحریک تھے جو اختتام کو پہنچی، آزادی کشمیر کی ایک امید تھے جو ٹوٹ گئی، تند آندھی کے سامنے طوفان، بپھرے طوفان کے آگے آہنی چٹان تھے سحرا میں شجر سایہ دارتھے باطل میں کہرام تھے سید علی گیلانی ؒ کی زندگی امت مسلمہ بلخصوص نوجوانوں کے لیے مشعل راہ ہے کہ زندگی کا بیشتر حصہ جیلوں میں گزارا، دشمن کی ماریں کھائی،بھوک اور پیاس برداشت کی،جوان شہید بیٹوں کے جنازوں کو کندے دیے بیٹیوں کے اجڑتے سہاگ اور ماؤں کی اجڑتی گودیں دیکھی مگر آزادی کشمیر پر سمجھوتہ نہیں کیا اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹے مستقل مزاجی سے ڈٹے رہے آپ ایک زندہ پہاڑ تھے اور پوری زندگی اتنی دیدہ دلیری سے گزاری کہ جب تک زندہ تھے تو دشمن پر لرزہ طاری تو تھا ہی مگر دشمن آپ کے جسد خاکی اور جنازے سے بھی خوف زدہ ہے اور رات کی تاریکی میں گھر والوں پر تشدد کر کے جسد خاکی تحویل میں لے کر کسی نامعلوم مقام پر تدفین کردی گئی ہے جبکہ آپ کی کشمیری قوم کو وصیت تھی کہ میرے جسد خاکی کو مزار شہدا میں دفن کیا جائے مگر کیا کیا جائے تاریخ گواہ ہے کہ باطل کو للکارنے والوں کے جنازے ہمیشہ وقت کے فرعونوں کے دلوں پر ہیبت طاری کیے ہوئے گزرے اور رات کی تاریکیوں میں ہی دفنائے گئے آزادی کے متولوں کی یہی سنت رہی ہے
سید علی شاہ گیلانی ؒ نے کبھی بھی بھارتی حکومت اور پالیسوں کو تسلیم کیا اور نہ ہی کشمیر پر بھارتی قبضے کو تسلیم کیا ہے وہ ہر حال میں بھارتی حکمرانوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی مانند ڈٹے رہے نہ جھکے نہ بکے جب کہ دوسری طرف پاکستان میں کبھی نواز پالیسی، کبھی زرداری پالیسی اور کبھی مشرف فارمولہ کشمیر کاز کو برابر نقصان پہنچاتے رہے جب کہ سید نے اپنے آپ کوایک لمحے کے لیے بھی ہندوستانی تسلیم نہیں کیا بلکہ وہ اپنی تقریروں میں کشمیری قوم سے حلف لیاکرتے تھے کہ ہم
''اسلام کی نسبت سے،قرآن کے تعلق سے
ہم پاکستانی ہیں،پاکستان ہمارا ہے''
یہی وجہ ہے کہ انھوں نے بھارتی پاسپورٹ کو ماننے سے بھی انکار کیا ہوا تھا جس کی وجہ سے ان کو عالمی سفر کرنے مشکلات پیش آتی رہی ہیں جو وہ دیدہ دلیری و فخر سے صرف پاکستان کی محبت میں برداشت کرتے رہے آپ نے اپنی زندگی آزادی کشمیر کے لیے وقف کی ہوئی تھی اس مقصد کے لیے سیاسی پارٹی '' تحریک حریت"بنائی ہوئی تھی جس کے پلیٹ فارم سے آپ کشمیر کا پاکستان سے الحاق چاہتے تھے قائد حریت کی انھیں کوششوں کو سراہتے ہوئے حکومت پاکستان نے 73ویں یوم آزادی کے موقع پر سید علی گیلانی کو پاکستان کا سب سے بڑا سول اعزاز"نشان پاکستان '' سے نوازا جو بھارتی نظر بندی کی وجہ سے خود وصول نہ کر سکے آپ دنیا بھر میں پاکستان کے سفیر کی حثیت سے بھی پہچانے جاتے تھے اور پاکستانی قوم بھی ان کو سب سے بڑا پاکستان سمجھتی تھی آپ معروف عالم فورم ''رابطہ عالم اسلامی ''کے رکن بھی رہے حریت رہنماؤں میں سے رکنیت حاصل کرنے والے آپ پہلے رہنماتھے اس سے پہلے برصغیر سے سید ابوالاعلی مودودی ؒاور سید ابوالحسن ندویؒ جیسی قد آور شخصیات برصغیر سے اس عالمی اسلامی فورم کے رکن رہ چکے ہیں سید علی گیلانی کو علم و ادب سے بھی خوب لگاوتھا آپ شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ؒ کے بہت بڑے مداح تھے آپ دوقومی نظریے اور اسلام کے سپاہی تھے اپنی تقریروں میں اکثر کہا کرتے تھے کہ''یہاں نیشنلزم نہیں چلے گا،کیمونزم نہیں چلے گا،اشتراکیت نہیں چلے گی،سرمایہ دارانہ نظام نہیں چلے گا صرف اور صرف اسلام چلے گا آپ نے زندگی کا بیشتر حصہ بھارتی جیلوں میں گزارہ ہے جس کو کتابی شکل میں لکھا جو ''روداد قفس "کے نام سے شائع ہوئی جس میں آپ بعدازمرگ خواہش کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ" جب قدرت کی رحمت کاملہ سے ہم دریائیے جہلم کی اچھلتی اور اٹھلاتی لہروں کی طرح پاکستان کے وجود کے ساتھ ہم آغوش ہوجائیں تو ہماری قبروں پر آکر ہمیں یہ مژدہ پرور سنا دینا تاکہ عالم برزخ میں ہماری ارواح سکون وطمانیت سے ہمکنار ہوجائیں ''


Comments