ابھی فجر پڑھ کر گھر داخل ہی ہوا تھا تو ماں جی نے گزشتہ رات گاٶں میں پکڑے گٸے چور کی روداد سنانی شروع کردی ابھی وہ ختم نہ ہوٸی تھی اتنے میں موباٸل پر کالیں، واٹس چلایا تو پیغامات کی ایک لمبی لاٸن لگی ہوٸی تھی ہر کوٸی پہلے اطلاع دینے کچھ حد تک شریک جرم ثابت کرنے کی دوڑ میں لگا ہوا تھا اس کی بھی ایک خاص وجہ تھی ہوا کچھ یوں کہ چور بھاگنے کی ناکام کوشش کے دوران بھاگتے بھاگتے ہمارے گھر کے پچھلے حصے میں چھپ گیا تھا اور گھر کے اگلے حصے میں کرایے دار نیند کے مزے لیتا رہا ان کی شکایت کرنا بھی اب واجب ہوچکی تھی۔ویسے بھی مزدور بندہ سارا دن محنت مزدوری کرکے شام کو تھکا ہارا جب بستر پر لیٹتا تو وہ دنیا سے بے نیاز ہو کر ہی سوتا ہے کیونکہ نہ تو اس کو دولت کے لٹ جانے کا ڈر ہوتا ہے اور نہ اس کے پیٹ میں بد ہضمی ہوتی ہے کہ رات کو کروٹیں بدلتا پھرے مزدور تو اللہ کا دوست ہوتا ہے اللہ پھر اپنے دوستوں کے آرام و سکون کامکمل خیال رکھتا ہے ۔مگر اب اس کی کوئی تاویل کسی کام کی نہیں اسے اب نااہل، نکما، نکھٹو ہی کہا جائے گا قسمت کا مارا بچارا ہے جلاہا(شہروں میں جسے انصاری کہتے ہیں)
اس گرفتاری کے بعد گاوں میں خوشی کا سما ہے کیونکہ الوداع ہوتی سردیوں کی لمبی راتوں میں کئی دوکانوں کا ممکن حد تک مال ہلکا کیا جاچکا تھا اور چور ایسا بے خوف وخطر تھا کہ رات کے پچھلے پہر آتا دوکان کے تالے کو چابی لگاتا جیسے رات کو تالا خود لگا کر گیا ہو اگر تالا کھل جاتا تو ٹھیک ورنہ چھت میں سوراخ کرتا اور اپنا کام بےخوف و خطر کر کے چلتا بنتا۔جس رات گاؤں میں کوئی جھگاڑ نہ لگتا توجناب کھیتوں کا رخ کرتے وہاں تیار شدہ ہلدی اٹھاتا اور مزے کرتا خیر چوری کی وارداتیں تو کبھی کبھار پہلے بھی ہوتی رہتی تھی مگر اس چور کی بے خوفی اور جرات مندانہ انداز میں واردات کرنے کے طریقے سے اہل دیہہ کافی پریشان تھے مگر گزشتہ رات وادات کے دوران اہل دیہہ کو چور کی موجودگی کا پتہ چل گیا اور پھر چور دھر لیا گیا اور تقریبا ہرکوٸی فیسبک پر شٸیرکر رہا ہے واٹس اپ پر سٹیٹس لگا رہاہے اور چور کی گرفتاری میں کسی نہ کسی طرح اپنا اہم کردار ثابت کررہاہے۔ کرتے بھی کیوں نا بدنام زمانہ چور کو پکڑنا کوئی آسان کام تھوڑی تھا وہ بھی عین اسی حالت میں جب وہ تعاقب کرنے والوں پر سیدھی فائرنگ کررہا تھا بیشک اہل دیہہ اس کامیابی پر داد کے مستحق ہیں
رات کو پورا گاوں بیدار تو تھا ہی اوپر سے اتنی بڑی کامیابی بھی ملی تھی سوچا چلو آج تہجد و شکرانے کے نوافل پڑھ کر ہی سوتے ہیں اور ساتھ ہی 73 سال سے ملک و قوم پر مسلط چوروں اور ڈاکووںکی کامیابی کے لیے دعا بھی کرتے ہیں کوئی سابق چوروں اور لٹیروں کی کامیابی پر امین کہہ رہا تھاکوئی موجودہ نااہلوں اور ٹھگوں کی کامیابی پر ثم امین کا نعرہ لگا رہا ہوگا۔اور یوں اگلی صبح پر نور کا آغاز ہوچکا ہے۔۔۔۔۔۔۔ چھوٹے چور پولیس کی تحویل میں بڑھے چور عوام کی دعاٶں سے اقتدار کے اعوانوں میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Comments